عوام کو لوٹنے والے ڈاکو، ایدھی کو چندہ کیوں دیتے تھے؟

لوگوں کی خدمت کر کے دنیا بھر میں پاکستان کی شناخت بننے والے سماجی رہنما عبد الستار ایدھی مرحوم کی معاشرے میں اتنی عزت و تکریم تھی کہ ڈاکو اور لٹیرے بھی بعض اوقات انہیں پہچان کر چندہ دے دیتے اور ساتھ میں یہ درخواست بھی کرتے کہ ہمارے مرنے کے بعد کفن دفن کا انتظام بھی آپ ہی کیجئے گا۔
فلاحی کاموں کے حوالے سے عبدالستار ایدھی کی خدمات کا چرچا شہروں، دیہاتوں اور جنگلوں میں موجود ڈاکوؤں تک پھیل چکا تھا۔ لوگ ایدھی کو انکے بے لوث خدمت کے جذبے کی وجہ سے نہ صرف چاہتے تھے بلکہ اُن کی تعظیم بھی کرتے تھے۔ عبدالستار ایدھی کی جانب سے عوام کی بے لوث خدمت کی داستان کا آغاز دوسری عالمی جنگ میں استعمال ہونے والی ایک کھٹارا ایمبولینس سے ہوا تھا۔ ایدھی کا تعلق ’بانٹوا میمن‘ کمیونٹی سے تھا۔ وہ قیام پاکستان کے بعد انڈین گجرات سے نقل مکانی کر کے کراچی آ گئے تھے۔ انکی وفا شعار اہلیہ بلقیس ایدھی کے مطابق پاکستان آنے کے بعد ابتدا میں ایدھی صاحب شادی کی تقریبات میں برتن دھونے جاتے، دودھ اور اخبار فروخت کرتے اور اس سے جو بھی آمدن ہوتی وہ چھوٹی موٹی فلاحی سرگرمیوں پر لگا دیتے۔ فلاحی کاموں سے انکی وابستگی کو دیکھتے ہوئے جلد ہی انھیں چندہ بھی ملنا شروع ہو گیا تھا۔ کراچی آ کر ایدھی صاحب نے جو پہلا کام کیا وہ یہ تھا کہ انھوں میٹھادر کے علاقے میں ایک چھوٹے سے کمرے میں ڈسپنسری قائم کی جہاں آس پاس کے علاقوں بلخصوص لیاری میں رہائش پذیر غریب افراد کو طبی سہولیات فراہم کی جاتی تھیں۔
بلقیس ایدھی بتاتی ہیں کہ ایدھی صاحب نے 1954 میں سب سے پہلی ایمبولینس خریدی۔ 1957 میں جب چین سے ایشین فلو کی وبا دنیا بھر میں پھیلی تو عبدالستار ایدھی کو بڑے پیمانے پر فلاحی کام کرنے کا موقع ملا۔ بلقیس ایدھی کے بقول اُن دنوں کراچی میں صحت کا نظام محدود تھا۔ جب فلو کی وبا آئی تو بہت لوگ مرنے لگے، ایدھی صاحب نے چارپائیوں والا کیمپ لگایا، وہ مریضوں کو گھروں سے لاتے تھے اور سول ہسپتال میں جو ڈاکٹر اور عملہ زیرتربیت تھا اُن کے پاس جا کر انھیں ساتھ اپنے کیمپ لے آتے اور مریضوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرواتے۔ تب ایدھی نے شہر میں 17 کے قریب کیمپ لگائے تھے جہاں حکومت کی مدد سے لوگوں کی ویکسینیشن کی جاتی تھی اور اُس کے بعد اُن کا کام بڑھتا ہی چلا گیا۔ بلقیس ایدھی کے مطابق ابتدا میں ایدھی کے پاس بس ایک ہی ایمبولینس تھی لیکن بعد میں اُن کی لگن اور جنون بڑھتا گیا، لوگوں نے انکی مدد کرنا شروع کی اور کچھ عرصے میں ہی ایمبولینسوں کی تعداد بڑھنے شروع ہو گئی۔ آج ایدھی کی پندرہ سو کے لگ بھگ ایمبولینس ہیں۔
بلقیس ایدھی بتاتی ہیں کہ اس وقت اُن کے پاس کئی بے اولاد جوڑوں کی درخواستیں موجود ہیں جو لاوارث بچوں کو گود لینا چاہتے ہیں مگر اب ایسے افراد کو دینے کے لیے بچے ہیں ہی نہیں ہیں۔
ایدھی کے جھولا پراجیکٹ کے بارے میں وہ بتاتی ہیں کہ پہلے پہل کچرے کے ڈھیروں سے روزانہ نومولود بچوں کی لاشیں یا زندہ بچے ملتے تھے۔ اس صورتحال پر ایدھی صاحب رات کو بیٹھ کر مجھ سے مشورہ کرتے تھے۔ وہ پڑھے لکھے نہیں تھے، میں بھی زیادہ پڑھی لکھی نہیں تھی۔ پھر ایک روز انھوں نے کہا کہ ہم جھولے لگائیں گے تاکہ لوگ بچوں کو ماریں نہ اور انھیں پھینکیں نہ کیونکہ کتے نوزائیدہ بچوں کو بھنبھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ ہم نے اپنے سینٹروں کے باہر جھولے لگائے اور لوگوں کو کہا کہ بچوں کو اس میں ڈال دیں، آپ سے کوئی سوال نہیں پوچھے گا۔ بلقیس بتاتی ہیں کہ ہمارے اس اقدام کی علماء نے بہت مخالفت کی اور ہمیں جہنمی قرار دے دیا۔ مولوی حضرات ایدھی سے کہا کرتے تھے کہ تم دوزخ میں جاؤ گے۔ انہوں نے ہمیں کافر قرار دینے کے فتوے بھی دیے۔ لیکن ایدھی صاحب ڈٹے رہے اور انکا ملا حضرات کو یہی کہنا تھا کہ مجھے تمہاری والی جنت میں نہیں جانا۔
بلقیس ایدھی کہتی ہیں کہ انکے شوہر کی معاشرے میں اتنی عزت تھی کہ کئی مرتبہ ان کا ڈاکوؤں سے پالا پڑا تو انہوں نے پہچاننے کے بعد ایدھی صاحب سے نہ صرف معافی مانگی بلکہ ان کو چندہ بھی دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک روز رات کے وقت وہ ٹی بی سے مرنے والی ایک نوجوان لڑکی کی لاش لے کر سانگھڑ جارہے تھے کہ راستے میں گھوڑوں پر سوار ڈاکوؤں نے روک لیا۔ ڈاکووں کا ارادہ لڑکی کے لواحقین کو لوٹنے کا تھا۔ تاہم ایدھی صاحب کے ساتھ گفتگو کے بعد جب انہیں پتہ چلا کہ وہ کس شخص کو روکے کھڑے ہیں تو انہوں نے نہ صرف ان سے معافی مانگی بلکہ ان کو چندہ بھی دیا۔ ڈاکوؤں نے کہا کہ جب ہم مرجائیں گے تو ہمارے ماں باپ بھی ہماری لاش لینے نہیں آئیں گے لیکن ہمیں یقین ہے کہ آپ ہماری لاشوں کو لینے آئیں گے اور دفنائیں گے۔
بلقیس ایدھی کے بقول نوری آباد ٹی بی سینٹر میں ایدھی صاحب نے اپنی زندگی میں ہی دو قبروں کی جگہ کی نشان دہی کر دی تھی تاکہ مرنے کے بعد میں اور وہ اس جگہ دفن ہوں۔ 8 جولائی 2016 کو ایدھی صاحب کی اسی قبر میں تدفین کی گئی جو قبر انھوں نے اپنے لیے بنوائی تھی۔
خیال رہے کہ بلقیس ایدھی نے عبدالستار ایدھی کی میٹھادر میں قائم ڈسپنسری میں بطور زیر تربیت نرس اپنی خدمات کا آغاز کیا تھا۔ عبدالستار ایدھی نے انہیں شادی کی پیشکش کی تو بلقیس بانو نے ہاں کردی۔ بلقیس بتاتی ہیں کہ ایدھی صاحب اور میری عمر میں کافی فرق تھا۔ کئی لڑکیوں نے منع کر دیا تھا کہ اُن کی داڑھی ہے۔ میری والدہ نے مجھ سے پوچھا تو میں نے کہا کہ اُن سے شادی کروا دیں۔ شادی کے بعد میں اکثر لڑتی جھگڑتی تھی کیونکہ ایدھی صاحب نے کبھی نارمل گھریلو زندگی نہیں اپنائی، اپنا گھر لے کر نہیں دیا۔ میں اُن کے پاس رہتی تو ہمارے بچے میری والدہ کے گھر رہتے تھے۔ ابتدا میں ہم ڈسپنسری کی چھت پر رہتے تھے، میرے تین بچے ہوئے تو انھوں نے وہیں ٹی بی وارڈ کھول لیا۔ ڈاکٹرز نے کہا کہ آپ کے بچے چھوٹے ہیں، اب یہاں ٹی بی وارڈ کھل گیا ہے، آپ یہاں سے چلے جاؤ تو ایدھی صاحب نے مجھے میری ماں کے پاس بھیج دیا ۔ اس تین منزلہ عمارت میں فرسٹ فلور پر انتظامی دفتر اور مردوں کا دواخانہ ہے، دوسری منزل پر میٹرنٹی ہوم اور بلقیس ایدھی کا کمرہ جبکہ تیسری منزل پر پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کے کمرے، کلاس روم اور کچن ہے۔
بلقیس بانو کی خواہش اور تقاضے کے باوجود ایدھی صاحب نے انہیں ذاتی گھر نہیں دلوایا۔ تاہم وہ ایدھی سے منسوب ہونے کو اپنے لئے باعث فخر قرار دیتی ہیں۔
