معیشت کو مشرقِ وسطیٰ کے باعث چیلنجز کا سامنا ہے، گورنر سٹیٹ بینک

گورنر سٹیٹ بنک جمیل احمد نے کہا ہےکہ پاکستانی معیشت کو مشرق وسطیٰ تنازع کے باعث چیلنجز کا سامنا ہے۔
گورنر سٹیٹ بنک نے ان خیالات کا اظہار معروف عالمی مالیاتی اور سرمایہ کاری اداروں، جن میں جے پی مورگن، بارکلیز، سٹی بینک، جیفریز اور فرینکلن ٹیمپلٹن شامل ہیں، کے علاوہ بڑی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں فچ، موڈیز اور ایس اینڈ پی گلوبل کے سینئر عہدیداروں سے ملاقاتوں کے دوران کیا۔
گونر جمیل احمد نے کہا کہ بہتر ابتدائی حالات کے باوجودپاکستان کی معیشت کو اب مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ پیش رفت کے باعث پیدا ہونے والے چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں، باربرداری اور بیمہ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ شامل ہے۔
پاکستانی ثالثی نے چائے والے مودی کا رگڑا کیسے نکالا ؟
انہوں نے کہا کہ مالی سال کے آغاز کے بعد پاکستان کے کلیدی معاشی اشاریے توقع سے زیادہ تیزی سے بہتر ہوئے ہیں، اگرچہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات نے نئے خطرات کو جنم دیا ہے اور مجموعی معاشی منظرنامے میں غیر یقینی کیفیت میں اضافہ کیا ہے ۔
جمیل احمد نے مزید بتایا کہ سٹیٹ بینک کی مسلسل خریداریوں اور سرکاری رقوم کی آمد، جن میں نئے دوطرفہ مالی انتظامات بھی شامل ہیں، کے باعث جون 2026 تک زرمبادلہ کے ذخائر کے تقریباً 18 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔
