شہباز شریف کو اپنی حکومت بارے خدشات کیوں پیدا ہونے لگے؟

وزیر اعظم شہباز شریف جہاں مختلف اوقات میں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ایک پیج پر ہونے کے راگ الاپتے دکھائی دیتے ہیں وہیں دوسری جانب وہ اپنے اقتدار کی ناپائیداری بارے متفکر بھی نظر آتے ہیں۔سال 2024 کے آخری روز 31 دسمبر کو 5 سالہ معاشی ترقیاتی پروگرام ’اُڑان پاکستان‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہاکہ ملک کی بہتری اور ترقی کے لیے ان کو آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور ادارے کا مکمل تعاون حاصل ہے۔ ایسا تعاون اُنہوں نے اس سے قبل زندگی میں نہیں دیکھا۔ وزیراعظم نے مزید کہاکہ اُن کو وسوسے بھی آتے ہیں لیکن اللہ کرے کہ یہ شراکت داری اور تعاون چلتا رہے۔
وزیراعظم کے اس بیان پر جہاں سوشل میڈیا پر تبصروں کا طوفان امڈ آیا اور لوث استفسار کرتے دکھائی دئیے کہ کیا اسٹیبلشمنٹ اپنا کوئی نیا گھوڑا میدان میں اتارنے والی ہے؟ کیا واقعی شہباز شریف حکومت کو کوئی خطرات لاحق ہیں کہ وہ اس طرح اپنے خدشات کا اظہار سرعام کرنا شروع ہو گئے ہیں؟ کیا واقعی شہباز شریف کی چھٹی ہونےوالی ہے یا بزبان نبیل گول شہباز شریف جلد ریٹائر ہونے والے ہیں؟
معروف صحافی اور تجزیہ نگار ابصار عالم کے مطابق موجودہ حکومت ایک ہائبرڈ سرکار ہے، اور ایسے نظام میں خدشات دونوں طرف ہوتے ہیں۔ سویلین حکومت یہ سمجھتی ہے کہ آیا ملٹری اسٹیبلشمنٹ اُن کے کام سے خوش ہے یا نہیں اور دوسری طرف ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو بھی سویلین حکومت کی کارکردگی پر تحفظات ہوتے ہیں۔ابصار عالم کے بقول دوسری بات یہ کہ شہباز شریف کی حکومت ایک مخلوط حکومت ہے اور اِس میں پاکستان پیپلز پارٹی سب سے بڑی اسٹیک ہولڈر ہے، پیپلز پارٹی شکایات کرتی رہتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اِس حکومت میں ایم کیو ایم بھی شامل ہے وہ بھی شکایات کرتی ہے۔ لیکن اس وقت سب سے بڑا چیلنج معاشی چیلنج ہے، اگر معیشت ٹھیک ہوگی تو باقی سب بھی ٹھیک ہو جائےگا۔ تاہم موجودہ حالات میں شہباز شریف حکومت کی چھٹی کا امکانات دکھائی نہیں دیتے۔
دوسری جانب معروف صحافی اور تجزیہ نگار امتیاز عالم کے مطابق اُنہیں آئیڈیا نہیں کہ شہباز شریف کو اپنی حکومت کے خاتمے کے وسوسے کیوں آ رہے ہیں اور وزیراعظم نے یہ بات کس تناظر میں کی ہے، تاہم یہ حقیقت ہے کہ سویلین حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تعلق ہمشہ مشکوک ہوتا ہے اور وہ گاہے گاہے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہتے ہیں
تاہم پلڈاٹ کے صدر احمد بلال محبوب کے مطابق ہمارے ماضی کے تجربات یہی بتاتے ہیں کہ حکومتی ذمہ داران کے وسوسے بلا جواز نہیں ہوتے۔ اکثر اوقات بظاہر ایسا لگتا ہے کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہیں اور دونوں کے درمیان مثالی تعلقات ہیں لیکن پھر اچانک سے دراڑ آجاتی ہے۔ نواز شریف کے ساتھ ایسا ہوا، اس کے بعد عمران خان کے ساتھ بھی یہ ہوچکا ہے۔اب اگر شہباز شریف خدشات کا اظہار کر رہے ہیں تو ضرور اس کے پیچھے بھی کوئی وجہ ہو گی۔ کیونکہ فوجی ترجمان چونکہ پوری فوج کی نمائندگی کرتے ہیں اور وہ اپنی پریس کانفرنسز میں اکثر گورننس ٹھیک کرنے کی بات کرتی ہیں جس سھ معلوم ہوتا ہے کہ فوجی قیادت میں گورننس کو لے کر بہت سے تحفظات پائے جاتے ہیں۔ تاہم جب تک اس حوالے سے کوئی بات کھل کر سامنے نہیں آتی تمام باتیں محض قیاس آرائیاں ہی ہیں۔
تاہم لیگی قیادت کے قریب سمجھے جانے والے معروف صحافی اور تجزیہ نگار سلمان غنی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کا سب سے بڑا کریڈٹ ہی یہی ہے کہ ریاست ان کے پیچھے کھڑی ہے۔ جس طرح فوج اور آرمی چیف نے معاشی مشکلات کم کرنے کے حوالے سے حکومت کے ساتھ تعاون کیا وہ مثالی ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ ہمیں اگر آگے کی طرف جانا ہے تو اس کے لیے سیاسی استحکام ناگزیر ہے جس کے لیے سب کو ایک دوسرے کو قبول کرنا ہوگا اور سب کو بات چیت کرنا ہوگی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ’اڑان پاکستان‘ پروگرام کا افتتاح کیا، لیکن پاکستان تب ہی اڑان بھر سکتا ہے جب ملک میں سیاسی استحکام ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ شہباز حکومت کو کوئی خطرہ نہیں اور نہ ہی موجودہ ملکی حالات میں کسی قسم کی بڑی تبدیلی کے امکانات دکھائی دیتے ہیں۔ کیونکہ ملکی معیشت مستحکم ہو رہی ہے، معاشی اعشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں ایسے میں کبھی بھی اسٹیبلشمنٹ کسی نئے تجربے کا قطعا رسک نہیں لے گی۔
