امریکہ اور یورپی ممالک پاکستانیوں کو نومیڈویزا دینےسے انکاری کیوں؟

ٹیکنالوجی میں ترقی کی وجہ سے پوری دنیا ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے۔ ایسے میں دنیا بھر میں ڈیجیٹل نومیڈ ویزہ حاصل کرنے والوں کی تعداد میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ تاہم پاکستانی فری لانسرز کو مالی مشکلات، ویزا پالیسیوں، کرنسی کے مسائل اور قانونی پیچیدگیوں کے باعث ڈیجیٹل نومیڈ ویزا کے حصول میں چیلنجز کا سامنا ہے، جو ان کے لیے ان مواقع سے فائدہ اٹھانا مشکل تر بنا رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق  یورپ، جنوب مشرقی ایشیا اور لاطینی امریکہ کے کئی ممالک نے ایسے پروگرامز متعارف کرائے ہیں جن کا مقصد غیر ملکی فری لانسرز اور ڈیجیٹل نومیڈز کو اپنی معیشت میں شامل کرنا ہے۔تاہم پاکستانی فری لانسرز اور ڈیجیٹل نومیڈز کے لیے یہ مواقع حاصل کرنا اب بھی ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معیشت، سفری پابندیاں، کرنسی کے مسائل اور قانونی پیچیدگیاں پاکستانیوں کے لیے ان مواقع سے فائدہ اٹھانے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔

موجودہ صورتحال میں شب سے بڑا سوال یہ ہے یہ ڈیجیٹل نومیڈ ویزہ کیا ہے؟ اور اس سے دنیا بھر کے فری لانسرز فائدہ کیسے اٹھا رہے ہیں؟

ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل نومیڈ ویزہ دنیا کے مختلف ممالک کی طرف سے متعارف کرایا گیا ایک خصوصی پروگرام ہے جس کا مقصد ایسے پروفیشنلز کو سہولت فراہم کرنا ہے جو آن لائن کام کرتے ہیں اور کسی مخصوص جغرافیائی حدود کے پابند نہیں ہوتے۔یہ ویزہ بنیادی طور پر ایسے افراد کو دیا جاتاہے جو فری لانسنگ، ریموٹ جابز، یا اپنا آن لائن کاروبار چلاتے ہیں اور ایک مخصوص مدت کے لیے کسی دوسرے ملک میں قانونی طور پر رہائش اختیار کرنا چاہتے ہیں۔گذشتہ چند برسوں میں کئی ممالک نے اس ویزے کے تحت غیر ملکی پروفیشنلز کو اپنے ملک میں کام کرنے کی اجازت دی ہے، جس کی وجہ سے ہزاروں افراد نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔ تاہم پاکستانی فری لانسرز کو اپنی ایسی کوششوں میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

آئی ٹی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے مطابق پاکستان میں کام کرنے والے سینکڑوں فری لانسرز نے اس پروگرام سے فائدہ اٹھانے کی کوششیں کی لیکن اس میں صرف کچھ افراد ہی کامیاب ہوسکے کیونکہ بیشتر ڈیجیٹل نومیڈ ویزہ پروگرامز میں کم از کم مالیاتی معیار مقرر ہوتا ہے، جیسے کہ ماہانہ 2000 ڈالر سے 5000 فالر تک کی کمائی کا ثبوت فراہم کرنا۔چونکہ پاکستان میں زیادہ تر فری لانسرز کی کمائی اس معیار پر پورا نہیں اترتی، جس کی وجہ سے ان کے لیے یہ پروگرام ناقابل رسائی بن جاتا ہے۔

ماہرین کے بقول چونکہ پاکستانی پاسپورٹ عالمی درجہ بندی میں کمزور سمجھا جاتا ہے۔ اس لئے پاکستانیوں کیلئے بیشتر ممالک کے لیے ویزہ حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ڈیجیٹل نومیڈ ویزہ کے لیے بھی زیادہ تر ممالک نے پاکستانیوں کے لیے سخت شرائط اپنا رکھی ہیں، جن میں اضافی مالیاتی گارنٹی، کلین کریمنل ریکارڈ، اور دستاویزات کی طویل جانچ سمیت دیگر عوامل شامل ہیں۔

اس کے علاوہ پاکستانیوں کیلئے اکثر ڈیجیٹل نومیڈ ویزہ پروگرام میں یہ شرط شامل ہوتی ہے کہ ویزہ ہولڈر میزبان ملک میں اپنی کمائی پر ٹیکس ادا کرے گا چونکہ پاکستان میں پہلے ہی بہت سے فری لانسرز ٹیکس کے حوالے سے غیر یقینی کا شکار ہیں، اور کسی دوسرے ملک میں بھی ٹیکس کی ادائیگی ان کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ موجودہ حالات میں پاکستانیوں کی دلچسپی ڈیجیٹل نومیڈ ویزوں میں کم نظر آ رہی ہے، لیکن مستقبل میں یہ رجحان بدل سکتا ہے۔ ماہرین کے بقول اگر پاکستانی معیشت مستحکم ہو، کرنسی کی قدر بہتر ہو، اور حکومت کی جانب سے فری لانسرز کے لیے سفری سہولیات اور مالیاتی معاونت فراہم کی جائے، تو ڈیجیٹل نومیڈ ویزہ پاکستانیوں کے لیے زیادہ پرکشش ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق’بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستانی فری لانسرز کو زیادہ مضبوط بنانے کے لیے ہنر کی تربیت، بینکنگ سہولیات، اور کرنسی کے استحکام جیسے عوامل پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ ڈیجیٹل نومیڈ ویزہ پروگرام پاکستانیوں کے لیے ایک شاندار موقع ہو سکتا ہے، لیکن موجودہ مالی، سفری، اور قانونی رکاوٹیں ان کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔ اگر حکومت اور نجی شعبہ مل کر اس مسئلے پر توجہ دیں، تو پاکستانی فری لانسرز بھی اس عالمی رجحان میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

 

Back to top button