ایران جنگ پر امریکہ کے 25 ارب ڈالر خرچ ہوئے : پینٹاگون

پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے امریکی ایوانِ نمائندگان کو بتایا ہےکہ ایران کے ساتھ جنگ پر اب تک تقریباً 25 ارب ڈالر خرچ ہوچکے ہیں۔
قائم مقام انڈر سیکرٹری برائے مالیات جولز ہرسٹ سوم نے ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے اجلاس کے دوران قانون سازوں کو بتایا کہ ایران جنگ میں خرچ ہونے والی اس رقم کا بڑا حصہ اسلحہ اور گولہ بارود پر استعمال کیا گیا، جب کہ فوجی کارروائیوں کے اخراجات اور ساز و سامان کی تبدیلی پر بھی خطیر رقم صرف کی گئی۔
امریکا کے وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کو ایران جنگ شروع ہونے کےبعد بدھ کو پہلی بار قانون سازوں کے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا،ڈیموکریٹس کا کہنا تھاکہ یہ ایک مہنگی جنگ ہےجو کانگریس کی منظوری کے بغیر شروع کی گئی۔
ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی جانب سے جنگ کے بڑھتے اخراجات،اہم امریکی اسلحے کے تیزی سے استعمال اور ایک سکول پر بمباری جس میں بچوں کی اموات ہوئیں،جیسے معاملات اٹھائے جانے کا امکان ہے۔بعض ارکان صدر ٹرمپ کے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات اور ایرانی ڈرون حملوں کےخلاف فوج کی تیاری پر بھی سوال اٹھاسکتے ہیں، کیوں کہ کچھ ڈرون امریکی دفاعی نظام کو عبور کرکے فوجیوں کو ہلاک یا زخمی کرچکے ہیں۔
ایران سے فون پر مذاکرات کا عمل جاری ہے : صدر ڈونلڈ ٹرمپ
ڈیموکریٹ رکن ایڈم سمتھ کا کہنا ہے کہ آپ کئی چھوٹی لڑائیاں جیت سکتے ہیں لیکن جنگ ہارسکتے ہیں، اسی لیے ابتدا ہی میں جنگ میں نہیں الجھنا چاہیے۔ میرے خیال میں حکمت عملی یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ تشدد اور دباؤ کے ذریعے دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالا جائے، جو ایک انتہائی خطرناک راستہ ہے۔
اس حوالے سے رپبلکن ارکان کا کہنا ہےکہ وہ فی الحال جنگ کے دوران صدر ٹرمپ کی قیادت پر اعتماد برقرار رکھیں گے،خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام اور ممکنہ مذاکرات کے پیش نظر،تاہم وہ بھی چاہتےہیں کہ جنگ جلد ختم ہو اور اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو آئندہ ووٹنگ صدر کےلیے ایک اہم امتحان بن سکتی ہے۔
خیال رہے کہ یہ سماعت ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی میں منعقد ہوئی جس کا مقصد 2027 کے فوجی بجٹ کو زیر بحث لانا تھا، جس کےتحت دفاعی اخراجات کو بڑھاکر ریکارڈ 1.5 ٹریلین ڈالر تک لےجانے کی تجویز ہے۔
کمیٹی کے چیئرمین رپبلکن رکن مائیک راجرز نے سماعت کا آغاز دفاعی اخراجات بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتےہوئے کیا۔انہوں نے چین،روس اور ایران کی جانب سے دفاعی اخراجات میں اضافے کی نشاندہی کی۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اتنا اسلحہ، جہاز،طیارے یا خودکار نظام موجود نہیں کہ ہر دشمن کےخلاف برتری حاصل کرسکیں جب کہ وہ اپنی جی ڈی پی کا زیادہ حصہ دفاع پر خرچ کررہے ہیں۔
