ایاز امیر کو اسرائیلی جمہوریت پاکستان سے بہتر کیوں لگتی ہے؟

تحریک انصاف کے لیے سیاسی ہمدردیاں رکھنے والے معروف تجزیہ کار کیپٹن ریٹائرڈ ایاز امیر نے کہا ہے کہ آج پاکستان میں جمہوریت کی جو صورت حال ہے اسے دیکھ کر اسرائیل کی جمہوریت زیادہ بہتر لگتی ہے۔ اسرائیل میں جمہوریت اور قانون کی حکمرانی قائم ہے۔ اسرائیلی فوج اپنے ملک سے باہر غیروں پر ظلم کرتی ہے لیکن ان کے ملک کے اندر جمہوریت کار فرما ہے۔ آگے نتیجہ خود نکالا جا سکتا ہے۔
اپنے سیاسی تجزیے میں ایاز امیر کہتے ہیں کہ ہمارا 78 سالہ تجربہ بتاتا ہے کہ جمہوریت چلانا ہمارے بس کی بات نہیں۔ ہم کبھی بھی جمہوری قاعدے قانون کے مطابق ریاست کا کاروبار نہیں چلا سکے۔ ہر نازک موقع پر جمہوریت پر شب خون مارا گیا۔ ایوب خان‘ یحییٰ خان‘ ضیاالحق اور مشرف ادوار سب کو یاد ہیں‘ محسوس یوں ہوتا ہے کہ سویلین ہو یا فوجی ‘ ہر کوئی ایک ہی سانچے میں ڈھلا ہوا ہے۔ انتخابات ایسے ہوں کہ ووٹوں کی گنتی پوری نہ ہو اور نتائج کا اپنی مرضی سے اعلان کر دیا جائے تو پیچھے کیا رہ جاتا ہے۔ اور اب تو ارتکازِ اقتدار اتنا ہو گیا ہے کہ جلد تبدیلی کے کوئی امکان نظر نہیں آتے۔ پہلے بھی ایسے لمبے ادوار رہے ہیں‘ لہذا ایک تاریک دور اور سہی۔ لگتا ہے ہمارے ستاروں کا یہی فرمان ہے۔
ایاز امیر کہتے ہیں کہ یہودی ریاست یعنی اسرائیل کا جبر پوری اسلامی دنیا کے جبر سے زیادہ ثابت ہوا ہے۔ عالمی منظر نامے پر حالیہ واقعات نے جہاں اسرائیلی طاقت کو نمایاں کرکے دکھایا وہاں تمام مسلمان ممالک کی حیثیت کو بے نقاب کر دیا۔ آبادی کے لحاظ سے وہ چھوٹا سا ملک تمام اطراف حاوی رہا۔ فرق یہ ہے کہ بمقابلہ اسلامی دنیا اندرونی طور پر اسرائیل میں جمہوریت اور قانون کی حکمرانی قائم ہے۔ اسرائیلی فوج ظلم باہر کرتی ہے‘ اندرونِ اسرائیل جمہوریت کار فرما ہے۔
اس میں کوئی رونے یا ماتم کی بات نہیں۔ ہمارا مزاج اور خمیر مختلف ہے۔
قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی جیسے تصورات ایک خول کی طرح ہم پر چڑھائے گئے تھے۔ ہماری اہنی تاریخ دیکھ لیجیے‘ اصل میں ایسے خیالات سے ہمارا کبھی لینا دینا نہ تھا۔ یہ تو انگریز اپنی طرزِ حکمرانی ہندوستان پر چھوڑ گئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ قانون کے ضابطے مرتب ہوئے اور یہاں کی آبادی ان سے روشناس ہوتی گئےہی۔ کریمنل پروسیجر کوڈ‘ انڈین پینل کوڈ‘ قانونِ شہادت یہ ہمارے کہاں تھے؟ یہ قانون تو انگریزوں نے لکھے تھے۔ یہ خیالات بھی انگریز کے ہی تھے کہ فیصلہ سازی اور حکومتی کاروبار میں عوام کی رائے ہونی چاہیے‘ ایسا تصور تو اس خطے میں کبھی نہ تھا ۔ یہاں تو چاہے ہندو تھے یا مسلمان حاکم‘ سب مطلق العنان ہی ہوتے تھے۔ آج کی زبان میں انہیں آمر ہی کہا جائے گا۔ جو وہ کہتے تھے وہی قانون ہوتا تھا۔ حکومت ان کی‘ فوج ان کی‘ نظامِ انصاف ان کا اور ریاستی دولت بھی ان کی۔
ایاز امیر بتاتے ہیں کہ انگریزوں نے ہندوستان کو بزورِ شمشیر و بندوق فتح کیا‘ یہاں کے وسائل اپنے استعمال میں لائے جیسا کہ ہر فاتح کرتا ہے‘ لیکن ساتھ ہی انہوں نے ایک ایسی حکمرانی کی بساط بچھائی جس میں نمائندہ حکومت کا تصور جنم لینے لگا۔ یہاں کے باسیوں کو کیا پتا تھا کہ سیاسی پارٹیاں کیا ہوتی ہیں۔ یہ تو ایک انگریز نے انڈین نیشنل کانگریس کی بنیاد ڈالی اور اسی انگریز کی بنائی گئی جماعت کے پلیٹ فارم سے پڑھے لکھے ہندوستانی نمائندۂ حکومت بنے اور کچھ عرصہ بعد آزادی کی باتیں کرنے لگے۔ جو پڑھے لکھے ہندوستانی تھے وہ مکتبوں اور مندروں کے پڑھے ہوئے نہیں تھے بلکہ انہوں نے انگریزی تعلیم حاصل کی اور اسی کی بدولت انکے ذہنوں میں جمہوریت اور نمائندہ حکومت کے خیالات پیدا ہوئے۔ اخبارات اور پریس کا تصور کہاں سے آیا؟ انتخابات کی ریت کس نے ڈالی؟ ان خیالات کا یہاں آنا اور پھر ان کی ترویج انگریز سرکار کی وجہ سے ہوئی۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں۔
ایاز امیر کہتے ہیں کہ ڈاکٹر محمد اقبال‘ محمد علی جناح‘ موہن داس کرم چند گاندھی‘ موتی لال نہرو‘ جواہر لال نہرو‘ حسین شہید سہروردی اور پتا نہیں کتنے لوگ، یہ سب انگریزی تعلیم و تربیت کے پراڈکٹ تھے۔ ہندوستان کی تحریکِ آزادی کا مؤثر ترین ہتھیار مغربی افکار تھے نہ کہ کوئی اور عقائد۔ ایسے میں سمجھ یہ نہیں آتی کہ لوگ 27ویں آئینی ترمیم پر ماتم کیوں کر رہے ہیں۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ اس خطے میں آزاد عدلیہ کا بھی کوئی تصور نہیں تھا۔ یہ بھی سمندر پار سے آیا۔ جیسے لنڈے کے کپڑے آتے کہیں اور سے ہیں اور حسب ضرورت پہن لیے جاتے ہیں‘ ایسے ہی جمہوری لباس بھی ہمیں باہر سے ملے اور ہمیں پہننے پڑے۔ لیکن پہنے مجبوری سے کیونکہ یہ باہر کے افکار صحیح طور پر ہمیں کبھی فِٹ نہیں آئے۔ ان میں ہم نے اپنے آپ کو کبھی آسودہ محسوس نہ کیا۔ اس لیے نیا ملک وجود میں آتے ہی ان بیگانے تصورات پر پیوندکاری ہونے لگی۔
بشری پیرنی نے عمران کو اپنی کٹھ پتلی کیسے بنا رکھا تھا؟
ایاز امیر کہتے ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو ایک پارلیمانی نظام جمہوریت دینے کے باوجود ہم لوگ جمہوری نہیں ہو پائے اور ہر چند برس بعد کوئی نہ کوئی آمر اقتدار پر قابض ہو کر آئین کو یا تو معطل کر دیتا ہے اور یا پھر اس میں ترامیم کرانا شروع کر دیتا ہے۔ گورے ہمیں ائین اور قانون کی حکمرانی کا درس تو دے گئے لیکن آئین اور قانون کی حاکمیت کا تصور ہمارے مزاج اور ہمارے خمیر سے مطابقت نہیں رکھتا۔ لہذا ایک ایک کر کے ان تصورات کا پاکستان میں ستیاناس ہوتا رہا۔ چنانچہ آج 78برس بعد بنیادی بات یہ نہیں کہ جمہوریت کے اصول روندے جا رہے ہیں بلکہ یہ کہ ہمارے کرتے دھرتوں کا مزاج ہی ایسا رہا کہ جمہوری اصولوں کی پاسداری ان کیلئے ہمیشہ ایک تکلیف دہ امر ثابت ہوا۔
ایاز امیر کے مطابق ایسے میں آئین‘ قانون اور عدالتوں کی وقعت دو ٹکے کی بھی نہیں ہے۔ 27ویں ترمیم نے نئی حقیقتوں کو جنم نہیں دیا بلکہ پہلے سے موجود حقیقتوں پر قانون کا روپ چڑھا دیا ہے۔ مثال کے طور پر سپریم کورٹ بے وقعت پہلے ہی ہو چکی تھی۔ اب اس کی بے وقعتی کو قانونی زبان کے دائرے میں ڈال دیا گیا ہے۔ آئینی تشریح کا حق تو عملاً پہلے ہی سپریم کورٹ سے لے لیا گیا تھا۔ اب اس حقیقت کو ایک قانونی زبان دے دی گئی ہے۔ جہاں تک شق 243میں ترمیم کا تعلق ہے‘ قوم کو پہلے ہی سمجھ تھی کہ آرمڈ فورسز کی کمان کا فلسفہ کیا ہے۔ اب بات تھوڑی واضح ہو گئی ہے لیکن اصل میں خدوخال تو وہی ہیں۔
