امریکا نے ایران کی سیزفائر کی نئی پیشکش مسترد کر دی

 

 

 

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی محاذ پر ایک اور پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں جنگ کے خاتمے کی ایک نئی کوشش بھی کامیاب نہ ہو سکی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے ایران کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی نئی تجویز مسترد کر دی ہے، جس کےبعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہےکہ جب تک ایران اپنے جوہری پروگرام پر باضابطہ معاہدہ نہیں کرتا، اس پر عائد بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی۔

امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بحری ناکہ بندی بمباری کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہو رہی ہے اور ایران کو اس کے اثرات مزید بھگتنا ہوں گے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران مذاکرات کا خواہاں ہے،لیکن امریکا کسی بھی صورت اسے جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے گا۔

امریکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق ایران نے پاکستان کے ذریعے ایک نئی تجویز پیش کی تھی، جس میں آبنائے ہرمز اور جوہری پروگرام سے متعلق کچھ شرائط شامل تھیں۔اس منصوبے میں ایران نے آبنائے ہرمز میں اپنی سخت پالیسی میں نرمی اور امریکا کی جانب سے بحری پابندیوں میں کمی کی بات کی تھی،تاہم امریکا نے اس پیشکش کو مسترد کردیا۔

ایران جنگ پر امریکہ کے 25 ارب ڈالر خرچ ہوئے : پینٹاگون

دوسری جانب ایرانی وزیرِ تیل محسن پاک‌ نژاد نےکہا ہےکہ امریکی پابندیوں کے باوجود ملک میں ایندھن کی فراہمی اور تقسیم کا نظام مستحکم ہے۔

 

Back to top button