پی ٹی آئی کی عوامی مقبولیت کا غبارہ پنکچر کیسے ہو گیا؟

عوامی مقبولیت میں کمی، باہمی اختلافات میں شدت اور پارٹی پر قبضے کی جاری جنگ کی وجہ سے پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست کا دھڑن تختہ ہو چکا ہے، دھوم دھڑکے سے شروع کی جانے والی رہائی فورس حقیقت میں”رسوائی فورس”بن چکی ہے، ناقدین کے مطابق تحریک انصاف کی سٹریٹ موومنٹ نیٹ فلیکس کی سیریز کی شکل اختیار کر چکی ہے جس کے بر سیزن کے بعد اگلے سیزن بارے نیا ٹریلر جاری کیا جاتا ہے لیکن فلم ریلیز نہیں ہوتی، ہر چند ماہ بعد ایک نیا اعلان، ایک نیا ٹریلر اور ایک نئی اسٹریٹ موومنٹ سامنے آتی ہے، مگر عملی طور پر کوئی بڑی اور فیصلہ کن “فلم” یعنی حقیقی احتجاجی تحریک سامنے نہیں آ پاتی۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے کشمیر اور لاہور میں جلسوں کے اعلانات کے بعد اب تازہ پیشرفت  کے مطابق پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما احمد خان نیازی نے 8 مئی کو ٹانک سے ایک ریلی شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جو مختلف اضلاع سے ہوتی ہوئی پشاور پہنچے گی اور بعد ازاں صوابی میں اس کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ احمد خان نیازی، جو عمران خان کے قریبی رشتہ دار اور سابق دورِ حکومت میں کوآرڈینیٹر رہ چکے ہیں، اب پارٹی میں کسی باضابطہ عہدے کے بغیر متحرک دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم پارٹی کے اندرونی حلقوں کے مطابق احمد خان نیازی کے اس اعلان کو مرکزی قیادت کی مکمل حمایت حاصل نہیں، اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سمیت اہم رہنما اس نوعیت کی متوازی تحریکوں کو “اون” کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آتے۔ جس کی وجہ سے اس ریلی کے بھی ٹھس پٹاخہ ثابت ہونا یقینی ہے۔
ناقدین کے مطابق پی ٹی آئی کے اندر اور باہر یہ تاثر بھی گہرا ہوتا جارہا ہے کہ تحریک انصاف کی احتجاجی کالز ایک تسلسل کے ساتھ سامنے آتی ہیں مگر ان کا انجام اکثر غیر واضح یا غیر نتیجہ خیز ہوتا ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے “اڈیالہ چلو” جیسے نعروں اور فائنل کالز کے باوجود بڑی عوامی تحریک چلانے میں ناکامی نے پارٹی کارکنوں میں بھی مایوسی پیدا کر دی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پی ٹی آئی کو سب سے بڑا مسئلہ اپنے بیانیے پر اعتماد کے بحران کا سامنا ہے۔ ایک طرف “حقیقی آزادی” اور “نظام کی تبدیلی” جیسے بڑے نعرے ہیں، جبکہ دوسری طرف قیادت کی سطح پر اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی خبریں اور سیاسی حکمت عملی میں لچک نے نظریاتی کارکنوں کو کنفیوز کر رکھا ہے۔ اسی طرح بار بار دی جانے والی “فائنل کالز” اور احتجاجی تاریخوں کے بعد کوئی بڑا نتیجہ نہ نکلنے سے تحریک کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ کارکنوں کے مطابق ہر بار بہتری کی امیدلگا کر وہ مظاہروں کا حصہ بنتے ہیں تاہم عین وقت پر پارٹی قائدین انھیں میدان میں چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں۔ ایسے میں پارٹی کے اندر گروپ بندی اور رہنماؤں کے درمیان اختلافات بھی کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ بعض حلقوں کے مطابق قیادت کی توجہ زیادہ تر بڑے رہنماؤں کی قانونی مشکلات اور رہائی پر مرکوز ہے، جبکہ عام کارکنوں کے مسائل پسِ پشت چلے گئے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے “رسوائی فورس” جیسے طنزیہ الفاظ جنم لیتے ہیں، یعنی وہ تحریک جو نعرے تو انقلابی دیتی ہے مگر عملی طور پر کارکنوں کے لیے مشکلات میں اضافہ کرتی ہے۔

مبصرین کے مطابق اصل بحران ان ہزاروں کارکنوں کا ہے جو مختلف مقدمات میں گرفتار ہیں یا سزائیں کاٹ رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق سینکڑوں کارکن جیلوں میں ہیں جبکہ ان کے اہل خانہ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ بہت سے گھرانے واحد کفیل سے محروم ہو چکے ہیں، بچے تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہیں اور خواتین گھریلو محنت یا کم اجرت کاموں پر گزارا کر رہی ہیں۔ناقدین کے بقول جہاں بڑے بڑے پی ٹی آئی رہنما ضمانتیں کروا کر یا سیاسی راستوں سے باہر آ چکے ہیں، وہیں عام کارکنان آج بھی قانونی اور معاشی مشکلات میں پھنسے نظر آتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی کی سٹریٹ موومنٹ اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں اسے صرف نعرے نہیں بلکہ عملی تنظیم سازی، واضح حکمت عملی اور کارکنوں کے اعتماد کی بحالی کی ضرورت ہے۔ بصورت دیگر پارٹی احتجاج کا ہر نیا “ٹریلر” صرف سیاسی بحث تو پیدا کرے گا، مگر کبھی بھی کوئی حقیقی احتجاجی“فلم” سامنے نہیں آئے گی۔

Back to top button