جنگ بندی کے باوجود پاکستان نے افغانستان پر حملہ کیوں کیا؟

 

 

 

پاک افغان جنگ بندی معاہدے کے باوجود افغانستان میں موجود تحریک طالبان کی جانب سے سرحد پار دہشت گرد حملوں میں اضافے کے بعد پاکستانی فضائیہ نے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے افغانستان کے تین صوبوں ننگر ہار، پکتیکا اور خوست میں ٹی ٹی پی کے 7 مراکز کو انتہائی مہارت سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 80 سے زائد دہشت گرد مارے گئے۔ ایک جانب پاکستانی حکام کے مطابق افغانستان میں کئے جانے والے فضائی حملوں میں کالعدم ٹی ٹی پی اور شدت پسند گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ دوسری طرف کابل پاکستانی حملوں کو ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی اور شہری آبادی پر حملہ قرار دیتے ہوئے موثر جواب دینے کی دھمکیاں دے دہا ہے۔ مبصرین کے مطابق پاکستان کے سرحد پار فضائی حملوں، شہری ہلاکتوں کے دعوؤں اور ’مناسب وقت پر جواب‘ کی دھمکیوں نے خطے میں عدم استحکام کے خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ 22 فروری 2026 کی درمیانی شب ہونے والی اس کارروائی نے نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کو تناؤ کی نئی سطح پر پہنچا دیا بلکہ یہ سوال بھی کھڑا کر دیا ہے کہ کیا یہ محض ایک محدود عسکری پیغام تھا یا کسی بڑے تصادم کا پیش خیمہ؟ دفاعی ماہرین پاکستان کی ٹی ٹی پی مخالف فضائی کارروائی کو افغان طالبان کے لیے ایک واضح وارننگ قرار دے رہے ہیں، جبکہ افغان قیادت اسے اشتعال انگیزی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی بتا رہی ہے۔ سرحد کے دونوں اطراف بیانات کی جنگ جاری ہے، مگر اصل سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا پاک افغان حالیہ کشیدگی محض انھی حملوں اور بیان بازی تک محدود رہے گی یا میدانِ عمل میں مزید شدت اختیار کرے گی۔

 

واضح رہے کہ 21اور22 فروری کی درمیانی شب پاکستان نے انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر افغانستان کے تین صوبوں ننگرہار، پکتیکا اور خوست میں کالعدم ٹی ٹی پی کے سات مراکز کو نشانہ بنایا ہے، جس میں سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 80 سے زائد شدت پسند ہلاک ہوئے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے ننگرہار میں نیا مرکز نمبر 1 اور 2 خارجی اسلام اور خارجی ابراہیم مراکز کو نشانہ بنایا گیا جبکہ خوست میں خارجی فتنہ الخوارج کے مولوی عباس مرکز کو نشانہ بنایا گیا جبکہ پکتیکا میں خارجی ملا رہبر اور خارجی مخلص یار کے ٹھکانوں پر حملے کئے گئے ۔ کارروائی کا مقصد پاکستان میں دہشتگرد حملوں میں ملوث نیٹ ورک کو کمزور کرنا بتایا گیا ہے، پاکستانی حکام نے شہری آبادی، مساجد یا مدارس کو نشانہ بنانے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی فضائی کارروائی مخصوص دہشتگرد کیمپوں تک محدود تھی، حکام کے مطابق سرحد پار مبینہ پناہ گاہوں کا معاملہ افغان حکام کے ساتھ متعدد بار اٹھایا گیا مگر مؤثر پیش رفت نہ ہونے پر یہ قدم اٹھایا گیا۔حکام کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی فضائی کارروائی افغان ریاست یا عوام کے خلاف نہیں بلکہ دہشتگرد عناصر کے خلاف تھی، علاقائی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ کسی ملک کی سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہو۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ حالیہ مہینوں میں پاکستان میں ہونے والے خودکش حملوں اور دہشتگردی کی بڑی وارداتوں کے تانے بانے افغانستان میں موجود عناصر سے ملتے ہیں، پاکستان نے افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر بمباری سیلف ڈیفنس میں کی ہے۔

 

دوسری جانب افغان طالبان نے ان حملوں کو افغانستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریحا خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ حملوں کے بعد کابل میں پاکستانی سفیر کو طلب کر کے احتجاجی مراسلہ تھمایا گیا، جبکہ وزارتِ دفاع کے ترجمان نے دھمکی دی ہے کہ پاکستان کے حملوں کا جواب ’مناسب وقت‘ پر دیا جائے گا۔ افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ صوبہ ننگرہار کے ضلع بہسود میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا جہاں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 17 افراد ہلاک ہوئے۔ پکتیکا میں ایک مدرسے کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، افغان حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کو نشانہ بنانا کسی صورت قابل قبول نہیں اور یہ اقدام خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

پاکستانی فضائیہ نے افغانستان میں کن ٹھکانوں کو نشانہ بنایا

دفاعی ماہرین کے مطابق افغانستان میں طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد پاکستان میں سرحد پار دہشتگردانہ کارروائیوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہےپاکستان کا مؤقف ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں اور وہاں سے پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ تاہم افغان طالبان ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی بھی کارروائی کرنے سے انکاری ہیں۔ مبصرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ برسوں میں سرحدی جھڑپوں اور سفارتی کشیدگی کی وجہ سے باہمی اعتماد کا فقدان مسلسل گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ تاہم پاکستان کی حالیہ فضائی کارروائی افغان طالبان کیلئے ایک ’وارننگ‘ تھی کہ پاکستان سرحد پار پناہ گاہوں کو مزید برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس کارروائی سے پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ افغانستان میں موجود کوئی بھی دہشت گرد گروپ اگر پاکستانی سکیورٹی فورسز یا عوام پر حملہ کرے گا تو اسے "گھر میں گھس کر مارا جائے گا” اور مزید لحاظ نہیں کیا جائے گا۔ اب احتجاجی مراسلے اور مفاہمتی امن وفود کو کابل نہیں بھیجا جائے گا بلکہ جہاں کہیں بھی پاکستان مخالف دہشت گردی کا منبع ہو گا، اسے وہیں ٹھوک دیا جائے گا۔ کسی بھی دہشتگرد گروپ سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ ماہرین کے مطابق سرحد پار حملوں میں اضافہ، ٹی ٹی پی کو مبینہ کھلی چھوٹ اور پاکستان کے تحفظات کا مؤثر ازالہ نہ ہونے کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات غیر معمولی حد تک خراب ہو چکے ہیں اور باہمی اعتماد شدید کمزور پڑ گیا ہے۔ تاہم حالیہ فضائی حملوں کے بعد آنے والے دنوں میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

Back to top button