مئیر کراچی کا دورہ لاہور ناقدین کے نشانے پر کیوں؟

پاکستان میں کراچی اور لاہور کا موازنہ ایک مستقل موضوع بحث بن چکا ہے۔ سوشل میڈیا سے لے کر ٹی وی ٹاک شوز تک، یہ سوال بار بار اٹھتا رہتا ہے کہ “کراچی کب لاہور بنے گا؟” مگر حالیہ دنوں اس بحث نے اس وقت ایک نیا رخ اختیار کر لیا جب کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب اچانک لرننگ دورے پر لاہور پہنچ گئے۔ ذرائع کے مطابق مرتضیٰ وہاب کا یہ دورہ محض رسمی نہیں تھا بلکہ ایک عملی اقدام کے طور پر سامنے آیا، جہاں انہوں نے لاہور کے پانی اور سیوریج نظام کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ پنجاب کے وزیر ہاؤسنگ بلال یاسین بھی موجود تھے، جس نے اس دورے کو مزید سیاسی اہمیت دے دی۔ ابتدائی طور پر سوشل میڈیا پر اس دورے کو طنز اور میمز کا نشانہ بنایا گیا، مگر جلد ہی واضح ہوا کہ یہ اقدام دراصل دو بڑے شہروں کے درمیان تجربات کے تبادلے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور واسا لاہور کے درمیان رابطے کا آغاز ایک خط سے ہوا، جس کے بعد یہ دورہ ترتیب دیا گیا۔

مبصرین کے مطابق مئیر کراچی کا لاہور کا یہ دورہ اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان میں پہلی بار دو مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والی قیادت نے شہری مسائل کے حل کے لیے ایک پلیٹ فارم پر بیٹھنے کی کوشش کی ہے۔ یہ پیش رفت اس سوچ کی عکاسی کرتی ہے کہ گورننس کو سیاست سے بالاتر ہو کر دیکھا جائے۔ اگر یہ رجحان برقرار رہتا ہے تو یہ ملک میں شہری انتظامیہ کے نئے ماڈل کی بنیاد بن سکتا ہے۔

کراچی اور لاہور کے مسائل بظاہر ایک جیسے نظر آتے ہیں، جیسے پانی کی قلت، سیوریج کا نظام، ٹریفک کا دباؤ اور بڑھتی ہوئی آبادی، مگر حقیقت میں دونوں شہروں کے چیلنجز مختلف نوعیت کے ہیں۔ کراچی ایک میگا سٹی ہے جہاں آبادی بہت زیادہ ہے اور پانی کی فراہمی کے لیے دور دراز ذرائع پر انحصار کیا جاتا ہے، جس سے مسائل مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس لاہور میں انفراسٹرکچر نسبتاً بہتر ہے اور سروس ڈیلیوری میں ٹیکنالوجی کا استعمال نمایاں ہے، اگرچہ وہاں بھی اب بڑھتی آبادی اور ماحولیاتی دباؤ ایک چیلنج بن کر سامنے آتے دکھائی دیتے ہیں۔

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بھی اس فرق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ لاہور میں ترقی اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے سیکھنے کے بہت مواقع ہیں، مگر کراچی کے مسائل اپنی نوعیت میں مختلف ہیں، اس لیے وہاں الگ حکمت عملی درکار ہے۔ ان کا یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ دورہ محض علامتی نہیں بلکہ عملی طور ہر سیکھنے کی ایک کوشش ہے۔

کچھ ناقدین اس دورے کو سیاسی نمائشی قدم قرار دیتے ہیں، تاہم اگر اس کے نتیجے میں دونوں شہروں کے درمیان مستقل تعاون، معاہدے یا “سسٹر سٹی” جیسے اقدامات سامنے آتے ہیں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے۔ دنیا بھر میں بڑے شہر ایک دوسرے سے سیکھ کر ہی ترقی کرتے ہیں، اور یہی ماڈل پاکستان میں بھی اپنایا جا سکتا ہے۔میڈیا اور سوشل میڈیا کا ردعمل بھی اس معاملے میں اہم ہے۔ ایک طرف عوام طنزیہ تبصروں کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں، تو دوسری جانب صحافی سخت سوالات اٹھا کر اس عمل کی شفافیت کو جانچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بلال یاسین کا یہ کہنا کہ “سخت سوالات بند کیے جائیں” اس بات کی علامت ہے کہ ایسے اقدامات کے ساتھ ہمیشہ ایک سیاسی دباؤ اور حساسیت بھی جڑی ہوتی ہے۔ تاہم مبصرین کے بقول مرتضیٰ وہاب کا لاہور کا دورہ آنے والے وقت میں ایک نئی سوچ کی نمائندگی کر سکتا ہے، جہاں شہر ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے کے بجائے سیکھنے اور تعاون کی راہ اختیار کریں۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ممکن ہے کہ مستقبل میں “کراچی بمقابلہ لاہور” کی بحث ختم ہو کر “کراچی اور لاہور ساتھ ساتھ” میں بدل جائے۔

Back to top button