پاک فوج کے دستے اور جنگی جہاز سعودی عرب کیوں پہنچ گئے؟

امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کے فوری بعد پاکستانی فوجی دستے، بشمول جدید لڑاکا جہاز سعودی عرب کی شاہ عبدالعزیز ایئر بیس پر پہنچ گے ہیں تاکہ پاک سعودی معاہدے کے تحت سعودی عرب کا دفاع کیا جا سکے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق پاکستانی فوجی دستوں اور جنگی جہازوں کی سعودی عرب آمد دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ برس طے پانے والے سٹریٹیجک دفاعی معاہدے کے تحت کی گئی ہے، جس کا مقصد مشترکہ دفاعی صلاحیت کو بڑھانا اور کسی بھی بیرونی حملے کی صورت میں فوری ردعمل کو یقینی بنانا ہے۔ ستمبر 2025 میں طے پانے والے اس ’باہمی دفاع کے سٹریٹجک معاہدے‘ کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ دونوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ دونوں ممالک کی قیادت نے اس معاہدے کو ایک ’تاریخی‘ پیش رفت قرار دیا تھا۔ سعودی وزارتِ دفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ پاک فضائیہ کے لڑاکا اور معاون طیاروں پر مشتمل یہ دستہ دونوں ممالک کی افواج کے درمیان آپریشنل ہم آہنگی کو فروغ دے گا، اور علاقائی و بین الاقوامی سطح پر امن و استحکام کے قیام میں معاون ثابت ہوگا۔ اس طرح اس تعیناتی کو صرف دفاعی اقدام ہی نہیں بلکہ وسیع تر سکیورٹی تعاون کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔
ایران پر امریکی حملے اور اس کے رد عمل میں ایران کی جانب سے سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈوں پر ہونے والے حملوں کے بعد پاکستان سفارتی سطح پر محتاط حکمت عملی اختیار کیے ہوئے تھا اور اس کی کوشش تھی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو جائیں تاکہ خطے میں کسی بڑے تصادم کو روکا جا سکے۔ تاہم مذاکرات کی ناکامی کے بعد پاکستان کو اپنے دفاعی معاہدے کے تقاضوں کے مطابق عملی اقدامات اٹھانے پڑے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں سعودی عرب کے تقریباً پانچ ارب ڈالرز موجود ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس مالی وابستگی کے باعث بھی پاکستان کے لیے مکمل غیر جانبداری برقرار رکھنا ایک مشکل چیلنج بن چکا ہے۔
یاد رہے کہ پاک سعودی دفاعی معاہدے پر وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ریاض کے قصر یمامہ میں ملاقات کے دوران دستخط کیے تھے، ایک مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کی آٹھ دہائیوں پر محیط دفاعی شراکت داری کو ایک نئی سٹریٹیجک شکل دیتا ہے۔ بعد ازاں سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان نے اسے ’جارح کے مقابل ایک ہی صف میں کھڑے ہونے‘ کا عزم قرار دیا۔ اس معاہدے کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا تھا جب خطے میں کشیدگی پہلے ہی بڑھ چکی تھی، خصوصاً قطر کے دارالحکومت دوحہ پر اسرائیلی حملے کے بعد عرب ممالک میں سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا تھا۔ بعد ازاں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی اور سعودی عرب پر ایرانی میزائل و ڈرون حملوں کے دوران بھی اس معاہدے کی اہمیت مزید اجاگر ہوئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس دفاعی معاہدے کا پس منظر نہایت اہم اور غیر معمولی نوعیت کا ہے۔ گزشتہ برس خطے میں کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی تھی جب امریکہ کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے سعودی عرب میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا تھا۔ ان حملوں کے دوران یہ بات نمایاں طور پر سامنے آئی کہ امریکہ جدید دفاعی نظام کے باوجود ان میزائلوں کو مکمل طور پر روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکا، جس نے سعودی دفاعی حکمت عملی میں ایک بڑی کمزوری کو بے نقاب کیا۔
بھارت کی مودی سرکار نے پاک سعودی دفاعی معاہدے پر تشویش کا اظہار کیا تھا کیونکہ پاکستان ایک نیوکلیئر ریاست ہے اور ماضی میں اس پر اپنی نیوکلیئر ٹیکنالوجی ٹرانسفر کرنے کے الزامات بھی عائد ہوتے رہے ہیں۔ اس معاہدے کے چند ماہ بعد متحدہ عرب امارات نے انڈیا کے ساتھ ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے تھے۔ سابق امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے پاک سعودی معاہدے پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ اس میں کوئی خفیہ شقیں بھی شامل ہو سکتی ہیں اور یہ پیش رفت خطے میں امریکہ کے دفاعی کردار پر اعتماد میں کمی ظاہر کرتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی دفاعی صلاحیت، خصوصاً اس کے میزائل اور جوہری پروگرام، مشرق وسطیٰ کے سکیورٹی توازن پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ اسی دوران سوشل اور میڈیا حلقوں میں بھی اس معاہدے پر بھرپور بحث دیکھنے میں آئی۔ بعض پاکستانی مبصرین نے اسے ایک ’گیم چینجر‘ قرار دیا، جبکہ بھارتی تجزیہ کاروں نے اسے خطے میں طاقت کے توازن میں ممکنہ تبدیلی سے جوڑا ہے۔
سیادی مبصرین کے مطابق اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کے بعد پاکستان ایک پیچیدہ سفارتی مشکل کا شکار ہو چکا ہے، وجہ یہ ہے کہ ایک جانب اسے اپنے اتحادی سعودی عرب کے دفاعی تقاضے پورے کرنا ہیں، جبکہ دوسری طرف ایران کے ساتھ تعلقات کو بھی بچانا ہے۔ لہٰذا آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا پاکستان اس نازک توازن کو برقرار رکھ پاتا ہے یا نہیں؟
