عدالت نے عوام کے خلاف اور مافیا کے حق میں فیصلہ کیوں دیا؟

 

 

 

لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم کی جانب سے مریم حکومت کا نافذ کردہ پراپرٹی پروٹیکشن آرڈیننس معطل ہونے کے بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ عدالت نے عوامی مفاد کے خلاف فیصلہ کیوں دے دیا۔ معروف صحافی انصار عباسی کے مطابق تلخ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ نظام مظلوم مالک کو تحفظ دینے کے بجائے قابض کو مہلت پر مہلت فراہم کرتا ہے، جس کے باعث قبضہ مافیا مزید مضبوط ہو جاتا ہے اور حالیہ عدالتی فیصلے سے یہ مافیا اور بھی تگڑا ہو جائے گا۔

 

یاد رہے کہ یہ آرڈیننس پنجاب حکومت کی جانب سے قبضہ مافیا کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کو قانونی تحفظ دینے کے لیے نافذ کیا گیا تھا، تاہم نفاذ کے چند ہی دن بعد لاہور ہائی کورٹ نے اس پر عملدرآمد روک دیا اور اس کے تحت دیے گئے تمام قبضے واپس کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ عدالت نے معاملے کی سماعت کے لیے فل بینچ تشکیل دینے کا بھی عندیہ دیا ہے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس عالیہ نیلم نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر یہ قانون نافذ رہتا تو جاتی امرا بھی آدھے گھنٹے میں خالی کروایا جا سکتا تھا۔

 

انصار عباسی زمینوں کے تنازعات کی سنگینی بیان کرنے کے لیے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہیں جو اسلام آباد کے ایک منظم سی ڈی اے سیکٹر میں پیش آیا، وہ بتاتے ہیں کہ ایک میڈیا پروفیشنل نے اپنا نیا تعمیر شدہ گھر کرائے پر دیا۔ چند ماہ بعد کرایہ دار نے کرایہ دینا بند کر دیا اور حیران کن طور پر مالک کو یہ کہہ دیا کہ اب یہ گھر اسی کا ہے اور اگر اعتراض ہے تو عدالت سے رجوع کر لیا جائے۔ واضح ملکیت، سی ڈی اے کا ریکارڈ اور تمام قانونی دستاویزات موجود ہونے کے باوجود کرایہ دار نے عدالت سے حکمِ امتناعی حاصل کر لیا اور یہ مقدمہ برسوں چلتا رہا۔

کئی سال بعد جب فیصلہ مالک کے حق میں آنے والا تھا تو قابض خاموشی سے مکان چھوڑ گیا، مگر جاتے جاتے وہاں ایک اور شخص کو بسا گیا۔ یوں نیا قبضہ، نیا دعویٰ اور ایک اور طویل قانونی جنگ شروع ہو گئی۔ بالآخر مالک نے ہار مان کر فیصلہ کیا کہ وہ گھر کرائے پر دینے کے بجائے خود رہائش اختیار کرے گا۔

 

انصار عباسی کے مطابق یہ ایک واقعہ نہیں بلکہ ایسی لاکھوں کہانیاں ہیں جو پورے ملک میں بکھری پڑی ہیں۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر اسلام آباد جیسے منظم شہر میں، جہاں ملکیت کا کوئی ابہام نہیں، یہ سب ممکن ہے تو ملک کے دیگر حصوں میں زمینوں کے مالکان کا کیا حال ہوگا۔ ان کے مطابق زمین کے زیادہ تر تنازعات ایک یا دو گھنٹوں میں محض سرکاری ریکارڈ دیکھ کر حل کیے جا سکتے ہیں، کیونکہ محکمہ مال یا متعلقہ اتھارٹی کے پاس واضح طور پر موجود ہوتا ہے کہ زمین کس کی ہے اور دعویٰ کس بنیاد پر کیا جا رہا ہے۔ تاہم بدقسمتی سے محکمہ مال اکثر اپنا کام دیانت داری سے نہیں کرتا، اور جب معاملہ عدالتوں میں چلا جاتا ہے تو فیصلوں میں برسوں بلکہ دہائیاں لگ جاتی ہیں۔

 

انصار عباسی مری کی ایک مثال بھی دیتے ہیں جہاں ایک شخص کی زمین پر ناجائز قبضہ کر کے چار دیواری کر دی گئی۔ عدالت نے کئی سال بعد فیصلہ دیا کہ زمین اصل مالک کی ہے۔ مالک نے قبضہ واپس لے لیا، مگر کچھ عرصے بعد وہی قابض دوبارہ آ گیا۔ اب کہا جا رہا تھا کہ چونکہ یہ نیا قبضہ ہے، اس لیے نیا کیس دائر کیا جائے یا توہینِ عدالت کی درخواست دی جائے۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ اگر ایک عدالتی فیصلے کے بعد بھی مالک محفوظ نہیں تو انصاف کہاں ہے؟ انصار عباسی کے مطابق یہی وہ خلا ہے جس نے قبضہ مافیا کو طاقتور بنایا ہے۔ سرکاری اداروں کی نااہلی، محکمہ مال کی بدعنوانی اور سست عدالتی نظام نے مل کر ان عناصر کو مضبوط کیا جو دھونس، طاقت اور قانونی پیچیدگیوں کے ذریعے دوسروں کی جائیدادوں پر قابض ہو جاتے ہیں۔ اسی پس منظر میں پنجاب حکومت نے پراپرٹی پروٹیکشن کا قانون متعارف کرایا تھا تاکہ ریکارڈ کی بنیاد پر فوری فیصلے کیے جائیں اور اصل مالک کو اس کا حق دلایا جا سکے۔ ابتدائی طور پر اس قانون کے تحت تیز رفتاری سے فیصلے بھی ہوئے، تاہم پھر معاملہ عدالت میں چلا گیا اور اس پر عملدرآمد روک دیا گیا۔

 

اگرچہ یہ معاملہ اس وقت زیرِ سماعت ہے اور قانونی پہلوؤں پر حتمی رائے دینا قبل از وقت ہے، تاہم انصار عباسی کے مطابق ایک بنیادی سوال ضرور اٹھتا ہے کہ اگر قانون میں خامیاں ہیں تو کیا ہمارا موجودہ نظام واقعی اس سے بہتر ہے؟ کیا یہ نظام مظلوم مالک کو تحفظ دیتا ہے یا قابض کو قانونی سہولت فراہم کرتا ہے؟ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا ردعمل بھی سامنے آیا، جس میں انہوں نے اس قانون کو عوامی ریلیف کا ذریعہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے سے قبضہ مافیا کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بہتر یہی ہوگا کہ عدلیہ اور انتظامیہ آمنے سامنے آنے کی بجائے مل بیٹھ کر اس مسئلے کا قابلِ عمل حل تلاش کریں۔ قانون سازی کا مقصد تصادم نہیں بلکہ عوام کو انصاف اور تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے۔

مریم نواز سے میچ پڑنے کے بعد جسٹس عالیہ کی تبدیلی کا امکان

انصار عباسی کے مطابق ایک ایسا شفاف، مؤثر اور سبک رفتار نظام تشکیل دینے کی ضرورت ہے جو یقینی بنائے کہ جس کی زمین ہے، وہ اسی کو ملے، اور فوری طور پر۔ اگر اس مقصد کے لیے قانونی اصلاحات درکار ہیں تو ضرور کی جائیں، اور اگر نئے قانون میں خامیاں ہیں تو انہیں دور کیا جائے، لیکن زمینوں کے تنازعات کو لٹکانے کا سلسلہ مزید برداشت کے قابل نہیں کیونکہ اگر ایک شخص اپنی ہی زمین پر غیر محفوظ ہے تو پھر اس ملک میں تحفظ کا تصور ہی بے معنی ہو جاتا ہے۔

Back to top button