بڑھک باز سہیل آفریدی اچانک مفاہمتی کیوں ہو گئے؟

 

 

اپنی اقتدار کی کرسی کو ڈولتا دیکھ کر بھڑک باز وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے ایک بار پھر مفاہمانہ روش اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تاکہ اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کے احیاء کیلئے کوئی راستہ تلاش کیا جا سکے۔ تاہم مبصرین کا ماننا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے تحریک انصاف کے ساتھ مفاہمت کے تمام دروازے بند کر دئیے ہیں۔ پی ٹی آئی قیادت اب جو مرضی حربے استعمال کر لے عسکری قیادت ان پر دوبارہ اعتماد کرنے پر قطعاً آمادہ دکھائی نہیں دیتی۔

 

وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کے رویے میں یہ مثبت تبدیلی 4 فروری 2026 کو اُس وقت واضح طور پر سامنے آئی، جب انہوں نے شہید کیپٹن عباس خان کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔ بظاہر یہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کا معمولات کا حصہ تھی، مگر پس منظر میں جھانکیں تو یہی شرکت غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتی ہے اور ایک بدلے ہوئے سیاسی رویے کی نشاندہی کرتی ہے کیونکہ 70روز قبل 24 نومبر 2025 کو فیڈرل کانسٹبلری ہیڈکوارٹر پر حملے میں شہید ہونے والے اہلکاروں کی نمازِ جنازہ میں بھی وزیرِ اعلیٰ شریک ہوئے تھے، مگر اس روز کا منظر 4 فروری سے یکسر مختلف تھا۔

 

ذرائع کے مطابق 24 نومبر کو جنازے کے موقع پر وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور کور کمانڈر کے درمیان چند سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ جس کی وجہ سے ماحول کافی کشیدہ ہو گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق نماز جناہ کے دوران کور کمانڈر پشاور نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے صوبے کے حالات کے پیشِ نظر مل بیٹھ کر معاملات حل کرنے کی بات کی، جس پرسہیل آفریدی کا ردِعمل غیر متوقع طور پر انتہائی سخت تھا۔ کور کمانڈر کے مشورے پر سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’آپ نے بیٹھنے کے لائق کچھ چھوڑا ہے؟ ہری پور میں جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا، اس کے بعد آپ کے ساتھ کیسے بیٹھیں؟‘ چند جملوں کی یہ گفتگو ماحول کو کشیدہ کرنے کے لیے کافی تھی۔ اردگرد موجود افراد دونوں شخصیات کے چہروں کے تاثرات سے ہی معاملے کی سنگینی سمجھ گئے تھے۔ ذرائع کے مطابق چند جملوں کے بعد دونوں شخصیات خاموشی سے الگ ہو گئیں۔

خیال رہے کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کور کمانڈرکے مشورے پر رد عمل اتفاقی نہیں تھا کیونکہ اس واقعہ کے ایک روز قبل 23 نومبر 2025 کو ہری پور میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 18 کے ضمنی انتخابات ہوئے تھے، جن میں پی ٹی آئی کو شکست ہوئی اور پارٹی نے نتائج کو دھاندلی زدہ قرار دیا تھا۔ اسی سیاسی پس منظر نے  اس تلخی کو مزید بڑھا دیا تھا۔ اس دن کے بعد خیبرپختونخوا میں سول و عسکری قیادت کے مابین فاصلے بڑھتے گئے۔ وزیرِ اعلیٰ نے شہداء کی نمازِ جنازہ میں شرکت چھوڑ دی، یہاں تک کہ انہوں نے ایک ویڈیو بیان میں شکوہ کیا کہ انہیں شہداء کے جنازوں میں بلایا ہی نہیں جاتا۔ مگر اب خیبرپختونخوا میں منظرنامہ بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔ تقریباً 70 دن بعد سہیل آفریدی نہ صرف دوبارہ ایک جنازے میں نظر آئے بلکہ بعد ازاں ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں کور کمانڈر کے ساتھ بیٹھ کر صوبے کی امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کرتے بھی دکھائی دئیے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان 110دنوں میں وزیرِ اعلیٰ نے سیاست اور حکمرانی کی تلخ حقیقتوں کو سمجھ لیا ہے۔ مبصرین کے مطابق سہیل آفریدی سمجھ چکے ہیں کہ سوشل میڈیا کا دباؤ اور جذباتی بیانات وقتی پذیرائی تو دلا سکتے ہیں، مگر خیبر پختونخوا جیسے حساس صوبے میں ریاستی امور مفاہمت، رابطے اور اداروں کے ساتھ مؤثر ورکنگ ریلیشن شپ کے بغیر چلانا نا ممکن ہے۔

پی ٹی آئی عمران کی فوج مخالف پالیسی سے پیچھے ہٹنے لگی

یاد رہے کہ وزیراعلیٰ بننے کے بعد سہیل آفریدی نے علی امین گنڈا پور کے طرزِ عمل کی نقل کرتے ہوئے نہ صرف فوجی اسٹیبلشمنٹ کو للکارا تھا بلکہ طالبان نواز پالیسی اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہوئے صوبے میں ممکنہ فوجی آپریشن کی مخالفت کا بھی اعلان کر دیا تھا، تاہم اب وہی سہیل آفریدی اپنی اوقات میں واپس آتے ہوئے نہ صرف وادی تیراہ کے متاثرین کو سہولیات فراہم کر رہے ہیں بلکہ، انخلا میں حائل رکاوٹیں دور کرتے ہوئے کرم میں  آپریشن، انخلاء اور کیمپوں کا قیام بھی مکمل کر چکے ہیں۔ مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی کے اکثریتی رہنما اب سیز فائر کے خواہشمند ہیں وہ معاملات میں مزید بگاڑ نہیں پیدا کرنا چاہتے۔ اسی لئے سہیل آفریدی اب سوچ سمجھ کر بیانات دیتے ہیں اور ان کی گفتگو میں وہ سنجیدگی نظر آ رہی ہے جو پہلے مفقود تھی۔ مخالفین ان کی حالیہ نرمی کو ’مفاہمت‘ کا نام دیتے ہیں، مگر پی ٹی آئی رہنما سہیل آفریدی کے موقف میں نرمی کو کسی مجبوری کی بجائے سیاسی حکمت عملی قرار دیتی نظر آتی ہے۔

Back to top button