پاکستانی فوج سیاست میں مداخلت سے باز کیوں نہیں آتی؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار رؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ پاکستانی عوام سیاست میں فوج کی مسلسل بڑھتی ہوئے مداخلت سے اُکتا چکے ہیں جس کا ایک پیمانہ سوشل میڈیا پر نظر آنے والے عوامی جذبات ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ پاکستانی عوام کی فوج سے ناراضی کی وجہ ان کی عمران خان سے محبت نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے بار بار کے سیاسی تجربات ہیں۔ ان تجربات نے پاکستان کو معاشی طور پر تباہ کر کے رکھ دیا ہے جس کی وجہ سے لوگ دھڑا دھڑ ملک چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔
روزنامہ دنیا کیلئے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں رؤف کلاسرا کا مزید کہنا ہے کہ میں تو ہمیشہ اس حق میں رہا کہ عمران خان کو پانچ سال پورے کرنے دیتے تو ان کی نام نہاد مقبولت کے غبارے سے خودبخود ہوا نکل جاتی کیونکہ عمران خان کی کارگردگی کا یہ عالم تھا کہ ان کے دورِ حکومت میں پی ٹی آئی اٹھارہ میں سے سترہ ضمنی الیکشن ہار گئی تھی جبکہ عثمان بزدار اور محمود خان جیسے وزیراعلیٰ کی چوائس سے انکی ترجیحات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اپنے دور اقتدار میں عمران خان پوری سیاسی اپوزیشن جیل میں ڈال کر پوچھتے تھے کہ کوئی بچ تو نہیں گیا۔ اس خراب کارکردگی کیساتھ انہیں پانچ سال پورے کرنے دیتے تاکہ قوم کا رومانس پورا ہو جاتا۔ قوم کو زیادہ مسئلہ شاید خان کے جانے سے نہیں بلکہ ان سیاستدانوں سے ہے جنہیں خان کے جانے کے بعد لایا گیا ہےکیونکہ انہی سیاستدانوں کو کچھ سال پہلے یہ کہہ کر ہٹایا گیا تھا کہ وہ نالائق اور کرپٹ ہیں۔ اب عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ نالائق اور کرپٹ اچانک ایماندار اور قابل کیسے ہو گئے؟
رؤف کلاسرا کے مطابق جب سے عمران خان کی حکومت ختم ہوئی ہے‘ ان کے حامیوں کو لگتا ہے کہ یہ ملک رہنے کے قابل نہیں رہا لہٰذا اس ملک کو چھوڑ دیں۔ وہ روزانہ کوئی نہ کوئی ایسی چیز نکال کر لے آئیں گے جس سے لگے گا کہ جو جتنی جلدی یہاں سے نکلا جا سکتا ہے نکلا جائے۔ اکثرانقلابی سوشل میڈیا پر کسی غیرملکی سفارت خانے کے سامنے لگی قطار کی تصویر بنا کر ٹویٹ کرتے ہیں کہ دیکھیں لوگ پاکستان سے بھاگ رہے ہیں کیونکہ یہاں معاشی حالات خراب ہو گئے ہیں اور یہ ملک رہنے کے قابل نہیں رہا۔ اس کے پیچھے ایک ہی بات ہوتی ہے کہ خان کے دور میں سب ٹھیک اور اچھا تھا‘ بیرونِ ملک سے پاکستانی نوکریاں ڈھونڈنے یہاں آنے لگے تھے۔ حالانکہ عمران خان کے دور اقتدار کے حالات سے عوام اچھی طرح باخبر ہیں کہ اس وقت ملک میں کون سی دودھ اور شہد کی نہریں بہتی تھیں۔
رؤف کلاسرا کا مزید کہنا ہے کہ یہ بات طے ہے کہ موجودہ حکومت نے بھی ماضی سے کچھ نہیں سیکھا اور وہی کام جاری ہیں جو پہلے ہو رہے تھے۔ عوام سمجھتے ہیں کہ جو بھی حکمران آتا ہے وہ یاروں دوستوں اور اپنے کاروبار کو فائدے دیتا ہے۔ خوشامدیوں کو مشیر لگا کر ملک اور قوم کا پیسہ اور وسائل ضائع کرتا ہے۔ اب بھی دیکھ لیں کہ ساٹھ ستر افراد کی وفاقی کابینہ قائم ہے جبکہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد تمام اختیارات اور متعدد ڈیپارٹمنٹس صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود چند کلو میٹر کے وفاق کیلئے ساٹھ ستر وزیر مشیر ہیں۔ ان اللے تللوں اور موجودہ معاشی حالات کو دیکھتے ہوئے لوگ ان حکمرانوں کا ماضی سے موازنہ کرنے لگ جاتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق امریکی سپورٹ کی وجہ سے عموما آمرانہ ادوار کو ملکی معیشت کے حوالے سے بہتر سمجھا جاتا ہے آمرانہ ادوار میں سرمایہ کاروں کو بھی استحکام محسوس ہوتا ہے۔ ایک ہی بندہ دس سال کیلئے بیٹھا ہوتا ہے اور جو پالیساں بنتی ہیں وہ چلتی رہتی ہیں۔ اس کے برعکس سیاستدان جب بھی پاور میں آتے ہیں تو فوراً پرانی پالیسیاں معطل کرکے ایک دوسرے کو جیلوں میں ڈالنا شروع کردیتے ہیں۔
پاکستانی جنریشن زی کا پاکستان میں انقلاب لانا ناممکن کیوں؟
رؤف کلاسرا کے بقول عموما ملک میں برین ڈرین کو ہدف تنقید بنایا جاتا ہے حالانکہ پاکستانی نوجوانوں کی بڑی تعداد کا بیرون ملک جانے کیلئے تگ و دو کرنا ملکی معاشی بدحالی کا غماز نہیں۔ جس ملک کی آبادی 25کروڑ ہو وہاں آپ کتنے لوگوں کو مناسب معاشی مواقع فراہم کر سکتے ہیں؟ ویسے بھی انسان صدیوں سے بہتر مواقع کی تلاش میں ایک علاقے سے دوسرے کی طرف ہجرت کرتا آیا ہے۔ اور تو اور پرندے بھی ہجرت کرتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ساڑھے تین کروڑ سے زائد بھارتی بیرون ملک ہیں اور اب بھی وہاں امریکہ‘ کینیڈا‘ برطانیہ جانے کیلئے لائنیں لگی ہوئی ہیں۔ انڈیا خود کو دنیا کی چوتھی بڑی معیشت کہتا ہے‘ پھر ساڑھے تین کروڑ بھارتی ملک سے باہر کیوں ہیں؟ ہم سب نے زندگی میں ہجرت کی ہے۔ انسان ہجرت نہ کرتا تو یہاں تک نہ پہنچتا جہاں پہنچا ہوا ہے۔ کس دور میں ہجرت نہیں ہوئی یا لوگ اپنا ملک وطن چھوڑ کر دوسرے شہروں‘ ملکوں کو نہیں گئے۔ اگر یہ اصول اپنا لیا جاتا تو پھر آج امریکہ اور آسٹریلیا کا وجود نہ ہوتا۔ امریکہ تو مہاجروں کا ملک ہے۔ انگریز یورپ سے نکلے اور پوری دنیا پر حکومت کی۔ تاجر بن کر آئے اور ہندوستان پر قبضہ کر لیا۔ وہ بھی ہجرت کی شکل تھی۔ گورے بھی ہندوستان میں رچ بس گئے۔ خوشحال قوموں‘ ڈویلپ انسانی آبادیوں پر پہاڑوں یا صحرا سے اترے قبائل نے جنگیں‘ حملے اور قبضے کیے اور وہیں سیٹل ہو گئے۔ وہ بھی ہجرت کی ایک شکل تھی کہ ان کے پاس معاشی وسائل کم تھے۔ ہمیشہ خوشحال قومیں اور امیر تہذیب بیرونی حملہ آوروں کی زد میں رہی اور وجہ وہی معاشی تھی کہ غریب قبائل اکٹھے ہو کر امیر ملکوں کو لوٹتے رہے یا وہاں قابض ہو گئے اور پھر ان کی تیسری نسل Son of soilکہلائی۔
دوسری طرف ان ہجرت کرنے والوں نے دنیا کی ترقی میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ اپنے ساتھ یہ سخت محنت‘ ہنر‘ جوش اور سکلز لے کر جاتے اور ان معاشروں کو ترقی دیتے ہیں۔ وہاں مقامی ذہین لوگوں اور ٹیکنالوجی سے بھی سیکھ کر خود کو اَپ گریڈ کرتے ہیں۔ اگر ہجرت نہ ہوتی تو انسان ایک دوسروں کے تجربات اور ذہانت سے نہ سیکھ پاتا اور نئی نئی ایجادات نہ ہوتیں اور نہ ہم ترقی کرتے۔ کتنی ہی بڑی بڑی ایجادات امیگرنٹس یا ان کے بچوں نے کی ہیں۔ ان ہجرت کرنیوالوں نے Cross marriages سے ذہین نسلیں پیدا کیں۔ واسکوڈے گاما یا کولمبس بھی باہر نکلے‘ ہجرت کی تو نئی دنیا تلاش کر لی جہاں آج سب جانے کیلئے سر دھڑ کی بازی لگاتے ہیں۔ ان سب کو اپنی اپنی دنیا تلاش کرنے دیں۔ ہجرت ہمیشہ خوشحالی اور ترقی لاتی ہے۔
