ایران نہ امریکا کے ساتھ امن قائم کرے گا، نہ اسرائیل کو تسلیم کرے گا: باقر قالیباف

ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ ایران نہ تو امریکا کے ساتھ امن قائم کرے گا اور نہ ہی اسرائیل کو تسلیم کرے گا، جب کہ مزاحمتی محور کی حمایت سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہر سطح پر جاری رکھی جائے گی۔
باقر قالیباف نے یہ بات تہران میں حماس کی قیادتی کونسل کے سربراہ محمد درویش سے ملاقات کے دوران کہی، جو آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کےلیے ایران آئے تھے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق باقر قالیباف نے کہا کہ ایران ضرورت پڑنے پر میزائل طاقت یا سیاسی ذرائع، دونوں کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم وہ صرف مذاکرات برائے مذاکرات کی پالیسی پر یقین نہیں رکھتا۔
انہوں نے کہا ہے کہ ایران نے امریکی حکام پر واضح کیا تھاکہ خطے کے ممالک کی علاقائی سالمیت اور ایران کے اتحادی مزاحمتی گروہوں کے خلاف کارروائیوں کے خاتمے کو بھی مفاہمتی یادداشت کا حصہ بنایا جائے، جسے بعد ازاں دستاویز میں شامل کرلیا گیا۔
باقر قالیباف کا کہنا تھاکہ مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد جاری ہے۔ اگرچہ اس پر مکمل عمل آسان نہیں، لیکن یہ ممکن ہے۔مسلم ممالک اب اس حقیقت کو سمجھ چکے ہیں کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ تعاون انہیں پائیدار سلامتی فراہم نہیں کرسکتا۔
