پاکستان میں الیکٹرک بائیکس تیزی سے مقبول کیوں ہونے لگیں؟

پاکستان میں مہنگائی، پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں اور توانائی بحران نے شہریوں کے ٹرانسپورٹ کے انتخاب کو مکمل طور پر بدلنا شروع کر دیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں عوام کی جانب سے پیٹرول موٹر سائیکلوں کی بجائے الیکٹرک بائیکس اور سکوٹیز کی خریداری کے رجحان میں تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق مارچ اور اپریل 2026 کے دوران پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جس کے فوراً بعد ای بائیکس کی فروخت میں تیزی دیکھنے میں آئی۔ اس رجحان کو عالمی صورتحال نے بھی متاثر کیا، کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ میں جنگ نے تیل کی قیمتوں کو مزید بڑھا دیا، جس کا براہِ راست اثر پاکستان جیسے درآمدی معیشت والے ممالک پر پڑا۔

خیال رہے کہ پاکستان میں دو پہیوں والی موٹر سائیکل کو سب سے عام سواری سمجھا جاتا ہے۔ مالی سال 2025 میں ملک میں 15 لاکھ سے زائد موٹر سائیکلیں فروخت ہوئیں، مگر اب صورتحال بدل رہی ہے۔ پہلے صارفین کی اکثریت پیٹرول بائیک کو ترجیح دیتی تھی، لیکن اب تیزی سے الیکٹرک بائیک کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔ ای وی کمپنی “ایوی” کے ڈائریکٹر سیلز و مارکیٹنگ کے مطابق مارچ 2026 میں ان کی کمپنی نے 9,800 یونٹس فروخت کیے، جبکہ جنگ اور تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پہلے یہ تعداد تقریباً 5,000 یونٹس ماہانہ تھی۔ ان کے مطابق پہلے صرف 30 فیصد صارفین پیٹرول سے الیکٹرک بائیک پر منتقل ہوتے تھے، لیکن اب یہ شرح بڑھ کر 80 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

اسی طرح الیکٹرک بائیکس بنانے والی کمپنی “یاڈیا” کے سی ای او کے مطابق پاکستان میں ای بائیکس کی فروخت پہلی بار اس سطح پر پہنچی ہے جہاں مارکیٹ میں حقیقی دلچسپی دیکھی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق مالی سال 2025 میں الیکٹرک بائیکس اور سکوٹرز کا مجموعی مارکیٹ سائز تقریباً 1 لاکھ 6 ہزار یونٹس تھا، اور توقع ہے کہ یہ تعداد آنے والے سال میں 3 سے 4 لاکھ تک جا سکتی ہے۔

پاکستان موٹر سائیکل اسمبلرز ایسوسی ایشن کے سابق سربراہ کے مطابق جب سے پیٹرول مہنگا ہوا ہے، صارفین فوری طور پر متبادل تلاش کر رہے ہیں اور اسی وجہ سے ای بائیکس کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت کی جانب سے بھی ای وی پالیسی کے تحت گریڈ 16 تک کے سرکاری ملازمین کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ اس رجحان کو مزید فروغ دیا جا سکے۔

معاشی ماہرین کے مطابق ای بائیکس کی سب سے بڑی کشش اس کی کم آپریٹنگ لاگت ہے۔ ماہر معیشت عاطف میاں کے مطابق اگر ای بائیکس کو سولر یا سستی بجلی سے چارج کیا جائے تو فی لیٹر پیٹرول کے برابر لاگت تقریباً 30 روپے تک آ سکتی ہے۔ ان کے مطابق:ایک پیٹرول موٹر سائیکل 1 لیٹر میں تقریباً 60 کلومیٹر چلتی ہےجبکہ ایک ای بائیک 2 کلو واٹ آور میں تقریباً 60 کلومیٹر کا سفر کر لیتی ہےاور اس کی لاگت نہایت کم ہو جاتی ہے، بعض اندازوں کے مطابق اس کی لاگت صرف چند سینٹ کے برابر رہ جاتی ہے اسی بنیاد پر ماہرین الیکٹرک بائیکس کو ایک “معاشی متبادل انقلاب” قرار دے رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ای بائیکس کا رجحان پاکستان میں بڑھتے ہوئے سولر انقلاب سے بھی جڑا ہوا ہے۔ جیسے گھروں میں سولر پینلز بجلی کے مہنگے بلوں کا حل بن رہے ہیں، ویسے ہی ای بائیکس پیٹرول پر انحصار کم کر سکتی ہیں۔ اس سے نہ صرف ریاستی درآمدی بل پر دباؤ کم ہوگا بلکہ شہریوں کے اخراجات بھی کمی واقع ہو گی۔ تاہم معاشی تجزیہ کاروں کے بقول اگرچہ پاکستان میں الیکٹرک بائیکس کی طلب میں تیزی آئی ہے، لیکن مارکیٹ کو کئی مسائل کا سامنا ہے۔ زیادہ تر ای بائیکس چین سے درآمد کی جا رہی ہیں، جس کی وجہ سے لوکل پروڈکشن نہ ہونے کے برابر ہے۔ کئی ڈیلرز کے پاس سٹاک کی کمی بھی سامنے آئی ہے کیونکہ بڑھتی مانگ کے مطابق سپلائی برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ماہرین کے مطابق الیکٹرک بائیکس کی ترقی میں قیمتیں بھی ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ زیادہ تر صارفین 1 لاکھ 60 ہزار سے 2 لاکھ روپے کے درمیان بائیک خریدنا چاہتے ہیں، جبکہ بہتر بیٹری اور موٹر والے ماڈلز اس سے مہنگے ہوتے ہیں۔تاہم ماہرین یہ مشورہ دیتے ہیں کہ صارفین کو الیکٹرک بائیک کی خریداری سے پہلے اپنی روزمرہ ضرورت، چارجنگ سہولت اور سڑکوں کی حالت کو ضرور دیکھنا چاہیے، کیونکہ کمزور انفراسٹرکچر پر ہر ماڈل موزوں نہیں ہوتا۔

Back to top button