غیرملکی وفود کی آمدسےپہلے ہی جڑواں شہروں میں سکیورٹی ہائی الرٹ

اسلام آباد اور راولپنڈی میں ایران امریکا جنگ بندی سے متعلق امن مذاکرات کے پیش نظر ہر قسم کی پرائیویٹ اور پبلک ٹرانسپورٹ تاحکمِ ثانی معطل رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں ایران، امریکہ مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور غیر معمولی حفاظتی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق معزز غیر ملکی مہمانوں کو نجی ہوٹل میں ٹھہرایا جائے گا، جبکہ سکیورٹی کے لیے مجموعی طور پر 18 ہزار نفری تعینات کی جائے گی، جن میں پنجاب سے آنے والی 7 ہزار نفری بھی شامل ہے۔
ڈیوٹی پر موجود پولیس افسران کو موبائل فون کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی اور تمام اہلکاروں کو اینٹی رائٹ کٹس لازمی استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
سکیورٹی انتظامات میں اسلام آباد پولیس کے ساتھ پاکستان رینجرز اور فرنٹیئر کور بھی تعینات ہوں گے، جبکہ دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مشترکہ ناکے بھی قائم کیے جائیں گے۔
ائیرپورٹ سے ہوٹل تک روٹ پر اہم عمارتوں پر رینجرز کے سنائپرز تعینات کیے جائیں گے، جبکہ گرین بیلٹس اور سروس روڈز کو مکمل طور پر کلیئر رکھا جائے گا۔
راولپنڈی میں ایران، امریکہ جنگ بندی سے متعلق امن مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے، جبکہ شہر میں غیر معمولی حفاظتی اقدامات نافذ کر دیے گئے ہیں۔
انتظامیہ کے مطابق پبلک ٹرانسپورٹ اڈے، گڈز ٹرانسپورٹ، پرائیویٹ رینٹ اے کار سروسز بھی تاحکمِ ثانی بند رہیں گی، جبکہ وی وی آئی پی روٹس پر آنے والی مارکیٹیں، گلیاں، مری روڈ، فیض آباد، کمرشل مارکیٹس اور دیگر کاروباری مراکز بھی مخصوص اوقات میں بند رکھے جا رہے ہیں۔ روٹ پر واقع شادی ہالز کو بھی بند رکھنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
