گنڈاپور حکومت عوام کو سستی بجلی کی فراہمی میں رکاوٹ کیوں بن گئی ؟

ملک میں بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتوں سے ستائے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کےلیے وفاقی حکومت نے چاروں صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر مستقل طور پر بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 6 روپے کمی کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا حکومت نے اس حوالے سے وفاقی حکومت سے تعاون کرنے سے انکار کر دیا ہے جس کے بعد بجلی سستی کرنے کا حکومتی فیصلہ کھٹائی میں پڑتا دکھائی دیتا ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے بجلی 6 روپے یونٹ سستی کرنے کا پلان تیار کر کے آئی ایم ایف سے شیئر کردیا ہے، تاہم عالمی مالیاتی ادارے نے ابھی تک اس کی توثیق نہیں کی بلکہ اس منصوبے کی مزید تفصیلات مانگ لی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس منصوبے کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتیں 2800 ارب روپے کی فنڈنگ کا بندوبست کریں گی۔ وفاقی حکومت پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام سے کٹوتی سمیت بجٹ میں بعض شعبوں کو دی جانے والی سبسڈیزختم کر کے اور کچھ کمرشل قرضے لے کر 1400 ارب روپے اکٹھے کریگی جبکہ باقی 1400 ارب روپے کی آدھی رقم چاروں صوبائی حکومتیں نیشنل فنانس کمیشن یعنی این ایف سی کے تحت ملنے والے اپنے حصے کی رقم سے کٹوائیں گی۔ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا کی حکومت نے این ایف سی سے اپنے حصے کی رقم دینے سے صاف انکارکردیا ہے جب کہ دوسری جانب وزارت خزانہ بھی اس منصوبے کی اونر شپ لینے سے انکاری ہے تاہم وزیراعظم آفس اس منصوبے کو کامیاب بنانے کےلیے سرتوڑ کوششیں کررہا ہے۔

کیا نوٹوں کی بارش نے اولمپیئن ارشد ندیم کو ابنارمل کر دیا ہے ؟

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کے اس منصوبے کے تحت 2800 ارب روپے کی ادائیگی کرکے ناکارہ پاورپلانٹس کو ہمیشہ کیلئے بند کرا دیا جائے گا،آئی پی پیزسے معاہدے ختم یا ان کی شرائط میں نرمی کرائی جائیگی۔ اس ضمن میں وفاقی حکومت کی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبے اس منصوبے میں حصہ ڈالنے سے اس لیے بھی کترا رہے ہیں کیوں کہ ایک تو خیبرپختونخوا کے سوا باقی تمام صوبوں کے بجٹ پہلے ہی کنٹرول سے باہر ہو چکے ہیں ،دوسرا یہ کہ اس پلان کا سارا فائدہ پاکستان مسلم لیگ (ن ) کی مرکزی حکومت کو ہوگا۔

وزارت توانائی کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ اس حوالے سے بات چیت ابھی تک بے نتیجہ رہی ہے ۔دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت کے مشیرمالیات مزمل اسلم کے مطابق ان کا صوبہ تو پہلے ہی6 سے7 روپے فی یونٹ سستی ترین بجلی پیدا کرکے اس کے بدلے میں اپنے رہائشی اورصنعتی صارفین کیلئے70 روپے یونٹ تک بجلی خرید رہا ہے،ہم تو وفاقی حکومت سے اس قدرمایوس ہوچکے ہیں کہ اب اپنے لوگوں کو سستی بجلی دینے کیلیے اپنے پاور پراجیکٹس لگانے، اپنی الگ ٹرانسمیشن لائنیں بچھانے اور اپنی ریگولیٹری اتھارٹی بنانے کا سوچ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستانی صارفین کیلیے اس وقت بجلی کی قیمتیں ناقابل برداشت ہوچکی ہیں کیونکہ وہ 76 روپے یونٹ تک ادائیگی کررہے ہیں۔وفاقی حکومت نے 200 یونٹ تک کے صارفین کو 51 فیصد تک عارضی ریلیف دے رکھا ہے لیکن اکتوبر تک انہیں بھی پوری ادائیگی کرنا پڑے گی۔ پاکستان میں صارفین کیلئے بجلی کی فی یونٹ اوسط قیمت 44 روپے ہے جسے حکومت کم کرکے38 روپے یونٹ تک لانا چاہتی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں 301 سے 700 یونٹ تک کے صارفین مختلف قسم کے ٹیکسوں کو شامل کرکے 58 روپےفی  یونٹ ادائیگی کررہے ہیں۔اس سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو 64 روپے فی یونٹ جبکہ کمرشل صارفین کو 76 روپے فی یونٹ بجلی خریدنا پڑتی ہے۔حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ سرکاری پاورپلانٹس کے منافع میں کٹوتی کرکے اور12انڈیپنڈنٹ پاورپروڈیوسرز سے انکی شرائط میں ترامیم کرکے بجلی کی قیمتوں میں کمی کرنا چاہتی ہے۔اس کے علاوہ بعض ناکارہ پاورپلانٹس کو پوری ادائیگی کرکے ان کے ساتھ معاہدوں کو ختم کردیا جائے گا۔مزید براں بعض پاورپلانٹس کومقامی قرضوں کی ادائیگی کردی جائے گی اور2300 ارب روپے کا گردشی قرضہ اتاردیا جائے گا۔سرکاری پاورپلانٹس کے منافع میں کمی سے 1.15روپے فی یونٹ بجلی سستی کرنے کی گنجائش نکالی جائے گی۔اگر حکومت یکمشت ہی 2300 ارب روپے کا سرکلرڈیٹ اتارنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو بجلی کی قیمت 2.83 روپے فی یونٹ سستی کی جاسکے گی۔اس سب کچھ کے باوجود بجلی کے لائن لاسز،چوری اور بجلی کی سبسڈیزکی ریکوری کے مسائل اپنی جگہ موجود رہیں گے۔ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے جب یہ منصوبہ آئی ایم ایف سے شیئرکیا تو اسے اس بارے میں جوابات کی بجائے سوالوں کا زیادہ سامنا کرنا پڑا ،کیونکہ ا س منصوبے کی کامیابی کا تمام تر دارومدار مقامی پاورپروڈیوسرزاور صوبائی حکومتوں کے تعاون کی بنیاد پر ہے۔تاہم وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کو بتادیا ہے کہ پنجاب حکومت تو 699 ارب روپے اپنے حصہ سے دے دیگی،سندھ سے بھی 351 ارب روپے مل سکتے ہیں لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ وفاقی حکومت کو انکار کے باوجود بھی خیبرپختونخوا سے231 ارب روپے ملنے کی امید ہے۔

Back to top button