اسٹیبلشمنٹ کے سابقہ ٹاؤٹ اطہر من اللہ انقلابی کیوں ہو گئے؟

 

 

 

سپریم کورٹ کے عمراندار جج جسٹس اطہر من اللہ استعفے کے بعد سوشل میڈیا پر ناقدین کی شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ انکے ناقدین کا موقف ہے کہ جو شخص عمران خان اور جنرل فیض حمید کے دور میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں عدلیہ کی بے توقیری پر نہ صرف خاموش رہا بلکہ اسکا ساتھ دیتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بن گیا، وہ آج کس منہ سے عدلیہ کی آزادی سلب ہونے کا ماتم کر رہا ہے۔

 

یاد رہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد جسٹس اطہر من اللہ کے استعفے نے عدالتی برادری اور سیاسی منظرنامے میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں عدلیہ کی آزادی اور آئینی اصولوں کے متاثر ہونے پر شدید تشویش ظاہر کی ہے اور اسے انصاف کا قتل عام قرار دیا ہے، مگر ان کے ناقدین ان کے ماضی کو سامنے رکھتے ہوئے ان آج کے نام نہاد اصولی مؤقف پر کھل کر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

 

سوشل میڈیا پر ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ جسٹس اطہر من اللہ کی ماضی میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ قربت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی جس کے نتیجے میں وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے تھے وگرنہ اس سیٹ پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا حق بنتا تھا۔ اطہر من اللہ کے ناقدین یاد دلاتے ہیں کہ پرویز مشرف کے آمرانہ دور میں وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تھے اور اسی وجہ سے وہ سندھ کے نگران وزیر قانون بنے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس دور میں کسی سول شخصیت کا صوبائی کابینہ میں شامل ہونا فوجی اسٹیبلشمنٹ کی براہِ راست سرپرستی کا نتیجہ تھا۔ اس پس منظر کے باعث آج بھی ان کے کردار کا جائزہ لیتے وقت ان کے ناقدین ان پر نقید کرتے ہیں۔

 

اسکے علاوہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے معاملے میں بھی اطہر من اللہ پر سخت تنقید ہوتی رہی ہے۔ ناقدین یاد دلاتے ہیں کہ جب شوکت عزیز صدیقی نے حساس اداروں کی عدالتی مداخلت پر کھل کر آواز اٹھائی اور جنرل فیض حمید پر عدالتی مداخلت کا الزام عائد کر دیا تو انہیں بطور جج برطرف کر دیا گیا، ایسے میں جسٹس اطہر من اللہ نے عدلیہ کی آزادی کے لیے آواز اٹھانے کی بجائے چپ سادھے رکھی چونکہ شوکت عزیز صدیقی اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بننے جا رہے تھے۔ ناقدین کا دعویٰ ہے کہ اس اہم مرحلے پر اطہر من اللہ کی خاموشی کو عدالتی معاملات میں فوجی مداخلت کے خلاف کھڑے ہونے کی بجائے غاصب  کے ساتھ کھڑا ہونے کے طور پر دیکھا گیا، چنانچہ چند ماہ بعد ہی تب کے آئی ایس آئی چیف فیض حمید نے اطہر من اللہ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنوا دیا۔

 

سیاسی مبصرین یہ الزام بھی عائد کرتے ہیں کہ بطور چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اور بعد ازاں بطور سپریم کورٹ جج، جسٹس اطہر من اللہ کے کچھ عدالتی فیصلوں اور ریمارکس نے تحریک انصاف کے سیاسی بیانیے کو تقویت دی۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ بعض حساس سیاسی مقدمات میں ان کے فیصلے یا طرزِ عمل سے پی ٹی آئی کے لیے نرم گوشہ جھلکتا تھا، جو ان کے ماضی کے اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات کے پس منظر میں مزید سوالات کو جنم دیتا ہے۔ تاہم ان تمام الزامات کے مقابلے میں ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کے فیصلے مکمل طور پر آئین، قانون اور بنیادی حقوق کی بنیاد پر ہوتے تھے اور ان پر لگائے جانے والے اعتراضات سیاسی تناظر میں مبالغہ آمیز ہیں۔

 

اس کے باوجود جسٹس اطہر من اللہ کے استعفے نے عدلیہ کے اندرونی معاملات اور آئینی ڈھانچے پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ان کے ناقدین کہتے ہیں کہ جو شخصیت عمران خان اور فیض حمید کے دور میں عدالت کی بے توقیری پر نہ صرف خاموش رہی بلکہ ان کا ساتھ دیتی رہی، وہ کس منہ سے عدالتوں کی آزادی سلب ہونے کا ماتم کر رہی ہے۔

 

یاد رہے کہ جسٹس اطہر من اللہ 30 دسمبر 1961 کو ہری پور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور بیرونِ ملک کیمبرج یونیورسٹی سے ایل ایل ایم کیا۔ عملی زندگی کا آغاز انہوں نے پاکستان کسٹمز سروس میں کیا لیکن بعد میں سرکاری ملازمت چھوڑ کر وکالت اختیار کی۔ بطور وکیل وہ انسانی حقوق، آئینی مقدمات اور عدلیہ کی بحالی کی تحریک کے دوران نمایاں رہے، خصوصاً سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کی تحریک میں ان کا کردار قابلِ ذکر سمجھا جاتا ہے۔

جسٹس منصور اور جسٹس اطہر نے خود کو عمرانڈو ثابت کردیا

17 جون 2014 کو انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ کا اضافی جج مقرر کیا گیا۔ دو برس بعد، 2016 میں وہ مستقل جج بنے۔ 28 نومبر 2018 کو وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے، جہاں انہوں نے کئی اہم آئینی مقدمات کی سماعت کی۔ نومبر 2022 میں انہیں سپریم کورٹ آف پاکستان کا جج مقرر کیا گیا، جہاں وہ سیاسی اور آئینی نوعیت کے مقدمات میں اپنے مختلف ریمارکس اور فیصلوں کی وجہ سے نمایاں رہے۔

 

Back to top button