کالعدم ایکشن کمیٹی کے ارکان رعایت کے مستحق نہیں،سیکرٹری اطلاعات آزادکشمیر

سیکرٹری اطلاعات آزاد جموں و کشمیرمحمد راشد حنیف نے کہا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی نے ریاست کے خلاف نعرے بلند کیے اور پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا۔یہ کسی رعایت کے مستحق نہیں۔

مظفرآباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سیکرٹری اطلاعات آزاد جموں و کشمیر محمد راشد حنیف نے کہا کہ کالعدم کمیٹی کا پہلا دھرنا شروع ہوا تو ان کے شرپسند عناصر نے مشتعل کارروائیاں کیں، درخت گراکر راستے بند کیے جس سے لوگوں کو مشکلات ہیں جبکہ ان لوگوں نے آزاد کشمیر میں ریاست اور اداروں کے خلاف نعرے بلند کیے۔

راشد حنیف نے کہا کہ مئی میں ان کے شرپسند عناصر نے آزادکشمیر میں پر تشدد کارروائیاں کیں،  پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا ان کی وردیاں لٹکائیں تھیں، کالعدم کمیٹی کے نعرے بتاتے ہیں کہ ان کا اصل ایجنڈا کیا ہے۔

سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ کالعدم کمیٹی والوں نے اپنے مظاہروں میں بچوں اور خواتین کو استعمال کیا، جس حد تک مطالبات پر بات کی جاسکتی تھی اس حد تک کی گئی، راولاکوٹ اور پونچھ کے لوگ پرامن لوگ ہیں، آزاد کشمیر کے لوگ پرامن خطے کے باسی ہیں، وہ اس مہم میں شامل نہ ہوں۔

ان کا مزید کہنا تھاکہ کالعدم کمیٹی امجد ایوب مرزا جیسے ملک دشمن عناصر سے مدد لے رہی ہے، یہ شخص جو بھارتی فنڈنگ سے یورپ میں کشمیریوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے، کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے سرغنوں اور شرپسندوں پر 79 ایف آئی آرز درج ہیں۔

 

ان کا کہنا تھاکہ کالعدم کمیٹی نے پرتشدد کارروائیوں سے کشمیر کا امن تباہ کرنے کی کوشش کی، ایک ماہ کے دوران ریاست کو مجموعی طور پر 15 ارب روپے کا نقصان پہنچا، عوامی حقوق کی تحریک کو شرپسند عناصر نے ہائی جیک کر لیا ہے، آزاد کشمیر حکومت نے پہلے ہی آٹا اوربجلی پر بڑی سبسٹڈی دی ہوئی ہے، کالعدم کمیٹی کی 5 جولائی کی ہڑتال کی کال عوام اور تاجروں نے مسترد کر دی، ان کے سرغنوں کی تقریروں میں منگلا سے بجلی کی ترسیل روکنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔

 

Back to top button