حمزہ شہباز اور مریم نواز گروپ آمنے سامنے کیوں آ گئے؟

پاکستان مسلم لیگ (ن) میں قیادت کی نئی نسل کو آگے لانے کا عمل جتنا تیز ہو رہا ہے، اتنا ہی پارٹی کے اندرونی اختلافات بھی نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے بیٹے علی ڈار کی لاہور یا پنجاب کے کسی بھی حلقے سے الیکشن لڑنے کی خواہش نے پارٹی کے اندر ایک نئی سیاسی کشمکش کو جنم دے دیا ہے اور پارٹ میں موجود مریم نواز اورحمزہ شہباز گروپ آمنے سامنے آ گئے ہیں اور دونوں کیمپس نے اس حوالے سے اپنی کوششیں شروع کر دی ہیں۔
مبصرین کے مطابق مسلم لیگ ن میں پہلے بھی نواز شریف اور شہباز شریف کے درمیان مبینہ اختلافات کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں، تاہم دونوں رہنماؤں نے ہمیشہ ان کی تردید کی ہے لیکن اب پارٹی کا عملی کنٹرول بتدریج نئی نسل کی طرف منتقل ہو رہا ہے، جہاں مریم نواز پارٹی کی چیف آرگنائزر اور سینئر نائب صدر ہیں، جبکہ حمزہ شہباز مرکزی نائب صدر کے طور پر فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق نچلی سطح پر اب پارٹی واضح طور پر دو دھڑوں میں تقسیم دکھائی دیتی ہے۔ ایک گروپ مریم نواز کے گرد اور دوسرا حمزہ شہباز کے گرد سرگرم ہے، جس نے پارٹی کے اندر تنظیمی فیصلوں کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق دونوں گروپوں میں حالیہ اختلافات اس وقت شدت اختیار کر گئے جب علی ڈار نے عملی سیاست میں حصہ لینے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب کے سکی بھی حلقے سے الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا، مریم نواز نے علی ڈار کے اس فیصلے کی بھرپور تائید کی کیونکہ مریم نواز خود بھی علی ڈار کو لاہور یا پنجاب کے کسی حلقے سے الیکشن لڑوانے کی خواہاں ہیں، اور اس حوالے سے مشاورت جاری ہے۔ ان کے نزدیک نئی نسل کو آگے لانا پارٹی کی ضرورت ہے اور علی ڈار ایک مضبوط سیاسی امیدوار ثابت ہو سکتے ہیں۔اس کے برعکس حمزہ شہباز شریف اس فیصلے سے اتفاق نہیں رکھتے۔ ان کے مطابق اگر علی ڈار لاہور سے سیاست میں آتے ہیں تو اس کا براہِ راست اثر پنجاب کی قیادت کی اندرونی سیاست پر پڑ سکتا ہے کیونکہ اس طرح علی ڈار بھی مستقبل میں وزیراعلیٰ پنجاب کی دوڑ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ حمزہ شہبازنے اس صورتحال کے پیش نظر علی ڈار کی مخالفت شروع کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق حمزہ شہباز نے اس معاملے پر اپنی رائے وزیراعظم شہباز شریف تک بھی پہنچائی ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ علی ڈار کو پنجاب میں عملی سیاست سے دور رکھا جائے۔اسی تناظر میں حمزہ شہباز پارٹی کے اندر زیادہ فعال ہو گئے ہیں۔ وہ ناراض کارکنوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں اور پارٹی سطح پر اپنی موجودگی مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔مسلم لیگ ن کے اندر موجود ذرائع کے مطابق اب صورتحال یہ ہے کہ کارکنان بھی غیر رسمی طور پر گروپس میں تقسیم ہو چکے ہیں۔ جن کا تعلق جس گروپ سے ہوتا ہے، انہیں اسی بنیاد پر مواقع اور رسائی ملتی ہے۔یہی اندرونی تقسیم پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو بھی متاثر کر رہی ہے اور فیصلے زیادہ سیاسی اور کم ادارہ جاتی ہوتے جا رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق علی ڈار کا معاملہ بظاہر ایک فرد کا انتخابی فیصلہ نظر آتا ہے، مگر حقیقت میں یہ مسلم لیگ ن کے اندر طاقت کی نئی صف بندی کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ مریم نواز اور حمزہ شہباز کے درمیان بڑھتی سیاسی مسابقت آنے والے دنوں میں پنجاب کی سیاست اور پارٹی کے اندرونی توازن کو مزید متاثر کر سکتی ہے۔
