مریم حکومت بے نظیر کارڈ کے مقابلے میں اپنا کارڈ کیوں لے آئی ؟

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون پنجاب میں سیلاب زدگان کی امداد کے طریقے پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئی ہیں اور دونوں کی مرکزی قیادت کی جانب سے لفظی گولہ باری کا سلسلہ تیز تر ہو گیا ہے۔
یاد رہے کہ ملک بھر میں حالیہ سیلاب سے متاثر ہونے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ ان سیلاب متاثرین کی امداد کے معاملے پر پنجاب حکومت اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی قیادت کے درمیان تناؤ پیدا ہو گیا ہے جسکے بعد آصفہ بھٹو نے بھی اس موضوع پر پوزیشن لے لی ہے۔ پنجاب حکومت کی منہ پھٹ ترجمان اور وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری نے ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں سیلاب زدگان کی فوری اور باعزت مدد کے لیے مریم نواز ایک وزیرِ اعلیٰ ریلیف کارڈ متعارف کرانے جا رہی ہیں تاکہ کسی متاثرہ شخص کو لائنوں میں کھڑا نہ ہونا پڑے۔
ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ایک قانون کے تحت بنا تھا لیکن ہر معاملے پر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔ تاہم انہوں نے وضاحت نہیں کی کہ وہ کیا کہنا چاہتی ہیں۔
ادھر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس پر مسلم لیگ نون کی تنقید افسوسناک اور غیر ذمہ دارانہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں کو اس پروگرام کے نام سے مسئلہ ہے جو کہ وطن کی خاطر جان دینے والی بے نظیر بھٹو شہید کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق اس پروگرام کا نہ تو کسی لسانی گروہ سے تعلق ہے اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت سے، بلکہ یہ ایک قومی سطح کا سوشل پروٹیکشن پروگرام ہے جس کے ذریعے معاشرے کے پسے ہوئے طبقے کو ماہانہ مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔
روبینہ خالد نے وضاحت کی کہ بی آئی ایس پی کا ڈیٹا جیو ٹیگ Geo Tagged ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ پنجاب اور سندھ کے کون کون سے علاقوں میں سیلاب آیا اور وہاں کتنا نقصان ہوا۔ اس کے علاوہ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ وہاں رہنے والے کتنے خاندان خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔
پیپلزپارٹی کی رہنما آصفہ بھٹو نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے 40 لاکھ سے زائد لوگ متاثر ہو چکے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ماضی کی طرح اس برس بھی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام مساکین اور سیلاب متاثرین تک امداد پہنچانے کا سب سے تیز اور مؤثر ذریعہ ثابت ہوا ہے۔ آصفہ بھٹو کا کہنا تھا کہ ریاست کے پاس متاثرہ افراد کا ڈیٹا رکھنے والا واحد ادارہ بی آئی ایس پی ہے، لہٰذا یہ پلیٹ فارم استعمال نہ کرنا متاثرین کے ساتھ غفلت برتنے کے مترادف ہوگا۔ آصفہ بھٹو نے کہا کہ ایسے غیر زمہ دارانہ بیانات سے گریز کرنا چاہیے، سیاست میں سچائی اور ایمانداری ضروری ہے، لہذا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید ہونے والے ایک کروڑ خاندانوں کی دل آزاری نہ کریں۔
روبینہ خالد کے مطابق حالیہ سیلاب کے بعد بحالی کے لیے کیش ٹرانسفر بہت ضروری ہے، متاثرہ خاندانوں کو رقم ملے گی تو وہ بآسانی اپنے گھروں کو واپس لورٹ سکیں گے، اس میں ان لوگوں کو عزت نفس بھی برقرار رہے گی، ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے والوں کے پاس کوئی متبادل پروگرام ہے تو وہ بتا دیں۔
عمران خان کو GHQ حملہ کیس میں سزا کا امکان روشن
یاد رہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے اس برس 700 ارب روپے سے زائد کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت مستحق اور غریب خاندانوں کو ہر تیسرے مہینے 13,500 کی نقد ادائیگی کی جاتی ہے۔ یہ رقم کم آمدنی والے غریب اور سفید پوش خاندانوں کی قوتِ خرید میں اضافہ کرتی ہے، خاص طور پر اُن خاندانوں کے لیے جو ماہانہ 20,000 روپے سے کم کماتے ہیں۔۔۔۔
