پاکستان سے بیرون ملک جانے والے بھکاریوں کا معاملہ سنگین ہو گیا

پاکستان سے ہزاروں کی تعداد میں بیرون ملک جا کر بھیک مانگنے والے پیشہ ور بھکاریوں کا معاملہ سنگین ہوتا جا رہا ہے اور مختلف ممالک میں پکڑے جانے والے پیشہ ور بھکاریوں کو ملک بدر کر کے بڑی تعداد میں پاکستان واپس بھیجا جا رہا ہے۔
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے اعلی حکام کے مطابق رواں سال تین ماہ کے دوران ملک بھر کے ایئر پورٹس سے مختلف ممالک روانگی کی کوشش میں ’سات ہزار سے زائد افراد کو آف لوڈ‘ کیا گیا، جن میں کراچی اور لاہور سمیت مختلف ہوائی اڈوں سے دوسرے ممالک جانے والے ’تین سو کے قریب بھکاریوں کو گرفتار‘ کیا گیا ہے۔
انسانی سمگلنگ سیل میں کام کرنے والے ایف آئی اے کے سابق افسر سجاد مصطفیٰ باجوہ نے بتایا کہ پاکستان سے پیشہ ور بھیکاری زیادہ تر ان ملکوں کا رخ کرتے ہیں جہاں پاکستانیوں کی انٹری آسان ہو اور مسلمانوں کے لیے زیارات موجود ہوں۔ اسی لیے سب سے زیادہ پیشہ ور بھیکاری مشرق وسطیٰ اور روسی ریاستوں کا رخ کرتے ہیں۔ حالات ایسے ہیں کہ اب تو ایتھوپیا جیسے بدحال ملک سے بھی پاکستانی بھکاریوں کو پکڑ کر ملک بدر کیا جا رہا ہے۔
سابق چیئرمین ٹریول ایجنٹس ایسوسی ایشن پاکستان آغا طارق سراج نے بتایا کہ ’سب سے زیادہ پیشہ ور بھیکاری پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں اور سعودی عرب، دبئی یا قطر جانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس لیے ہم نے بھی اپنے طور سختی کر رکھی ہے تاکہ ایسے لوگوں کو ویزہ اور ٹکٹ نہ دیا جائے جو ملک کی بدنامی کا باعث بنتے ہوں۔ ترجمان پاکستان کوسٹ گارڈز کے مطابق ایک 132 غیر قانونی تارکین وطن کو یکم فروری سے 18 مارچ کے دوران بلوچستان کے بارڈر سے گرفتار کیا گیا، یہ تمام افراد بغیر کسی قانونی دستاویزات اور راہ داری کے غیرقانونی طریقے سے ایران سے پاکستان اور پاکستان سے ایران سفر کر رہے تھے۔
وزارت خارجہ کی پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی میں دی گئی بریفنگ کے مطابق بہت سے بھکاری ویزوں کا فائدہ اٹھا کر سعودی عرب، ایران اور عراق جاتے ہیں۔ وہاں پہنچ کر وہ بھیک مانگنے لگتے ہیں۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق گذشتہ تین ماہ کے دوران مشکوک قرار دے کر کراچی، سیالکوٹ، ملتان، فیصل آباد سے چار ہزار جبکہ لاہور ائیر پورٹ سے تین ہزار کے قریب مسافروں کو جہازوں پر سوار ہونے سے روکا گیا حالانکہ ان کے پاس ویزے بھی موجود تھے۔ ان میں سے تین سو سے زائد پیشہ ور بھیکاری تھے جنہیں گرفتار کر کے ایف آئی اے نے ہیومن ٹریفکنگ سیل منتقل کر کے قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
اس حوالے سے سابق ایف آئی اے افسر سجاد مصطفیٰ باجوہ کہتے ہیں کہ ’ملک کے اندر اور بیرون ملک جا کر گداگری ویسے تو عرصہ دراز سے منظم طریقے سے کی جا رہی ہے، لیکن ملکی کرنسی کم ہونے پر پیشہ ور بھیکاری ان ممالک کا رخ کرتے ہیں جس کرنسی کی ویلیو زیادہ ہوتی ہے۔ یہ لوگ گروپوں کی شکل میں سفر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ منظم گروہ باقاعدہ ان لوگوں کی سرپرستی کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ ورکنگ ویزہ یا وزٹ ویزہ حاصل کرتے ہیں اور پھر سعودی عرب سمیت مختلف ممالک میں جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’دنیا بھر میں جہاں بھی بھکاریوں کے خلاف کارروائی ہوتی ہے وہاں سب سے زیادہ کا تعلق پاکستان سے ہی نکلتا ہے۔‘ سجاد باجوہ کے مطابق کچھ عرصہ پہلے ہمیں ایتھوپیا کے پاکستانی سفارت کار کی کال آئی کہ وہاں درجنوں پاکستانی بھیک مانگنے کے جرم میں گرفتار کیے گئے ہیں۔ انہیں ملک بدر کیا جا رہا ہے لہذا ہم نے ان کوسوں کو ایئر پورٹ سے حراست میں لے لیا۔ لیکن ہمیں بہت ذیادہ شرمندگی ہوئی کہ ایسے بدحال ملک میں بھی پاکستانی بھیک مانگتے پکڑے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی سمگلنگ کرنے والے انہیں منظم کر کے گروپ بنا کر لے جاتے ہیں۔ ان کی آپس میں کمائی کی شرح طے ہوتی ہے کہ بھیکاری کو کتنا ملے گا اور بھیجنے والے کا کتنا حصہ ہوگا۔ ان کے بیرون ملک جانے کے اخراجات بھی انسانی سمگلنگ کا دھندہ کرنے والے اٹھاتے ہیں۔ یہ زیادہ تر دستاویزات بنوا کر ایئر پورٹ سے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جبکہ یورپ سمیت دیگر ممالک جہاں انٹری سخت ہے وہاں دیگر راستوں سے بھجوائے جاتے ہیں۔
ایف آئی اے کے سابق افسر نے کہا کہ ’جب ایف آئی اے انہیں چیک کرتی ہے تو شک پڑنے پر انہیں آف لوڈ کر کے گرفتار کر لیا جاتا ہے، لیکن سخت سزائیں نہ ملنے پر یہ رہا ہو جاتے ہیں اور دوبارہ یہی کام شروع کر دیتے ہیں۔ سابق چیئرمین ٹریول ایجنٹس ایسوسی ایشن پاکستان آغا طارق سراج کے بقول ’بہت سے بھیکاری وزٹ ویزے یا عمرے کا ویزہ لگوا کر جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اب سعودی عرب، دبئی، قطر نے گداگروں کا راستہ روکنے کے لیے قوانین سخت کر دیے ہیں۔ لہذا ہم بھی اپنے طور پر ایسے لوگوں کو ویزے یا ٹکٹ نہیں دلوا رہے جن کے وہاں جا کر غائب ہونے یا بھیک مانگنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پالیسی بنا رکھی ہے کہ کسی اکیلے نوجوان مرد یا خاتون کو ویزہ جاری نہ کروائیں۔ ایسے مشکوک افراد کا زیادہ تر تعلق پسماندہ علاقوں سے ہوتا ہے جو لاہور یا کراچی جیسے بڑے شہروں سے ویزے لگوا کر نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔
