پی ٹی آئی کی شاندانہ گلزار کا SHO گبر سنگھ سے میچ کیوں پڑا ؟

خیبرپختونخوا میں پولیس اصلاحات کے تمام دعوے اُس وقت ریت کی دیوار ثابت ہو ئے جب تحریک انصاف کی اپنی ہی خاتون رکنِ قومی اسمبلی شاندانہ گلزار نے پشاور کے ایک تھانے کے فرض شناس اور نڈر پولیس افسر "گبر سنگھ” کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانا شروع کر دیا، شاندانہ گلزار نے اپنے احکامات کی بجاآوری نہ کرنے پر نہ صرف ایس ایچ او کے خلاف احتجاج اور پریس کانفرنسز کیں بلکہ ایس ایچ او عبدالعلی خان عرف گبر سنگھ کو سبق سکھانے کیلئے عدالت سے رجوع کرکے انھیں فوری عہدے سے برطرف کرنے کا بھی مطالبہ کر دیا
مبصرین کے مطابق عوامی انداز، سخت گیر طرزِ عمل اور دبنگ اقدامات کی وجہ سے "گبر سنگھ” کے نام سے پہچانے جانے والے ایس ایچ او عبدالعلی خان جرائم پیشہ عناصر کے لیے خوف اور اہلِ اقتدار کے لیے ایک چبھتا ہوا سوال بن چکے ہیں۔ وہی پولیس، جسے پی ٹی آئی نے اپنے دورِ اقتدار میں غیرسیاسی اور خودمختار بنانے کے دعوے کیے، اب اسی پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی سیاسی عزائم پورے نہ ہونے پر کھل کر اسی پولیس کے سامنے آچکے ہیں جس نے پی ٹی آئی کا ’غیرسیاسی، بااختیار اور عوام دوست پولیس‘ کا خواب چکنا چور کر دیا ہے۔ ناقدین کے مطابق ایم این اے شاندانہ گلزار خان اور ایس ایچ او عبدالعلی عرف ’گبر سنگھ‘ کے درمیان جاری کشیدگی صرف ایک مقامی تنازعہ نہیں بلکہ یہ اس وسیع تر بیانیے پر سوالیہ نشان بھی ہے جس کے تحت تحریک انصاف اپنی پولیس اصلاحات کو ملکی ماڈل قرار دیتی آئی ہے۔ مبصرین کے بقول خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت ہمیشہ سے یہ دعویٰ کرتی آئی ہے کہ اس نے پولیس کو "غیر سیاسی، خودمختار اور میرٹ پر” استوار کیا ہے۔ مگر جب خود پی ٹی آئی کی ہی ایک منتخب رکن قومی اسمبلی اپنی ہی حکومت کی پولیس کے خلاف سڑکوں پر آ جائے، تو سوال ضرور اٹھتا ہے کہ کیا خیبر پختونخوا کی پولیس واقعی غیر جانبدار ادارہ بن چکی ہے یا اب بھی سیاسی مفادات اور طاقت کی کشمکش میں استعمال ہو رہی ہے؟
خیال رہے کہ پشاور سے رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار خان گذشتہ ایک ہفتے سے اپنے حلقے بڈھ بیر پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ انھوں نے پولیس حکام سے مطالبہ کر رکھا ہے کہ وہ ایس ایچ او کے غیرقانونی اقدامات کا نوٹس لے کر اسے معطل کریں۔شاندانہ گلزار کے مطابق ’ایس ایچ او عبدالعلی خان علاقے میں اختیارات کا ناجائز استعمال کر کے چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کر رہے ہیں اور بے گناہ افراد پر تشدد میں بھی ملوث ہیں۔‘ ’ایس ایچ او نے علاقے میں اپنا قانون بنا رکھا ہے۔ وہ اگر حق پر ہیں تو ہم ساتھ کھڑے ہوں گے، وہ جرائم کے خلاف اقدامات کریں گے تو عوام ساتھ دیں گے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’عوام کو ہراساں کرنے کا حق کسی کو نہیں ہے میں اُن کے خلاف کھڑی رہوں گی۔ قانون کے نام پر شہریوں کو ہراساں کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘
شاندانہ گلزار نے ایس ایچ او گبر سنگھ کے خلاف احتجاج کے ساتھ ساتھ ایس ایچ او کے خلاف کارروائی کیلئے عدالت سے بھی رجوع کر رکھا ہے۔ ایم این اے شاندانہ گلزار کے وکیل ایڈووکیٹ معظم بٹ کے مطابق عدالت سے رجوع کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پولیس آئین اور قانون کے مطابق فرائض انجام دے، عدالت کو بتایا گیا ہے کہ ایس ایچ او شہریوں کے گھروں میں گھستے ہیں اور ان کے ساتھ ناروا سلوک کرتے ہیں۔ ’ایس ایچ او کی سربراہی میں عوام پر تشدد کر کے ان کی ویڈیوز بنائی جاتی ہیں اور شہریوں کو مختلف طریقوں سے ہراساں کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا ہے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ایس ایچ او نے اپنا نام گبر سنگھ رکھا ہوا ہے جس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے فرائض کسی اور انداز میں سرانجام دیتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق شاندانہ گلزار کے ایس ایچ پر الزامات کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ شاندانہ گلزار نے عدالت سے رجوع کر کے نہ صرف عبدالعلی خان کی معطلی کی استدعا کی ہے بلکہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنانے کا بھی مطالبہ کیا ہے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
واضح رہے کہ پشاور پولیس کے سب انسپکٹر عبدالعلی خان کے منفرد سٹائل کی وجہ سے لوگ انھیں گبر سنگھ کے نام سے پکارتے ہیں جبکہ بعض افراد کا کہنا ہے کہ عبدالعلی خان اپنے آپ کو خود گبر سنگھ کہلواتے ہیں۔
ایک ہاتھ میں چادر اور دوسرے ہاتھ میں تسبیح، لمبے بالوں کے ساتھ دبنگ انداز کیگبر سنگھ کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔ دوسری جانب محکمہ پولیس کے افسران عبدالعلی کو بے باک اور غیر سیاسی افسر سمجھتے ہیں۔سب انسپکٹر عبدالعلی کے بارے میں پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ ’جرائم کو کنٹرول کرنے کے لیے اُن جیسے تھانیدار ہونے چاہییں جو کسی کی سفارش یا دباؤ کو برداشت نہیں کرتے بلکہ صرف اور صرف قانون پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔‘عبدالعلی کے بارے میں اُن کے ساتھی پولیس افسروں کا موقف ہے کہ وہ اپنے افسروں کی بھی نہیں سنتے اسی لیے ان کی تعیناتی اکثر متنازع رہتی ہے۔پولیس افسروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایس ایچ او عبدالعلی جس علاقے میں جاتے ہیں وہاں شریعت کی باتیں کرتے ہیں۔ جُوئے اور ناچ گانے پر پابندی عائد کرتے ہیں اور منشیات فروشوں کے خلاف گھیرا تنگ کرکے ان کے خلاف کارروائی کرتے ہیں۔گبر سنگھ کے ساتھ کام کرنے والے پولیس اہلکاروں کے مطابق عبدالعلی سے شریف لوگ نہیں بلکہ جرائم پیشہ افراد خوف زدہ رہتے ہیں۔
تاہم مبصرین کے مطابق ایس ایچ او گبر سنگھ اور پی ٹی آئی رکن اسمبلی شاندانہ گلزار کے مابین اختلافات دراصل ایک سیاسی مسئلہ بن چکے ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ہر سیاسی رہنما چاہتا ہے کہ اس کے علاقے کا ایس ایچ او اس کی بات مانے۔ روزانہ اس کے ڈیرے پر حاضری لگائے اور ان کے حلقے میں ان کی مرضی کے مطابق کارروائیاں کرے۔ مگر یہاں صورت حال مختلف ہے۔ یہاں معاملہ یہ ہے کہ شاندانہ گلزار نے ایس ایچ او پر لوگوں کے گھروں میں گُھسنے اور تشدد کا الزام لگایا ہے مگر ایم این اے سردست کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکیں۔‘ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایس ایچ اور کے خلاف شکایات دراصل ایک سیاسی معاملہ ہے۔ چونکہ اب معاملہ عدالت میں ہے تو فیصلہ بھی وہی کرے گی۔ تاہم یہ اس وقت تک سامنے آنے والے حقائق سے بالکل واضح ہے کہ شاندانہ گلزار اور ایس ایچ او عبدالعلی کے مابین اختلافات محض انتظامی معاملہ نہیں رہا بلکہ سیاسی کشمکش کا ایک تازہ میدان ہے۔مبصرین کے بقولشاندانہ گلزار اور ’گبر سنگھ‘ کے درمیان جاری تنازعہ کئی پرتیں رکھتا ہے — ایک جانب عوامی نمائندے کی پکار ہے، تو دوسری جانب ایک دبنگ پولیس افسر کا دفاع۔ یہ معاملہ صرف عبدالعلی خان یا شاندانہ گلزار کا نہیں بلکہ ایک نظام کا ہے اور نظام وہی بہتر مانا جائے گا جس میں طاقتور سے بھی سوال کیا جا سکے اور کمزور کو بھی تحفظ ملے۔ اب دیکھتے ہیں مظلوموں کو تحفظ فراہم کرنے والے گبر سنگھ کو آنے والے دنوں میں کن حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
