سپریم کورٹ کے ججز کی لڑائی چوک چوراہوں میں کیوں آ گئی؟

سینیئر صحافی انصار عباسی نے کہا ہے کہ پاکستانی سپریم کورٹ کے جج صاحبان آپس میں دست و گریبان ہو کر لڑتے ہوئے اب چوک چراہوں میں آ چکے ہیں جس سے عدلیہ کی رہی سہی ساکھ کا بھی جنازہ نکل گیا ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں انصار عباسی کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے ججوں کا آپس کا اختلاف ایک ایسی لڑائی میں بدل چکا جو سب کے سامنے عوامی سطح پر لڑی جا رہی ہے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے ایک دوسرے بارے عدالتی حکم ناموں اور خط و کتابت میں اس طرح بات کی جا رہی ہے کہ دیکھنے اور سننے والے حیران ہیں۔ وہ یہ سوال کرنے پر مجبور ہیں کہ یہ سپریم کورٹ کے ججوں کو ہو کیا گیا ہے؟ یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ کیا اس طرح چوک چوراہوں میں لڑنے والے لوگ اس قابل تھے کہ سپریم کورٹ کے جج بنائے جاتے۔ انصار عباسی کہتے ہیں کہ لوگوں میں اختلافات ہوتے ہیں لیکن جس انداز میں انصاف دینے والے ججز کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف نا انصافی پر مبنی باتیں کی جا رہی ہیں یہ پہلے نہ کبھی سنا اور نہ کبھی دیکھا تھا۔ جج حضرات کی اس کھلے عام لڑائی سے پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت ایک ایسا تماشہ بن چکی جس پر سب تبصرے کر رہے ہیں۔ آپس کے اختلافات اور رنجشوں کو ساری دنیا کے سامنے کھولنا اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کو جواب دینے کی بجائے کیا یہ اچھا نہ ہوتا کہ سپریم کورٹ کے تمام جج حضرات ایک ساتھ بیٹھ کر ان مسئلوں کو بند کمروں میں اس طرح حل کرنے کی کوشش کرتے کہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں، عوام پر سپریم کورٹ اور عدلیہ پر اعتماد بحال ہو۔
انصار عباسی کہتے ہیں کہ جس انداز میں ٹی وی چینلز، سوشل میڈیا اور عوامی سطح پر ججوں کے رویوں پر بات ہو رہی ہے اسے سن کر افسوس ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ کے اندر کی موجودہ تقسیم اور ججوں کے آپسی تنائو اور لڑائی کا عمومی طور پر سیاسی کیسوں سے تعلق ہے۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے ججوں کو اس تاثر کی بنا پر دیکھا جائے کہ کس کا کس سیاسی دھڑے کی طرف جھکائو ہے اور کون کس سیاسی جماعت کے حق اور کس سیاسی جماعت کے خلاف فیصلہ کر سکتا ہے۔ محسوس ایسا ہوتا ہے کہ جس سیاسی تقسیم کا پورا معاشرہ شکار ہو چکا ہے اُس کا سپریم کورٹ بھی شکار ہو چکی ہے۔ یہ وہ تاثر ہے جسے ہر حال میں ختم ہونا چاہئے اور جس کے لیے تمام ججوں کو آپس میں مل بیٹھ کر غور و خوض کرنا چاہیے۔سیاسی مقدمات سے متعلق آپس میں ان لڑائیوں کی بجائے کتنا اچھا ہوتا کہ سپریم کورٹ کے جج اس نکتہ پر سر جوڑ کر بیٹھتے کہ کس طرح پاکستان میں انصاف کے نظام میں بہتری لائی جائے تاکہ ہر شخص کو سستا اور فوری انصاف مہیا کیا جا سکے اور جو پاکستان کی عدلیہ کی ریپوٹیشن ہے اُسے بہتر بنایا جائے۔
انصار عباسی کہتے ہیں کہ میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے دور میں سپریم کورٹ کے اندر جو تقسیم نظر آتی تھی آج اُس سے بھی بُری حالت ہے۔ اب تو سپریم کورٹ کے جج اپنے فیصلوں میں ایک دوسرے پر طعنہ سازی کرتے ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ اگر دو ججوں نے یہ کہا کہ آٹھ ججوں کا فیصلہ یعنی اکثریتی فیصلہ غیر آئینی ہے اور اُس پر آئینی اداروں کو عملدرآمد نہیں کرنا چاہیے تو اکثریت والے ججوں نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ دو ججوں نے جو اپنے فیصلے میں لکھا وہ ججزکے منصب کے منافی ہے ، اس سےسپریم کورٹ کی سالمیت کمزور ہوتی ہے اور یہ انصاف کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش ہے۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کو ون مین شو کے طعنے بھی دیے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب جسٹس منصور علی شاہ نے بھی اقتدار کے لالچ میں اپنی زندگی بھر کی ساکھ کا جنازہ نکال دیا ہے اور اب ان پر بھی عمراندار جج ہونے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ منصور علی شاہ جج کی بجائے اب ایک گینگ لیڈر کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
دوسری جانب سپریم کورٹ کے اندرونی معاملات کے متعلق خط و کتابت میڈیا کو لیک کی جا رہی ہے۔ اگر ایک طرف چیف جسٹس کی طرف سے رجسٹرار کو آٹھ ججوں کے 14 ستمبر کو جاری کیے گئے آرڈر یا وضاحت کے متعلق سوال میڈیا اور سوشل میڈیا میں وائرل ہو گئے تو دوسری طرف جسٹس منصور علی شاہ نے ججز کمیٹی کے بائیکاٹ کرنے پر جن تحفظات کا اظہار کیا وہ بھی سب کے سامنے آ گئے۔ یعنی جو لڑائی سپریم کورٹ کے اندر ہے اُسے چھپانے کی بھی کوئی کوشش نہیں کی جا رہی بلکہ سب کچھ عوام کے سامنے کھول کر رکھا جا رہا ہے جس سے عدالت عظمی کے ججوں کے بیچ تلخیاں اور تنائو میں مزید اضافہ ہو رہا ہے ۔ انصار عباسی کہتے ہیں کہ یہ جو سب کچھ ہو رہا ہے اس میں کسی جج کی جیت نہیں بلکہ سب کی ہار ہے اور سب سے اہم بات کہ اس سے سپریم کورٹ کے احترام اور اُس کی حیثیت کو قوم کی نظروں میں سخت نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس کا ذمہ دار ججوں کے علاوہ اگر کوئی ہے تو مجھے بتا دیں۔
