عمران خان اسلام آباد کی سڑکوں پر لاشیں کیوں گرانا چاہتے ہیں؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار سینٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ عمران خان کی 24 نومبر کی احتجاجی کال کا بنیادی مقصد سڑکوں پر لاشیں گرانا ہے تاکہ ان کے مزموم عزائم پورے ہو سکیں۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ ایک جانب تحریک انصاف کے بانی، عمران خان نے 24 نومبر کو ’’یومِ مارو یا مرجائو‘‘ قرار دے دیا ہے اور دوسری جانب وہ اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی بھیک بھی مانگ رہے ہیں۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک بند گلی میں کھڑے ہیں جہاں سے انہیں نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا۔

عرفان صدیقی کہتے ییں کہ اِس سوال کے جواب کیلئے افلاطونی دانش کی ضرورت نہیں کہ تحریکِ انصاف کو کس نے بند گلی کے اندھے موڑ پر لاکھڑا کیا ہے؟ پی۔ٹی۔آئی کی تخلیق سے لے کر آج تک، اٹھائیس برس کے طویل عرصے میں، عمران خان نے سیاست کو جمہوری اقدار اور وسعتِ نظری کی بجائے مار دھاڑ، نفرت وعداوت اور جنگ وجدل کا بے رحم کھیل بنا دیا۔ اُنہوں نے کبھی اپنی تاریخ پر بھی نظر نہیں ڈالی جو سیاست دانوں کی باہمی تلخیوں اور نفرتوں کے باوجود بعض نہایت روشن نمونے بھی رکھتی ہے۔ پیپلزپارٹی اور اُس کے سیاسی مخالفین کے مابین شدید جنگ برسوں جاری رہی۔ 1977ءکے انتخابی نتائج کے خلاف پاکستان قومی اتحاد کی تحریک نے ایسی قیامت اُٹھا دی کہ لاہور، کراچی اور حیدرآباد میں مارشل لا نافذ کرنا پڑا۔ مذاکرات پھر بھی ہوئے۔ قومی اتحاد کے زندانیوں نے اپنی انا کو مسئلہ بنایا نہ بھٹو سے ہاتھ ملانے میں کوئی عار جانی۔

اِس سے بھی پہلے 23 مارچ 1973کو خان عبدالولی خان نے راولپنڈی کے لیاقت باغ سے خون میں لت پت درجنوں لاشیں اٹھائیں اور خاموشی سے گھر چلے گئے۔ حکومتِ وقت سے اُنکی رنجش اور غیض وغضب کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ لیکن ’’مارو یا مرجائو‘‘ کا نعرہ لگانے اور اپنے بندوق برداروں کو سڑکوں پر لانے کے بجائے وہ میتوں کو دفناتے ہی قومی اسمبلی کے ایوان میں پہنچے، صدر ذوالفقار علی بھٹو سے ملے اور 1973ءکے آئین کی منظوری کے لئے اپنا تاریخی کردار ادا کیا۔

عرفان صدیقی یاد دلاتے ہیں کہ لیاقت باغ جلسے کے قتلِ عام اور آئین کی منظوری کے درمیان صرف 17 دِنوں کا فاصلہ تھا۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حریفانہ کشمکش کی کہانی زیادہ پرانی نہیں۔ ایک عشرے سے زیادہ عرصے تک یہ آتشکدہ دہکتا رہا۔ پھر وہ وقت بھی آیا کہ دونوں سابق وزرائے اعظم کی جلاوطنی کے دوران میں، محترمہ بے نظیر بھٹو، اپنے شوہر آصف علی زرداری کے ہمراہ جدّہ کے سُرور پیلس پہنچیں اور یکم نومبر 2005ءکو پاکستانی سیاست کی تاریخ کا ایک روشن باب رقم کیا۔ بے نظیر اور نواز شریف نے باہمی اختلافات کو دفن کردیا۔

عرفان صدیقی لکھتے ہیں کہ کم از کم ایسے دو مناظر تو عمران خان کی یادداشت میں بھی زندہ ہوں گے۔ 2013کی انتخابی مہم کے دوران وہ زخمی ہوئے تو مسلم لیگ (ن) نے اپنی انتخابی مہم دو دِن کے لئے معطل کردی۔ پہلے شہبازشریف اور پھر نوازشریف اُن کی مزاج پُرسی کو پہنچے۔ وزارت عظمی کا منصب سنبھالنے کے بعد وزیراعظم نوازشریف بنی گالہ، خان صاحب کے گھر پہنچے اور ایک نئے سفر کے آغاز کی اپیل کی۔ خان صاحب کی کشتِ سیاست میں ہم آہنگی ومفاہمت کی کوئی کونپل نہ پھوٹی۔ چند ماہ بعد وہ ’’نوازشریف کو گھسیٹ کر وزیراعظم ہائوس سے نکالنے کے لئے ’’شاہراہِ دستور پر آ بیٹھے اور کامل چار ماہ بیٹھے رہے۔ اقتدار میں آنے کے بعد بھی خان صاحب کی سیاست کے رنگ ڈھنگ نہ بدلے۔

عرفان صدیقی سوال کرتے ہیں کہ کیا آپ کسی ایسے وزیراعظم کا تصوّر کر سکتے ہیں جو اپنے اقتدار کے 1330دنوں میں ایک بار بھی قائدِ حزب اختلاف سے مکالمہ نہ کرے اور ایک بار بھی ہاتھ تک نہ ملائے؟ نتیجہ یہ نکلا کہ عمران خان، سیاست میں ’’مارو یا مر جائو‘‘ تک آن پہنچے ہیں۔  عمران تحریک عدمِ اعتماد کے ذریعے اقتدار بدر ہونے کے بعد سے اب تک مسلسل غلط پتّے چل رہے ہیں۔ ایک کے بعد ایک غلطی اور ایک کے بعد ایک ناکامی نے اُنہیں بند گلی میں لاکھڑا کیا ہے۔

 تازہ ترین ’’فائنل کال‘‘ کا اصل محرک یہ ہے کہ 190 ملین پائونڈ کا مقدمہ تمام تر ٹھوس شواہد کے ساتھ کنارے آن لگا ہے۔ جنرل فیض حمید کا کورٹ مارشل، 9 مئی کے کئی راز اُگل سکتا ہے۔ جلسے جلوسوں کی جارحانہ حکمت عملی اور پسِ پردہ کی دلربائی، اُس قبیلے کا دِل موم نہیں کرسکی جس سے خان صاحب، مشکل کشائی کی امیدیں وابستہ کئے بیٹھے ہیں۔ ’’گُڈ ٹو سی یو‘‘ عدلیہ کا باب بھی بند ہوچکا ہے۔ لاکھوں کروڑوں ڈالر خرچ کرکے، امریکی ارکانِ کانگریس کے ذریعے پاکستان کے چہرے پر کالک تھوپنے کی کوششیں، بھارت اور ہمارے دشمنوں کے دِلوں میں تو ضرور لالہ وگُل کھلا رہی ہیں، پاکستان پر کوئی اثرات نہیں ڈال رہیں۔ آخری حربہ یہی ہے کہ فتنہ وفساد کی آگ بھڑکائی جائے۔ کچھ لاشیں گریں، کچھ خون بہے، کچھ شعلے بھڑکیں، کچھ عمارتیں بھسم ہوں اور اِس آتشیں احتجاج کی حدّت سے فوج کا دِل اور اڈیالہ جیل کے آہنی وفولادی دروازے موم کی طرح پگھل جائیں۔

عمران خان کو بچانے کیلیے تحریک انصاف میں کوئی مخلص نہیں، فیصل واوڈا

عرفان صدیقی کے بقول برطانوی اخبار ’’گارڈین‘‘ نے کہا ہے کہ ’’عمران خان کی تازہ مہم جوئی کا اصل مقصد فوج کو مذاکرات پر مجبور کرنا ہے۔‘‘ لیکن فوج واضح کر چکی ہے کہ پہلے 9 مئی کے حملوں پر پوری قوم سے معافی مانگو، پھر ہم سے نہیں، سیاسی جماعتوں سے بات کرو۔ مگر خان صاحب کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اٹھائیس برس سے اپنا طرۂِ امتیاز بنائے بیانیے ’’چور اور ڈاکو‘‘ کے اسیر ہوچکے ہیں۔ اڈیالہ کا پھاٹک کھل بھی جائے تو وہ ’’چور اور ڈاکو‘‘ بیانیے کی کال کوٹھڑی سے کیسے نکلیں جسے اندر سے تالا ڈال کر انہوں نے چابی سلاخوں سے باہر پھینک دی ہے۔

Back to top button