’ایک ڈالر میں 18 لاکھ ایرانی ریال‘ پاکستانی برباد ہو گئے

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے ایک بار پھر عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے، مگر سب سے بڑا جھٹکا ایران کو اس وقت لگا جب 29 اریل کے روز ایرانی قومی کرنسی ریال تاریخ کی کم ترین سطح پر جا پہنچی۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی ریال کی قیمت 18 لاکھ تک گر چکی ہے۔جو معاشی بحران کی شدت کا واضح ثبوت ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق ایرانی ریال کی قیمت میں یہ گراوٹ اچانک نہیں آئی بلکہ یہ مسلسل امریکی دباؤ کا نتیجہ ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی، پابندیاں، اور حالیہ جنگی صورتحال نے ایران کی پہلے سے کمزور معیشت کو مزید نقصان پہنچایا۔ جنگ کے دوران غیر ملکی کرنسی کی طلب میں اضافہ ہوا، جس کی وجہ سے ایرانی کرنسی کی قدر میں تاریخی کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے معاشی ماہرین کے مطابق ریال کی قدر میں حالیہ کمی ایران میں مہنگائی کے طوفان کو مزید تیز کر سکتی ہے۔ ایران پہلے ہی خوراک، ادویات، الیکٹرانکس اور خام مال کی درآمد پر انحصار کرتا ہے، اور ڈالر مہنگا ہونے کا براہ راست اثر عوام کی جیب پر پڑتا ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق مہنگائی کی شرح 65 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے، اور خدشہ ہے کہ یہ مزید بڑھے گی۔

اس صورتحال کا ایک پہلو پاکستان سے بھی جڑا ہوا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے سوشل میڈیا پر یہ بیانیہ زور پکڑ رہا تھا کہ ایرانی ریال خرید کر مستقبل میں کروڑ پتی بنا جا سکتا ہے۔ کئی افراد نے اس امید پر سرمایہ کاری بھی کی، مگر ایرانی ریال کی قیمت میں حالیہ گراوٹ نے پاکستانیوں کے کروڑ پتی بننے کے خوابوں کو چکنا چور کر دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کمزور ہوتی ایرانی کرنسی میں سرمایہ کاری اب پاکستانیوں کیلئے ایک انتہائی خطرناک جوا ثابت ہو رہی ہے۔ معاشی ماہرین اس رجحان کو نہایت تشویش کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی کمزور کرنسی میں سرمایہ کاری اس وقت تک فائدہ مند نہیں ہو سکتی جب تک اس ملک کی معیشت میں بنیادی استحکام، سیاسی بہتری اور بیرونی سرمایہ کاری کے واضح آثار موجود نہ ہوں۔  ایرانی ریال کی مسلسل گراوٹ دراصل بلند مہنگائی، بین الاقوامی پابندیوں، کمزور برآمدات اور زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کا نتیجہ ہے، جس کے باعث اس کی قدر میں بہتری کے امکانات محدود ہیں۔کچھ ماہرین یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ کرنسی مارکیٹ میں سرمایہ کاری عام افراد کیلئے انتہائی پیچیدہ اور رسک سے بھرپور ہوتی ہے، جہاں معمولی اتار چڑھاؤ بھی بڑے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق “سستی کرنسی” ہمیشہ “منافع بخش سرمایہ کاری” نہیں ہوتی، بلکہ اکثر یہ معاشی کمزوری کی علامت ثابت ہوتی ہے۔مختصراً، ایرانی ریال کی قدر میں گراوٹ صرف ایک معاشی خبر نہیں بلکہ ایک وارننگ ہے،خاص طور پر ان لوگوں کیلئے جو بغیر تحقیق کے “جلدی امیر بننے” کے خواب دیکھتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی معیشت کو درپیش مسائل صرف کرنسی تک محدود نہیں۔ جنگ کے باعث انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا، جبکہ امریکی ناکہ بندی اور پابندیوں نے تیل اور پیٹروکیمیکل برآمدات کو متاثر کیاجو ملک کیلئے زرمبادلہ کا بڑا ذریعہ تھیں۔ نتیجتاً، نہ صرف آمدنی میں کمی آئی بلکہ اب ایرانی معیشت کی بحالی بھی مشکل ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ بحران ہمیں ایک اہم سبق دیتا ہے کہ کسی بھی ملک کی قومی کرنسی کی قدر صرف مارکیٹ کا کھیل نہیں بلکہ سیاسی استحکام، عالمی تعلقات اور معاشی پالیسیوں کا مجموعی نتیجہ ہوتی ہے۔ ناقدین کے بقول ریال کی قدر میں کمی کی وجہ سے ایران میں بڑھتی مہنگائی اور بے روزگاری نے عوامی بے چینی کو بھی جنم دیا ہے، اور ملک میں حکومت مخالف مظاہروں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر حالات یہی رہے تو یہ بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔

Back to top button