انڈیا نے دہلی دھماکے کا الزام پاکستان پر لگانے سے گریز کیوں کیا؟

 

 

 

پاکستان پر پہلگام دہشت گرد حملے کا الزام لگا کر حملہ کرنے والی مودی سرکار نے غلطی سے سبق سیکھتے ہوئے دہلی میں ہوئے کار بم دھماکے کا الزام پاکستان پر عائد کرنے سے گریز کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پہلگام حملے کے بعد ہونے والی پاک بھارت جنگ نے مودی سرکار کے کس بل نکال دیئے تھے لہٰذا اس نے بے بنیاد الزام تراشی سے توبہ کرلی ہے۔

 

یاد رہے کہ دہلی کار بم دھماکے میں 12 افراد ہلاک ہوئے تھے۔الجزیرہ کے لیے کام کرنے والے بھارتی صحافی یش راج شرما نے ایک تفصیلی رپورٹ میں بتایا ہے کہ نئی دہلی میں ہونے والے کار بم دھماکے کو بھارتی حکومت اور سیکورٹی حکام نے باضابطہ طور پر دہشت گردی قرار نہیں دیا۔ یاد رہے پاکستان نے اسلام آباد کی کچہری میں خودکش دھماکے کا الزام فورا بھارت پر عائد کیا تھا لیکن بھارت نے اب تک دہلی دھماکے کا الزام پاکستان پر لگانے سے گریز کیا ہے۔ بھارتی صحافی کو ایک اعلیٰ عہدے پر فائز انٹیلی جنس ایجنسی افسر نے بتایا کہ تفتیشی ایجنسیوں نے دہلی کے دھماکے میں ملوث حملہ آوروں کا کھرا کشمیر میں جیش محمد  کے ساتھ جوڑا ہے۔

 

ماضی میں اپنی سرزمین پر ہونے والے کسی بھی دہشت گرد حملے کا الزام چند گھنٹوں کے اندر پاکستان پر عائد کرنے والی مودی سرکار نے اس بار احتیاط سے کام لیا ہے جو کہ ایک غیر معمولی بات ہے۔ اس تبدیلی کے بارے میں مبصرین کا کہنا ہے کہ مئی میں پاکستان سے جنگی تصادم کے بعد بھارت نے اپنے لیے ایک بڑا مسئلہ کھڑا کر لیا تھا۔ جنوبی ایشیا کے امریکی تجزیہ کار مائیکل کوگل مین نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بھارتی حکومت حالیہ حملے کو پاکستانی سپانسرڈ دہشت گردی قرار دیتی ہے، تو پھر اس پر فوری جواب دینے کے لیے سیاسی دباو پڑے گا۔ لہذا اس بار احتیاط کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔

 

کوگل مین کے مطابق بھارتی سرکار نے پہلگام حملے کے بعد پاکستان پر حملے کر کے دنیا میں خاصی تنقید اور مخالفت مول لی تھی کیونکہ اس نے اسلام آباد کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا تھا۔انکا کہنا ہے کہ اس برس مئی میں ہوئی والی جنگ کے دوران بھارت کے لیے عالمی برادری کی حمایت کا حصول مشکل ہو گیا تھا کیونکہ اس نے پہلگام حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا تھا۔ اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ بھارت کو جارح کے طور پر دیکھا گیا اور پاکستان کی پوزیشن کافی مضبوط ہوئی۔

 

دوسری جانب انڈین میڈیا میں اس دہلی میں ہونے والے دھماکے پر قیاس آرائیاں جاری ہیں، جو 22 اپریل کے پہلگام حملے کے بعد سب سے شدید حملہ ہے۔ اس سے قبل انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں 26 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

بھارتی حکومت نے 10 نومبر کے دہلی دھماکے کو ’سنگدلانہ دہشت گردای‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ’ملک دشمن عناصر‘ نے کیا ہے۔ وزیراعظم مودی نے اس واقعے کو ’سازش‘ قرار دیا ہے۔ تاہم کئی اہم حقائق تاحال غیرواضح ہیں، اور ابھی تک یہ پتہ نہیں چل سکا کہ کار میں کون تھا، اور کس نوعیت کا بارودی مواد استعمال کیا گیا۔

ابتدائی تفتیش کے بعد پولیس کا کہنا ہے کہ اس دھماکے میں جیشِ محمد کے کشمیری دھڑے انصار غزوۃ الہند کا ہاتھ لگتا ہے۔

 

بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے مطابق حکومت تحقیقات کے نتائج کا انتظار کر رہی ہے۔ اس سے پہلے اپریل میں پہلگام کے حملے کے اگلے ہی روز انڈیا نے دعویٰ کر دیا تھا کہ حملہ آوروں کے پاکستان میں رابطے تھے۔ اس واقعے کے چند روز بعد انڈیا نے پاکستان پر حملہ کر دیا تھا جس کے نتیجے میں چار روز تک شدید جھڑپوں میں 70 افراد جاں بحق ہوئے۔ جنگ بندی کے بعد وزیر اعظم مودی نے اعلان کیا تھا کہ ’انڈین سرزمین پر کسی بھی حملے کو جنگ کا اعلان سمجھا جائے گا اور اسکا بھر پور جواب دیا جائے گا۔ اسی پس منظر میں دہلی دھماکے پر سخت ترین بھارتی ردعمل کی عوامی توقعات بہت زیادہ تھیں لیکن مودی سرکار نے احتیاط سے کام لیا ہے۔

آئینی عدالت : چیف جسٹس امین الدین نے پہلا انتظامی حکم جاری کردیا

بھارتی سکیورٹی ادارے بغیر ثبوت کوئہ الزام لگانے کے ممکنہ سفارتی اثرات  کے پیش نظر انتہائی محتاط انداز میں کیس کی تفتیش کر رہے ہیں۔ دوسری جانب دہلی کی خارجہ پالیسی بھی اس محتاط رویے پر اثر انداز ہو رہی ہے، کیونکہ انڈیا اپنے بڑے تجارتی شراکت دار امریکہ کے ساتھ اہم معاہدہ طے کرنا چاہتا ہے، جبکہ صدر ٹرمپ نے روسی تیل کی خریداری پر انڈین مصنوعات پر 50 فیصد محصولات عائد کیے ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ ٹرمپ مئی میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کا سہرا بھی خود کو دیتے رہے ہیں، اور اسلام آباد کے ساتھ اپنے بڑھتے ہوئے روابط پر زور دیتے رہے ہیں۔

Back to top button