یوتھیوں کو دوبارہ سے عمران خان کی رہائی کی امید کیوں لگ گئی؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور امریکی کانگرس مین جو ولسن کی جانب سے عمران خان کی رہائی کے تازہ مطالبے کے بعد ایک مرتبہ پھر یوتھیوں کو اپنے قائد کے جیل سے نکلنے کی امید لگ گئی ہے لیکن حالات و واقعات بتاتے ہیں کہ عمران خان کی اڈیالہ جیل سے جلد رہائی کا کوئی امکان نہیں۔

معروف صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید اپنی تازہ تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ امریکہ سے اپنے قائد کی رہائی کے لئے پاکستان پر دبائو کی توقع باندھنے والے عاشقان عمران خان دوبارہ امید سے ہیں۔ چند دن کانگریس کے رکن جو ولسن نے صدر پاکستان اور وزیر اعظم کے علاوہ آرمی چیف کو بھی ایک خط لکھا جس میں پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلق کا ذکر کرتے ہوئے موصوف نے دعویٰ کیا کہ ان دو ممالک کے مابین دوستی کے رشتے مضبوط تر رہے ہیں اور پاکستان ماضی میں بھی جمہوری نظریات اور قانون کی حکمرانی پر سختی سے عمل پیرا رہا ہے۔ رکن کانگریس نے کہا کہ حالانکہ وہ عمران خان کی سیاست سے متفق نہیں لیکن پاکستان کو اپنا ’’جمہوری تشخص‘‘ برقراررکھنے کے لئے عمران کو رہا کردینا چاہیے۔ یاد ریے کہ جو ولسن کچھ دنوں سے ٹویٹر کے پلیٹ فارم پر بھی ’’عمران خان کو رہا کرو‘‘ والے پیغامات پوسٹ کررہے ہیں۔

نصرت جاوید بتاتے ہیں کہ سینیٹر موصوف امریکی ایوانِ نمائندگان کی دوکمیٹیوں کے اہم رکن ہیں جو امریکہ کے خارجہ امور کے علاوہ وہاں کے دفاعی اداروں پر بھی نگاہ رکھتی ہیں۔ اس کمیٹی کی ایک ذیلی کمیٹی کی سربراہی بھی ان کے پاس ہے جو مشرق وسطی، شمالی افریقہ اور سنٹرل ایشیاء کے معاملات کا جائزہ لیتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ولسن کا لکھا خط اور ایوان میں کیا خطاب حکومت پاکستان کو عمران خان کی رہائی کے لئے آمادہ کر پائے گا یا نہیں؟ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان تو پہلے ہی یہ اشارے دے رہی ہے کہ اگر صدر ٹرمپ نے بھی عمران کی رہائی کا مطالبہ کیا تو اسے پاکستانی قانون کے حوالے سے یاد دہانی کروائی جائے گی۔ ایسے میں ولسن کا خط کیا حیثیت رکھتا ہے۔

نصرت جاوید کے بقول حیرت مجھے ولسن کے اس دعویٰ کی بابت ہورہی ہے کہ ’’گزشتہ 75 برسوں کے دوران پاکستان اور امریکہ کے تعلقات تب بھی نہایت گرمجوش‘‘ رہے جب پاکستان میں جمہوریت پوری قوت سے عمل پیرا ہوئی نظر آتی۔ انکا کہنا ہے کہ میں نے امریکہ کا ذکر ہوش سنبھالنے کے بعد ان دنوں سنا جب پاکستان میں امریکی صدر کنیڈی سے زیادہ اس کی اہلیہ جیکولین کنیڈی کا ذکر ہوتا تھا۔ ہمارے لاہوریوں کی اکثریت اس گماں میں فخر سے مبتلا تھی کہ جیکولین ہمارے پہلے فوجی آمر اور خودساختہ فیلڈ مارشل ایوب خان کی مردانہ وجاہت سے بہت متاثر ہے۔ جس انداز میں ان دونوں کا ذکر ہوتا بزرگ افراد اسے میری عمر کے بچوں کے سامنے دہرانا پسند نہیں کرتے تھے۔ لیکن صدر کنیڈی کو گولی مار دی گئی۔ ان کے انتقال کے بعد جیکولین پاکستان نہیں آئی اور یونان کے ایک نہایت مالدار اور بے تحاشہ بحری جہازوں کے مالک سے شادی کرلی۔ لیکن امریکہ کے اتنا قریب ہونے کے باوجود 1965 کی جنگ کے بعد فیلڈ مارشل اتنا بد دل ہوئے کہ غصے میں ’’جس رزق سے آتی ہو…‘‘ والی سوانح عمری نما کتاب اپنے انفارمیشن سیکرٹری الطاف گوہر سے لکھوادی۔

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ میٹرک کا امتحان دیتے وقت میں ایوب خان کے سخت خلاف ہوچکا تھا۔ ان کے خلاف طلبہ کی تحریک چلی تو سکول کا طالب علم ہوتے ہوئے بھی کلاس سے بھاگ کر جلوسوں میں شامل ہوجاتا۔ ایوب خان نے 1962 میں بنائے اپنے ہی آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بطور صدر استعفیٰ دینے کے بعد یہ عہدہ ان دنوں کے سپیکر نیشنل اسمبلی کے حوالے کرنے کے بجائے آرمی چیف جنرل یحییٰ خان کے سپرد کیا۔ یحییٰ خان نے امریکہ اور چین کے درمیان پل کا کام کرتے ہوئے ہینری کسنجر کو پاکستان سے خفیہ طور پر چین بھجوا دیا تھا۔ اس ’’خدمت‘‘ کے عوض نکسن اور ہنری کسنجر یحییٰ خان کی بھرپور حمایت کرتے رہے۔ یحییٰ خان نے ’’جمہوریت کو فروغ دینے‘‘ کے بجائے 1970ء میں ہوئے انتخاب کے نتائج پر عمل نہیں کیا۔ اس کا انجام سقوط ڈھاکہ تھا۔ لیکن مشرقی پاکستان کھو دینے کے باوجود ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت یحییٰ خان کا احتساب نہ کر پائی۔ امریکی وزارت خارجہ کی وہ دستاویزات اب بآسانی گوگل کے ذریعے ڈھونڈی جاسکتی ہیں جو ثابت کرتی ہیں کہ صدر اور بعدازاں وزیر اعظم ہوئے ذوالفقار علی بھٹو کو بارہا یاد دلایا جاتا تھا کہ ’’ہمارے دوست‘‘ یعنی یحییٰ خان کو عزت واحترام سے ان کے گھر ہی نظربند رکھا جائے۔

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ جمہوریت کی تھوڑی بہت شکل میں نے ذوالفقارعلی بھٹوکی حکومت کے دوران دریافت کی تھی۔ لیکن امریکہ نے اس حکومت کا جینا دوبھر کررکھا تھا۔ مسلسل یہ الزام لگاتا رہا کہ وہ پاکستان کو ایٹمی ملک بنانا چاہتی ہے۔ جنرل ضیاء نے جب بھٹو حکومت کا تختہ الٹا تو امریکہ اس کے حوالے سے منافقانہ طورپر خاموش رہا۔لیکن کمیونسٹ روس کے کابل میں داخل ہوتے ہی جنرل ضیاء امریکہ کی دانست میں نام نہاد ’’آزاد دنیا‘‘ کا ’’محافظ‘‘ بن گیا۔ اس کے 11 سالہ آمرانہ دور میں صحافیوں کو برسرعام کوڑے بھی لگائے گئے۔ لیکن امریکہ کو جمہوریت یاد نہ آئی اور وہ روسی افواج کی کابل سے واپسی تک اس فوجی آمر کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا رہا۔

کیا بسنت کے تہوار اور سٹیج ڈانس پر حکومتی پابندی کے فیصلے جائز ہیں؟

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ امریکہ کو نائن الیون کے بعد ویسی ہی محبت ایک اور فوجی آمر جنرل مشرف کے ساتھ ہو گئی۔ لیکن عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرنے والے امریکی کانگریس مین جو ولسن کو وہ سب یاد نہیں رہا حالانکہ وہ خود بطور کرنل امریکی فوج سے ریٹائر ہوکر سیاست میں آئے ہیں۔ عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ولسن نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ذاتی طورپر وہ ان کی سیاست کا حامی نہیں۔ اس نے بانی تحریک انصاف کو روسی صدر اور چینی کمیونسٹ پارٹی کا خیرخواہ ٹھہرایا۔لیکن  ساتھ ہی انہوں نے اصرار کیا کہ سیاستدان کا مقابلہ سیاست دان ہی کریں۔ عمران خان کو لہٰذا رہا کریں۔ اس کے بعد وہ جانیں اور ان کے سیاسی دشمن۔ امریکی سیاست کو سمجھنے والے عاشقان عمران ولسن کے ان کلمات سے خوش نہیں جن کی بدولت عمران خان روس اور چین کے دوست بتائے گئے۔ ان کی تقریر کے دوران شمالی کوریا کے ’’آمرانہ نظام‘‘ کی ایک تصویر بھی چلائی گئی تھی۔ جوولسن سے اب درخواست ہورہی ہے کہ وہ عمران خان کو روسی صدر اور چین کی کمیونسٹ پارٹی کا ’’دوست‘‘ تصور نہ کریں۔

Back to top button