پاکستان کو دلال قرار دینے والا انڈیا کی بولتی بند کیوں ہو گئی؟

پاکستان کی شاندار سفارت کاری کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے مابین ہونے والی جنگ بندی نے اس بھارت سرکار کی بولتی بند کر دی ہے جس نے پاکستانی ثالثی کی کوششوں کو ناکام دلالی قرار دیا تھا۔

یاد رہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین شدت اختیار کرتی جنگ کے دوران پاکستان نے متحرک اور مؤثر سفارتکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی ممکن بنائی ہے۔ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت نے پسِ پردہ رابطوں اور پیغام رسانی کے ذریعے فریقین کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لیے  کلیدی کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں ایک ممکنہ بڑے تصادم کو وقتی طور پر روک لیا گیا۔

یہ پیش رفت نہ صرف خطے میں امن کے لیے اہم قرار دی جا رہی ہے بلکہ اسے گزشتہ چھ ماہ کے دوران پاکستان کی دوسری بڑی سفارتی و عسکری کامیابی بھی سمجھا جا رہا ہے۔ اس سے قبل گزشتہ برس بھارت کی جانب سے پاکستان پر حملے کے بعد صورت حال انتہائی کشیدی ہو گئی تھی۔ اس موقع پر پاکستان نے فوری اور بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے بھارتی فضائیہ کے فرانسیسی ساختہ جنگی طیاروں کو مار گرایا، جسے مبصرین نے طاقت کے توازن میں اہم موڑ قرار دیا۔ اس کشیدہ صورتحال کے بعد بھارت نے عالمی سطح پر حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی اور بالآخر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رجوع کیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی میں کردار ادا کیا، جس کا کریڈٹ وہ آج بھی مختلف مواقع پر لیتے ہیں۔

چنانچہ امریکہ اور ایران کے مابین حالیہ جنگ بندی کے تناظر میں بھارت کا ردعمل خاصا محتاط بلکہ سرد مہری کا شکار نظر آیا۔ بھارتی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں ایران اور امریکہ جنگ بندی کا خیر مقدم تو کیا، تاہم پاکستان کے کردار کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ جنگ بندی خطے میں امن کے قیام کے لیے ضروری ہے اور اس سے عالمی توانائی سپلائی، خصوصاً آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل، معمول پر آنے میں مدد ملے گی۔ دوسری جانب عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتکاری کو سراہا جا رہا ہے، وہیں بھارت کے اندر سے ہی حکومت کی خارجہ پالیسی پر تنقید سامنے آ رہی ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی کوششوں پر تبصرہ کرتے ہوئے بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا تھا کہ بھارت اپنے ہمسایہ ملک کی طرح ایک ناکام دلالی کا کردار ادا نہیں کرنا چاہتا۔

ادھر بھارت کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کانگریس کی قیادت نے واضح طور پر کہا ہے کہ جو کردار پاکستان نے ادا کیا ہے، وہ بھارت کو ادا کرنا چاہیے تھا چونکہ اس کے امریکہ اور ایران دونوں سے اچھے تعلقات تھے۔ سابق بھارتی خارجہ سیکریٹری نروپما مینن راؤ نے بھی اعتراف کیا ہے کہ پاکستان نے ایک مؤثر سفارتی چینل کے طور پر کام کیا جس کے ذریعے کشیدگی میں کمی ممکن ہوئی۔

بین الاقوامی بھارتی تجزیہ کار اشوک سوئن کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کے بڑھتے ہوئے عالمی اعتماد کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ بھارت سفارتی سطح پر تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔ ان کے بقول، پاکستان نہ صرف امریکہ اور ایران بلکہ چین سمیت دیگر عالمی قوتوں کے ساتھ بھی متوازن تعلقات رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔

عالمی امور پر گرفت رکھنے والی بھارتی صحافی انجنا شنکر نے بھی کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے مابین جنگ کے عروج پر پاکستان نے سفارتی دروازے بند نہیں ہونے دیئے اور عین وقت پر جنگ بندی ممکن بنا کر ایک بڑے بحران کو ٹال دیا۔ مبصرین کے مطابق جنگ بندی نے نہ صرف پاکستان کی سفارتی صلاحیتوں کو اجاگر کیا ہے بلکہ جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن اور پاکستان اور بھارت کے مابین جاری روایتی رقابت کو بھی ایک نئے تناظر میں پیش کیا ہے، جہاں میدانِ جنگ کے ساتھ ساتھ سفارتکاری بھی فیصلہ کن کردار ادا کر رہی ہے۔

Back to top button