پارٹی سے ناراض گنڈاپور پی ٹی آئی کے احتجاج میں شریک کیوں؟

 

 

 

محسن نقوی کی تعریف اور پی ٹی آئی قیادت پر تنقید کی وجہ سے اپنے خلاف پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر ایکشن لینے کی خبر سامنے آنے کے بعد علی امین گنڈا پور سیاسی طور پر متحرک ہو گئے اور اسلام آباد پہنچ کر پارٹی کے دھرنے میں شریک ہو گئے۔ حالانکہ وزارت اعلیٰ سے ہٹائے جانے کے بعد سے گنڈا پور سیاسی طور پر غیر متحرک تھے اور پارٹی اجلاسوں میں بھی شرکت نہیں کررہے تھے۔

 

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اسلام آباد دھرنے میں علی امین گنڈاپور کی شرکت محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سیاسی ضرورت تھی کیونکہ انہوں نے حال ہی میں پارٹی قیادت کو اس بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا کہ وہ عمران خان کی رہائی کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر پا رہی۔ ایسے میں جب عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کے مطالبے پر دھرنا دیا گیا تو گنڈاپور کے لیے وہاں موجود ہونا سیاسی طور پر ناگزیر تھا۔مبصرین کے مطابق اگرچہ علی امین گنڈاپور کے پی ٹی آئی کے اندر اپنے مخالفین کے ساتھ اختلافات تاحال برقرار ہیں لیکن بیرسٹر گوہر کی جانب سے دھرنے میں شرکت کی باقاعدہ دعوت ملنے کے بعد انہوں نے اسلام اباد پہنچنا ہی مناسب سمجھا۔

گنڈاپور کے قریبی حلقوں کے مطابق وزارتِ اعلیٰ سے ہٹائے جانے کے بعد علی امین گنڈاپور پارٹی کی مرکزی قیادت سے ناراض تھے اور اسی وجہ سے تنظیمی سرگرمیوں سے فاصلے پر تھے۔ عملی سیاست میں  غیر متحرک ہونے کے بعد وہ پشاور سے اپنے آبائی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان منتقل ہو گئے تھے۔ تاہم عمران خان کے لیے احتجاج اور دھرنوں کا اعلان ہوتے ہی انھوں نے احتجاج میں شریک ہو کر واضح پیغام دے دیا ہے کہ اگرچہ ان کے پارٹی لیڈر شپ کے فیصلوں پر تحفظات موجود ہیں تاہم وہ کہیں نہیں جا رہے وہ اب بھی عمران خان کے “فرنٹ کے سپاہی” ہیں۔

 

مبصرین کے مطابق احتجاج میں شرکت کے باوجود گنڈاپور کے پارٹی لیڈر شپ کے تنقید کا سلسلہ جاری رہا، اسلام آباد میں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ عمران خان کے جیل میں ہونے کی ذمہ دار پی ٹی آئی لیڈر شپ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ محض احتجاج اور دھرنوں سے عمران خان کی رہائی ممکن نہیں۔ پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق علی امین اب بھی پارٹی سے سخت ناراض ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ان کے دواقتدار میں عمران خان کی رہائی کی امید بندھ چکی تھی لیکن انہیں اچانک عہدے سے ہٹا دیا گیا، جس سے عمران خان کی رہائی کے تمام امکانات ختم ہو گئے۔ مبصرین کے مطابق گنڈاپور کی اسلام آباد دھرنے میں شرکت دراصل سیاسی طور پر خود کو متحرک اور متعلق رکھنے کی کوشش ہے۔ ان کا خیال ہے کہ علی امین نے اپنی سیاسی بقا کے لیے یہ قدم اٹھایا ہے۔

علیمہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ سے عمران کا فائدہ کر رہی ہیں یا نقصان؟

سیاسی مبصرین کے مطابق علی امین گنڈاپور اس وقت دوہری حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ایک طرف وہ قیادت پر تنقید کر کے کارکنوں میں اپنی الگ شناخت برقرار رکھنا چاہتے ہیں، تو دوسری طرف دھرنے میں شرکت کر کے یہ تاثر بھی دینا چاہتے ہیں کہ وہ آج بھی عمران خان کے وفادار ساتھی ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے بقول علی امین عمران خان کی بہنوں کو بعض فیصلوں کا ذمہ دار سمجھتے ہیں اور اندرونی طور پر ان سے اختلاف رکھتے ہیں، تاہم کھل کر محاذ آرائی سے گریز کر رہے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں ان کی دھرنے میں شرکت نے وقتی طور پر اختلافات کی خبروں کو ضرور پس منظر میں دھکیل دیا ہے، لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ پارٹی کے اندر تمام معاملات واقعی طے پا چکے ہیں۔

 

Back to top button