ٹرمپ کے لیے اسرائیل اور پاکستان ایک پیج پر کیوں اکٹھے ہو گئے؟

اسے حسن اتفاق ہے کہیے یا ایک افسوسناک حقیقت کہ اسرائیل اور پاکستان دنیا کے وہ دو ممالک بن گئے ہیں جنہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کو امن کا نوبیل انعام دینے کی سفارش کی ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ پر واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ اس ڈاکومنٹ کو اسرائیل کے سفر کیلئے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ تا ہم سچ یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام دلوانے کے لیے یہ دونوں ممالک ایک ہی صفحے پر نظر آتے ہیں۔ یاد رہے کہ اسرائیل اور پاکستان کا بنیادی اختلاف مسئلہ فلسطین پر ہے اور اسی وجہ سے پاکستان نے کبھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔
یاد رہے کہ پاکستانی فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی امریکی صدر ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے چند روز بعد حکومت پاکستان نے صدر ٹرمپ کو پاک بھارت جنگ رکوانے پر نوبیل امن انعام دینے کی سفارش کر دی تھی۔ اب اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے بھی اعلان کر دیا یے کہ انھوں نے صدر ٹرمپ کو امن کے نوبیل انعام کے لیے نامزد کیا ہے جو امریکی صدر کا طویل عرصے سے خواب رہا ہے۔
نیتن یاہو نے کہا ٹرمپ امن انعام کے حقدار ہیں چونکہ وہ ایک ملک کے بعد دوسرے ملک، اور ایک خطے کے بعد دوسرے خطے میں امن قائم کر رہے ہیں۔ یہ بات انھوں نے اس خط میں لکھی جو انھوں نے نوبیل امن انعام دینے والی عالمی کمیٹی کو بھیجا تھا۔
یہ رائے اکیلے نیتن یاہو کی نہیں بلکہ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کی بھی ہے۔ پاکستان نے ٹرمپ کو اس انعام کے لیے نامزد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے مئی میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کے کیے مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ تاہم اگلے ہی دن امریکہ کی جانب سے ایران کے جوہری مراکز پر حملے کر دیے گئے جس پر حکومت پاکستان شدید تنقید کی زد میں آ گئی۔ سوشل میڈیا پر یہ سوال کیا جانے لگا کہ کیا ایران پر بلا اشتعال حملہ کرنے والا ٹرمپ نوبیل امن انعام کے لائق ہے۔
یاد رہے کہ امن کا نوبیل انعام دنیا کے سب سے باوقار اعزازات میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ یہ ان چھ انعامات میں شامل ہے جو سویڈن کے سائنسدان، تاجر اور انسان دوست الفریڈ نوبیل کے نام پر رکھے گئے ہیں۔ یہ انعام جیتنے والے خوش قسمت افراد کا انتخاب ناروے کی پارلیمنٹ کی طرف سے منتخب کی گئی پانچ رکنی کمیٹی کرتی ہے۔ یاد رہے کہ دو پاکستانی یعنی ملالہ یوسف زئی اور ڈاکٹر عبدالسلام امن کا نوبیل انعام حاصل کر چکے ہیں۔
اگر صدر ٹرمپ کو یہ انعام ملتا ہے تو بہت لوگ اسے متنازع سمجھیں گے کیونکہ امن کا نوبیل انعام اکثر تنازع میں رہتا ہے۔ ہم یہاں 6 ایسے نوبیل انعامات بارے بتانے جا رہے ہیں ہے جو دیے جانے کے بہت زیادہ تنقید ہوئی۔ اپنی 2020 کی یادداشتوں میں سابق امریکی صدر اوباما لکھتے ہیں کہ جب انھیں نوبیل امن انعام ملنے کی خبر ملی تو ان کا پہلا ردِعمل یہ تھا ’کس لیے؟‘، تب انھیں صدر بنے صرف نو ماہ ہی ہوئے تھے اور ناقدین نے اس فیصلے کو قبل از وقت قرار دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ اوباما کی حلف برداری کے صرف 12 دن بعد ہی آ گئی تھی۔ تاہم یہ فیصلہ کرنے والی کمیٹی نے بعد میں اس پر افسوس کا اظہار کیا کیونکہ اوباما کے دونوں صدارتی ادوار کے دوران امریکی افواج افغانستان، عراق اور شام میں خوفناک جنگی کارروائیوں میں مصروف رہیں۔
ماضی میں عسکری سرگرمیوں میں ملوث رہنے والے یاسر عرفات کو نوبیل انعام دیے جانے کے فیصلے پر اسرائیل سمیت کئی حلقوں میں شدید تنقید ہوئی تھی۔ مرحوم فلسطینی رہنما کو 1994 میں تب کے اسرائیلی وزیرِاعظم اسحاق رابین اور وزیرِ خارجہ شمعون پریز کے ساتھ امن کا نوبیل انعام دیا گیا۔ یہ اعزاز انھیں اوسلو امن معاہدے پر کام کرنے کے اعتراف میں دیا گیا، جس نے 1990 کی دہائی میں اسرائیل-فلسطین تنازع کے حل کی امید پیدا کی تھی۔ یہ نامزدگی امن کے نوبیل انعام کی کمیٹی کے اندر اختلاف کا باعث بنی۔ کمیٹی کے ایک رکن، نارویجین سیاستدان کارے کرسچیانسن نے احتجاجاً اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
1973 میں تب کے امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کو نوبیل انعام دیا گیا تھا۔ تاہم یہ فیصلہ دنیا بھر میں تنقید کی زد میں آیا چونکہ ایک ایسے شخص کو انعام دیا گیا جو کمبوڈیا میں خفیہ بمباری اور جنوبی امریکہ میں ظالم فوجی حکومتوں کی پشت پناہی کرتا رہا تھا۔ کسنجر کو یہ انعام شمالی ویتنام کے رہنما لی ڈک تھو کے ساتھ مشترکہ طور پر دیا گیا کیونکہ دونوں نے ویتنام جنگ میں جنگ بندی کے معاہدے میں کردار ادا کیا تھا۔ اس فیصلے پر نوبیل کمیٹی کے دو ارکان نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا جبکہ نیویارک ٹائمز نے اس فیصلے پر طنز کرتے ہوئے اسے ’نوبیل وار پرائز‘ قرار دیا۔
برما کی سیاستدان آنگ سان سو چی کو 1991 میں امن کا نوبیل انعام اُنکی فوجی آمریت کے خلاف عدم تشدد پر مبنی جدوجہد کے اعتراف میں دیا گیا۔ تاہم 20 سال بعد وہ شدید تنقید کی زد میں آ گئیں کیونکہ انھوں نے اپنے ملک میں روہنگیا کے مسلمانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر قتل عام اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموشی اختیار کی۔ اقوام متحدہ نے ان مظالم کو ’نسل کشی‘ قرار دیا تھا۔ ان پر دباؤ اتنا بڑھا کہ ان سے نوبیل انعام واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا گیا، لیکن نوبیل انعامات کے قوانین کے تحت کسی بھی فاتح سے انعام واپس لینا ممکن نہیں۔
گنڈاپور نے تحریک سے پہلے ہی PTI کو اختلافات کا شکار کر دیا
نوبیل انعام کچھ محروم رہ جانے والوں کے باعث بھی مشہور ہے۔بیسویں صدی میں پرامن جدوجہد کی علامت بننے والے مہاتما گاندھی کو پانچ بار نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا گیا لیکن انھیں کبھی یہ انعام نہیں دیا گیا حالانکہ امن کے لیے سب سے نمایاں کام مہاتما کا ہے۔ نارویجین مورخ اور نوبیل امن انعام کمیٹی کے صدر گئیر لنڈسٹاد نے 2006 میں کہا تھا کہ گاندھی کو نوبیل انعام نہ دینا اس انعام کی تاریخ کی سب سے بڑی کوتاہی ہے۔
