عمران نے جعفر ایکسپریس میں خونریزی کی مذمت کیوں نہیں کی ؟

سینیر صحافی اور تجزیہ کار سینٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے "پروجیکٹ عمران خان‘‘ ’’صدقۂِ جاریہ‘‘ کی طرح "صدمۂِ جاریہ” بن کر اس قوم پر ایک عذاب کی طرح نازل ہے۔ پراجیکٹ عمران ایک ایسے عجیب الخلقت سانچے میں ڈھل چکا ہے جس کی کوئی نظیر قومی سیاست میں نہیں ملتی۔ کھیل کے میدان سے آئی ایم ایف تک، پاکستان کے حصے میں آنے والی ہر ناکامی پر خان کے ہاں گھی کے چراغ جل اُٹھتے ہیں اور ہر کامیابی پر صفِ ماتم بچھ جاتی ہے۔ کوئی کچھ بھی کہتا رہے، عمران کے دل و دماغ سے پاکستانیت رُخصت ہو چکی ہے۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ ’جعفر ایکسپریس‘ کے دہشت گردانہ اغوا نے پاکستان ہی نہیں دنیا بھر کو لرزا دیا۔ مسلح افواج کے دلیرانہ اور پیشہ ورانہ آپریشن نے ہمیں بہت بڑی خون ریزی سے بچا لیا۔ فوج کے جوانوں نے اپنی جانیں نچھاور کرکے، اپنے ہم وطنوں کی جانیں بچائیں۔ دشوار گزار سنگلاخ پہاڑی سلسلوں میں، دہشت گردوں کے نرغے میں گھری جعفر ایکسپریس کے چار سُو رات کے اندھیرے گہرے ہو رہے تھے، سینکڑوں گھرانے اپنے پیاروں کی زندگیوں کے بارے میں امیدوبیم کی صلیب پر لٹکے ہوئے تھے اور نیند سے عاری آنکھوں میں چنگاریاں سی بھر گئی تھیں جب رات دس بجکر بتیس منٹ پر، بانی پی۔ٹی۔آئی، عمران خان کے تصدیق شدہ ذاتی ایکس اکاؤنٹ سے ایک طویل بیان جاری ہوا۔ اس بیان میں ہماری خارجہ پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنانے اور افغانستان کیساتھ تعلقات کے بگاڑ کی تمام تر ذمہ داری پاکستان پر ڈالنے کے بعد موصوف نے فرمایا… ’’خفیہ اداروں کا اصل کام، سرحدوں کا تحفظ اور دہشت گردی سے بچاؤ ہے۔ اگر وہ پولیٹکل انجینئرنگ اور تحریک انصاف کو توڑنے میں ہی لگے رہیں گے تو سرحدوں کا تحفظ کون کریگا؟‘‘
عمران خان نے جعفر ایکسپریس پر دہشت گردوں کے حملے اور افواج کے آپریشن کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے اپنی ’’اُفتاد‘‘ کی داستان سناتے ہوئے فرمایا … ’’میری اپنے بچوں سے بات نہیں کرائی جاتی۔ جیل مینوئل کے مطابق اپنی بیوی سے نہیں ملایا جارہا۔‘‘ عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ یہ ہے اُس ’’پروجیکٹ عمران خان‘ کا اصل چہرہ جسے بڑی ہُنرمندی سے تراشا گیا اور پھر 2018 میں آر۔ ٹی۔ ایس کی شہہ رگ دبوچ کر قوم پر مسلّط کیا گیا۔ انکا کہنا ہے کہ ’’صدقۂِ جاریہ‘‘ کی طرح پروجیکٹ عمران خان جانے کب تک ’صدمۂِ جاریہ‘ بن کر، اس قوم پر ایک عذاب کی طرح نازل رہے گا۔
عمران خان کی حکومتی کارگردگی کا جائزہ لیتے ہوئے عرفان صدیقی بتاتے ہیں کہ مہنگائی کی شرح میں بے تحاشا اضافے کا سلسلہ خان کے دور میں شروع ہوا جب یہ شرح 38 فی صد تک پہنچ گئی۔ اُنکے اقتدار سے ہٹنے کے فوراً بعد یہ شرح نقطۂِ عروج پر پہنچ گئی لیکن عمران خان نے، اقتدار سے محرومی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اِسکا ملبہ آنے والوں پر ڈال دیا۔ کاش اِس امر کا بھی جائزہ لیاجائے کہ اگر 2017ء والا پاکستان، نوازشریف کی قیادت میں اُسی ثابت قدمی اور سُبک روی کے ساتھ آگے بڑھتا رہتا تو آج کہاں کھڑا ہوتا اور عام پاکستانی کے شب و روز میں کتنی بہتری آچکی ہوتی۔
عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ عمرانی فتنے نے پاکستان کی سیاسی، سماجی اور جمہوری اقدار پر کتنے چرکے لگائے اور باہمی نفرتوں کے کیسے کیسے خارزار کاشت کئے، اِس کا اندازہ لگانے میں کئی سال لگیں گے۔ 9 مئی کی غارت گری کو خوش آمدید کہنے اور اِسے اپنے فدائین کا فطری ردّعمل قرار دینے کے مہینوں بعد پی۔ ٹی۔ آئی نے یہ پُرفریب بیانیہ تراشا کہ 9 مئی تو فوج کا ’’فالس فلیگ آپریشن‘‘ تھا۔ مطلب یہ ہے کہ خود فوج نے ہی سینکڑوں فوجی تنصیبات پر حملے کئے، فضائیہ کے اڈوں پر کھڑے طیارے جلائے، شہداء کی یادگاروں کی بے حُرمتی کی اور الزام، آب زمزم میں دھلی، پاکیزہ ومعصوم پی۔ٹی۔آئی کے سر تھوپ دیا۔
اب تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل، سلمان اکرم راجہ نے، جانے پہچانےاور معروف ایکس اکاؤنٹس سے کئے جانے والے پاکستان دشمن پروپیگنڈے سے لاتعلقی کی کوشش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’پی۔ٹی۔آئی، لاکھوں اکاؤنٹس کو کنٹرول نہیں کر سکتی۔ انکا کہنا تھا کہ لوگوں کو باہر بٹھا کر، پی۔ٹی۔آئی کا لبادہ اوڑھاتے ہوئے، دانستہ منصوبے کے تحت، اُن سے ٹویٹس کرائے جاتے ہیں۔ اُن کا پی۔ٹی۔آئی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔‘‘ سینٹر عرفان صدیقی سوال کرتے ہیں کہ کوئی ہے جو اِس بے سروپا دلیل پر یقین کرے؟
دہشتگرد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بطور ٹولز کیسے استعمال کرنے لگے؟
وہ تجویز دیتےہیں کہ سلمان اکرم راجہ، لاکھوں اکاؤنٹس نہ سہی، صرف عمران خان ہی کا باضابطہ اور مصدقہ ذاتی ایکس کاؤنٹ بند کرا دیں جو ملک کے اداروں اور قومی سلامتی کے خلاف زہریلے پراپیگنڈے کا آتش فشاں بنا ہوا ہے۔ اور اگر لاکھوں اکاؤنٹس بند نہیں کرائے جاسکتے تو کیا کھُل کر اُن کی مذمت بھی نہیں کی جاسکتی؟ کیا ایف۔آئی۔اے کے سائبر کرائم ونگ کو اُن کیخلاف شکایت بھی نہیں کی جاسکتی؟ اور کیا اُن جانے پہچانے فتنہ پردازوں کیخلاف کوئی کارروائی نہیں ہوسکتی جو پی۔ٹی۔آئی کے بیانیے کو پروان چڑھانے کیلئے سرِشام اپنی چھابڑیاں لگا کر بیٹھ جاتے ہیں؟’’پروجیکٹ عمران خان‘‘ ایک ایسے عجیب الخلقت سانچے میں ڈھل چکا ہے جس کی کوئی نظیر قومی سیاست میں نہیں ملتی۔ کھیل کے میدان سے آئی۔ایم۔ایف کے دسترخوان تک، پاکستان کے حصے میں آنے والی ہر ناکامی پر اُن کے ہاں گھی کے چراغ جل اُٹھتے اور ہر کامیابی پر صفِ ماتم بچھ جاتی ہے۔ کوئی کچھ بھی کہتا رہے، اُنکے دل ودماغ سے پاکستانیت رُخصت ہوچکی ہے۔
عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ کڑے امتحان کے نازک لمحات میں بھی، عمران خان کا ٹویٹ، کسی طور قوم کے جذبات واحساسات کی ترجمانی نہیں کرتا۔ اُس کے لفظ لفظ سے دہشت گردوں سے ہمدردی اور مسلح افواج سے بُغض کی بُو آ رہی ہے۔ دنیا کے تمام ممالک نے کسی تحفظ کے بغیر بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر مکروہ حملے کی مذمت کی، یہاں تک کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی مذمتی بیان جاری کیا لیکن عمران خان کا ٹوئٹر خاموش ہے۔ نہ دہشت گردوں کے لئے کوئی کلمۂِ مذمت، نہ کامیاب آپریشن پر مسلح افواج کیلئے کوئی حرفِ تحسین۔ اُوپر سے ضد یہ کہ خان کو پیرول پر رہا کرکے آل پارٹیز کانفرنس میں لایا جائے ۔ موصوف وزیراعظم تھے تو بھی قومی سلامتی کے موضوع پر کسی ایسی کانفرنس میں نہیں جاتے تھے جس میں تمام پارلیمانی جماعتیں اور مسلح افواج کی قیادت موجود ہوتی ۔ دلیل یہ تھی کہ جہاں یہ چور اور ڈاکو بیٹھے ہوں گے، میں نہیں جاؤنگا۔ جنرل باجوہ ترلے ہی کرتے رہ جاتے۔ کوئی پوچھے کہ کون سے فرشتوں کی ہم نشینی کے لئے آج یہ پیرول پر رہا ہونا چاہتے ہیں؟
