ریڈ وارنٹس جاری: ملک ریاض کے خلاف گھیرا مزید تنگ ہو گیا

پاکستان میں ریئل سٹیٹ کے بڑے نام اور بحریہ ٹاؤن کے بانی ملک ریاض حسین کے گرد گھیرا مزید تنگ ہوتا دکھائی دے رہا ہے، وجہ یہ ہے کہ پاکستانی حکام نے ان کے ریڈ وارنٹس جاری ہونے کا دعویٰ کر دیا ہے۔ یاد ریے کہ انہیں مفرور قرار دیا جا چکا ہے اور وہ گزشتہ چند برس سے متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں مقیم ہیں، جہاں وہ نئے تعمیراتی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔

قومی احتساب بیورو کے چیئرمین نے دعویٰ کیا ہے کہ قومی احتساب بیورو نے انٹرپول کے ذریعے ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض ملک کے خلاف ریڈ نوٹس جاری کروا دئیے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اقدام ریئل سٹیٹ کے شعبے میں کرپشن کے مقدمات کی بنیاد پر اٹھایا گیا ہے۔ تاہم عالمی پولیس تنظیم انٹرپول کی جانب سے اس دعوے پر تاحال کوئی باضابطہ تصدیق یا تبصرہ سامنے نہیں آیا، اور دستیاب فہرستوں میں بھی ان کے نام شامل نہیں۔

نیب کے ڈی جی آپریشنز کے مطابق ملک ریاض کے خلاف 900 ارب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں، جو اس کیس کو ملک کی تاریخ کے بڑے مالیاتی سکینڈلز میں شامل کرتی ہیں۔ انٹرپول کے مطابق ریڈ نوٹس دراصل دنیا بھر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ایک درخواست ہوتی ہے جس کے ذریعے کسی مطلوب شخص کو تلاش کرنے، عارضی طور پر گرفتار کرنے یا اس کی حوالگی کے لیے کہا جاتا ہے۔ تاہم یہ کوئی بین الاقوامی وارنٹِ گرفتاری نہیں ہوتا بلکہ ہر ملک اپنی قانونی حدود کے مطابق فیصلہ کرتا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق ریڈ نوٹس کے باوجود کسی بھی ملزم کی گرفتاری اور حوالگی کا دارومدار اس ملک کی عدالتوں اور حکومت پر ہوتا ہے جہاں وہ مقیم ہو۔ چونکہ ملک ریاض اس وقت دبئی میں موجود ہیں، اس لیے ان کی پاکستان واپسی کا انحصار متحدہ عرب امارات کی حکومت اور عدالتوں کے فیصلوں پر ہوگا۔ بین الاقوامی تعلقات بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اور اگر دو ممالک کے درمیان سفارتی ہم آہنگی کمزور ہو تو حوالگی کا عمل مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔

نیب ترجمان کے مطابق ملک ریاض کو القادر ٹرسٹ کیس میں بھی مفرور قرار دیا جا چکا ہے، جو ایک ہائی پروفائل مقدمہ ہے۔ اسی کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔ نیب کا الزام ہے کہ القادر یونیورسٹی کی زمین کا معاملہ ایک مبینہ خفیہ معاہدے کا نتیجہ تھا، جس میں 190 ملین پاؤنڈ کی رقم، جو برطانیہ سے پاکستان منتقل ہوئی، اسے بحریہ ٹاؤن کراچی کیس میں واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کیا گیا۔ ملک ریاض اور ان کی کمپنی پر کراچی، راولپنڈی اور نیو مری میں سرکاری و نجی اراضی پر قبضے جیسے الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں، جن کی وہ ماضی میں تردید کر چکے ہیں۔ اگست 2025 میں بحریہ ٹاؤن کی پراپرٹیز کی نیلامی بھی کی گئی، جس سے ان کے کاروباری معاملات پر مزید دباؤ بڑھا۔

اگرچہ سرکاری طور پر یہ نہیں کہا گیا کہ بحریہ ٹاؤن مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، تاہم حالیہ قانونی کارروائیوں، جائیدادوں کی نیلامی اور مسلسل مقدمات نے کمپنی کی ساکھ اور آپریشنز کو شدید متاثر کیا ہے۔ ناقدین کے مطابق ملک ریاض کی پاکستان میں عدم موجودگی اور دبئی میں قیام نے ان کے کاروباری نیٹ ورک کو مزید کمزور کیا ہے، جبکہ وہ بیرون ملک اپنے منصوبوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، جن میں دبئی ساؤتھ میں ایک بڑا رہائشی و کمرشل منصوبہ بھی شامل ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اگر انٹرپول کی جانب سے ریڈ نوٹس کی باضابطہ تصدیق ہو جاتی ہے تو ملک ریاض کے لیے عالمی سطح پر سفر محدود ہو سکتا ہے اور بینکنگ و مالیاتی معاملات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ تاہم ان کی حوالگی اب بھی ایک پیچیدہ اور طویل قانونی عمل رہے گا، اور اس کا انحصار بین الاقوامی تعاون اور متعلقہ ممالک کی پالیسیوں پر ہوگا۔

Back to top button