عمران نے طالبان کے سہولت کار آفریدی کو وزیر اعلیٰ کیوں بنایا؟

مختلف دہشتگرد اور شدت پسند تنظیموں سے قریبی تعلقات کی وجہ سے سہیل آٖفریدی کی بطور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نامزدگی سخت عوامی تنقید کی زد میں ہے۔ جہاں ایک طرف وفاقی حکومت نے سہیل آفریدی کی تقرری کی سخت مخالفت کرنے کا اعلان کر دیا ہے وہیں دوسری جانب پی ٹی آئی کے اندر سے بھی سہیل آفریدی کے خلاف آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ جس کے بعد سہیل آفریدی کا آسانی سے خیبرپختونخوا حکومت کی باگ ڈور سنبھالنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔
خیال رہے کہ گنڈاپور کی چھٹی کے بعد بانی پی ٹی آئی کی طرف سے نامزد سہیل آفریدی کا نام ماضی میں مختلف تنازعات سے جوڑا جاتا رہا ہے۔اگرچہ ان کے خلاف کوئی براہِ راست مقدمہ موجود نہیں، مگر ان کے روابط ایسے گروہوں سے منسلک بتائے جاتے ہیں جو ماضی میں عسکریت پسندی کے لیے جانے جاتے تھے۔ ان خدشات نے ان کی نامزدگی پر شکوک و شبہات کو مزید بڑھا دیا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب خیبرپختونخوا میں دوبارہ دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور ہر روز پاک فوج کے جوان اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں، ناقدین کے مطابق سہیل آفریدی کی نامزدگی بظاہر ایک سیاسی فیصلہ ہے، مگر اس کے اثرات محض سیاست تک محدود نہیں رہیں گے۔یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبرپختونخوا دہشتگردی کی نئی لہر، معاشی دباؤ، اور گورننس کے بحران سے دوچار ہے۔
اگر اس نامزدگی کے گرد موجود خدشات کو دور نہ کیا گیا تو یہ اقدام صوبے میں ریاستی رٹ کو مزید کمزور کر سکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ دہشتگردوں سے قریبی روابط کے الزامات کے باوجود عمران خان کی جانب سے سہیل آفریدی کی نامزدگی سے پتا چلتا ہے کہ تحریکِ انصاف کی سیاست اب نظریات کی بجائے شخصی مفاد اور انتقامی نفسیات کے گرد گھومنے لگی ہے۔ خیبرپختونخوا کو ایک بار پھر ایسے تجربات کا میدان بنایا جا رہا ہے جن کے نتائج نہ صرف سیاسی بلکہ قومی سلامتی کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق سہیل آفریدی جیسے متنازع ماضی رکھنے والے شخص کو وزارتِ اعلیٰ کے منصب پر بٹھانا پاکستان کی سلامتی، سیاسی استحکام اور عالمی ساکھ، تینوں کے لیے زہر قاتل ثابت ہو سکتا ہے جبکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ایسے فیصلے پاکستان کے ’’انسدادِ دہشتگردی بیانیے‘‘ کو کمزور کرتے ہیں۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق ایسی نامزدگی صوبے کے اندر دہشتگردی کے خلاف جاری ریاستی حکمتِ عملی کو متاثر کر سکتی ہے۔ اگر صوبے کی قیادت پر اعتماد کمزور پڑا تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ اور آپریشنز دونوں متاثر ہو سکتے ہیں۔
سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ نامزد کیے جانے پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے سخت ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما اور عمران خان کے سابق میڈیا ایڈوائزر فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ اگر سہیل آفریدی وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے تو پوری قوم سے معافی مانگوں گا۔
وجاہت کاظمی نے لکھا کہ سہیل آفریدی خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نہیں بن سکتے۔ وہ دہشت گردوں کے معروف سہولت کار اور ہمدرد ہیں، وہ اپنے اس سزا یافتہ قائد کی کاپی ہیں جن کی پالیسیوں نے صوبے میں دہشت گردی کو دوبارہ بھڑکا دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے شخص کو وزیراعلیٰ بنانا بالکل ایسے ہوگا جیسے ٹی ٹی پی کے نور ولی کو صوبہ کی قیادت سونپ دی جائے۔ آفریدی کے جرائم پیشہ مافیا کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں، وہ بھاری کمیشن لیتے ہیں، اور کھلے عام طالبان کی حمایت کرتے ہیں جبکہ پاک فوج کے خلاف زہر اگلتے ہیں۔
وجاہت کاظمی نے مزید کہا کہ ہمارے بہادور فوجی جوانوں سمیت ہزاروں پاکستانیوں نے کے پی میں اپنی جانیں قربان کیں۔ اس سر زمین کی قیادت کسی نیم-طالبانی شخص کو دے کر ان کے خون کا سودا کرنے کے فیصلے کو قطعا قبول نہیں کرنا چاہیے،عمران خان خیبرپختونخوا کو ایک بار پھر دہشتگردوں کی آماجگاہ بنانے کے خواہاں ہیں۔ جسے عمران خان نے ماضی میں اپنی تباہ کن پالیسیوں کی وجہ سے 35,000 عسکریت پسندوں کو پاکستان میں آباد کیا تھا۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیئر رہنما ندیم افضل چن نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی معلومات کے مطابق سہیل آفریدی خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ نہیں بنیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے صوبائی اسمبلی کا کوئی متفقہ امیدوار آ جائے یا پھر کوئی سرپرائز آ جائے۔
شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی پر ٹی ٹی پی اور دہشت گرد تنظیم لشکرِ اسلام سے تعلقات کے سنگین الزامات ہیں، جو کوئی معمولی بات نہیں۔ اگر پی ٹی آئی واقعی ایسی متنازع شخصیت کو وزیراعلیٰ کے طور پر آگے لاتی ہے، تو یہ صرف سیاسی غلطی نہیں بلکہ قومی سلامتی کےساتھ بھی کھلواڑ ہو گا۔
صحر انورد نامی صارف نے کہا کہ یہ سہیل آفریدی وہی ہے جس کا نام ہندوستانی خفیہ ایجنسی ’را‘ کی لیک دستاویزات میں آیا تھا کہ وہ ’را‘ کی مدد سے فتنہ الخوارج طالبان کی سہولتکاری اور دہشتگردی میں ملوث ہے۔عوامی ایکشن کمیٹیوں اور شہری تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی ایسے شخص کو صوبے کا سربراہ نہ بنایا جائے جس کے بارے میں سیکیورٹی ادارے یا عوامی نمائندے تحفظات رکھتے ہوں جبکہ بعض صوبائی اراکین نے اسمبلی میں قرارداد لانے کا عندیہ دیا ہے کہ ’’وزارتِ اعلیٰ کے امیدوار کی جانچ پڑتال سیکیورٹی کلیئرنس کے بغیر نامکمل‘‘ قرار دی جائے۔تاکہ مستقبل میں ایسے تنازعات سے بچا جا سکے
