مفاہمتی سیاست والی پیپلز پارٹی نے اچانک جارحانہ رویہ کیوں اپنا لیا؟

مفاہمت پسند پیپلز پارٹی کی اچانک اپنائی گئی جارحانہ حکمت عملی اور چومکھی لڑائی نے ملکی سیاست میں ہیجان برپا کر رکھا ہے۔چئیرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کی مسلسل امریکہ پر تنقید، شہباز حکومت بارے تحفظات کا اظہار اور عمران خان کی دھلائی کا معاملہ سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہے مبصرین کے مطابق بلاول بھٹو عمران خان اور امریکہ پر بیک وقت تنقید ایک تیر سے دو شکار ہیں ایک طرف وہ امریکہ مخالف عوامی جذبات کو کیش کروانے کیلئے کوشاں ہیں جبکہ دوسری جانب عوام کو یہ باور کروانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ عمران خان اور امریکہ دونوں ایک سکے کے دو رخ ہیں جو ملکر پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر زد لگانا چاہتے ہیں جبکہ شہباز حکومت پر تنقید کر کے بلاول بھٹو عوامی حمایت کے حصول کیلئے حکومت پر مسلسل دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

تجزیہ کاروب کے مطابق پیپلز پارٹی کے حکومت سے کچھ تحفظات ہیں جس کا بار بار ذکر ہوتا ہے ، اسی حوالے سے بلاول بھٹو بھی حکومت پر تنقید کرتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق پیپلز پارٹی سیاسی جماعت ہے اورتمام سیاسی جماعتیں اپنی مقبولیت برقرار رکھنے کیلئے نت نئے بیانات دیتی رہتی ہیں،بلاول بھٹو کے حکومت سے اختلافات سنجیدہ نہیں ،وہ سیاسی بیانیہ بناتے ہیں،سیاسی ساکھ کیلئے حکومت پر تنقید کرتے رہتے ہیں ، تاہم بیان بازی کھ باوجود پیپلز پارٹی کا حکومت کی حمایت چھوڑدینے کا دور تک امکان نہیں ۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بلاول بھٹو کے بیانات سے حکومت کو کچھ نہیں ہو گا،نہ ہی حکومت بلاول بھٹو کے بیانات سے پریشان ہے ، بلاول بھٹو کی حکومت پر تنقید فرینڈلی فائرنگ ہے ،پیپلز پارٹی اور ن لیگ دونوں مجبوریوں کے ساتھی ہیں، پیپلز پارٹی ایک ٹکٹ میں دو مزے لے رہی ہے ،

دوسری جانب بلاول بھٹو کی ایٹمی پروگرام بارے امریکی انتظامیہ پر تنقید اور عمران خان کی دھلائی کو سیاسی بیان بازی کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔

تجزیہ کار پروفیسر حسن عسکری کہتے ہیں کہ پاکستان کے ایٹمی اور میزائل پروگرام پر امریکہ و مغرب کی تنقید نئی بات نہیں ہے اور تنقید کا یہ سلسلہ 1976 سے چلا آرہا ہے۔ البتہ بلاول نے امریکہ اور عمران خان پر بیک وقت تنقید کر کے ایک تیر سے دو شکار کرنے کی کوشش کی ہے۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین کا حالیہ بیان عوام کو خوش کرنے کے لیے تھا تاکہ انہیں مقبولیت مل سکے۔ان کے بقول، اس وقت حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) اور اس کی اتحادی پیپلز پارٹی دونوں ہی جماعتیں عمران خان کو ہدفِ تنقید بنا کر مقبولیت کی خواہاں ہیں۔

مبصرین کے مطابق بلاول بھٹو نے عمران خان کے مقابلے میں ایک متبادل بیانیہ دینے کی کوشش کی ہے جو کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے ایک اچھی حکمتِ عملی ہے۔ بلاول نے اپنی تقریر میں قوم پرست بیانیہ اپنایا ہے جو کہ ریاست کی آواز بھی ہے۔

مبصرین کے مطابق عمران خان کی رہائی سے متعلق ٹرمپ کے ایلچی کے بیانات پر حکمراں جماعت کوئی واضح جواب نہیں دے سکی ہے جب کہ بلاول بھٹو کا بیان اس وجہ سے بھی زیادہ اہمیت حاصل کر رہا ہے کہ کیوں کہ حکومتی وزرا اس صورتِ حال پر کسی واضح بیانیے کے ساتھ سامنے نہیں آئے۔اسی وجہ سے بلاول بھٹو کے بیان کو زیادہ پذیرائی مل رہی ہے۔بلاول نے اپنے بیان سے قومی سلامتی کے اداروں کی سوچ کی ترجمانی کرنے اور ساتھ ہی عمران خان کے امریکہ کے حوالے سے متضاد بیانات کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔مبصرین کے خیال میں اگر حکومت بلاول کے بیانیے کو اپناتی ہے تو یہ اس کے لیے فائدہ مند ہو گا کیوں کہ پہلی مرتبہ موجودہ صورتِ حال پر کوئی واضح متبادل بیانیہ سامنے آیا ہے۔ جس سے جہاں پی ٹی آئی امریکہ بارے دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور ہو گی وہیں امریکہ کیلئے بھی عمران خان کی رہائی بارے کوئی مطالبہ کھل کر سامنے لانا آسان نہیں ہو گا۔

Back to top button