صدر ٹرمپ کے ایران پر حملے سے سارا فائدہ روس کا کیوں؟

امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد پیدا ہونے والے عالمی توانائی بحران کا سب سے ذیادہ فائدہ امریکہ کے روایتی حریف روس کو ہوا ہے جو اپنا تیل بیچ کر اربوں ڈالرز کما رہا ہے۔ خلیجی خطے میں جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث دنیا میں تیل کی سپلائی متاثر ہوئی تو روس نے فوری طور پر موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی پٹرولیم مصنوعات بڑے پیمانے پر چین، بھارت اور دیگر ممالک کو فروخت کرنا شروع کر دیں، یوں ماسکو کو اربوں ڈالرز کا فائدہ ہو رہا ہے۔
یاد رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث آبنائے ہرمز عملاً بند ہو چکی ہے۔ یہ وہ اہم آبی گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا میں منتقل ہونے والے خام تیل اور مائع گیس کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ ایرانی افواج کی جانب سے اس راستے سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کے بعد بیشتر جہاز رانی کمپنیوں نے اپنے ٹینکر اس راستے سے گزارنا بند کر دیے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں جبکہ دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹیں دباؤ کا شکار ہیں۔ توانائی کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہ رکاوٹ چند ہفتوں سے زیادہ جاری رہی تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
پاکستان میں بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے خلاف جنگ طویل ہو گئی تو دنیا کے تمام ممالک تیل کے ہر اضافی بیرل کے لیے ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے نظر آئیں گے۔ عالمی بحران کے دوران سب سے زیادہ دباؤ ان ممالک پر پڑ رہا ہے جو توانائی کے بڑے درآمد کنندگان ہیں، خاص طور پر چین اور بھارت۔ یہ دونوں ممالک خلیجی ممالک سے آنے والی سپلائی پر بڑی حد تک انحصار کرتے ہیں۔
بھارت اپنی تیل کی ضروریات کا تقریباً 88 فیصد درآمدات سے پورا کرتا ہے جبکہ اس کے خام تیل کا تقریباً نصف حصہ خلیجی ممالک سے آتا ہے جو آبنائے ہرمز کے راستے ہی منتقل ہوتا ہے۔
توانائی ماہرین کے مطابق خلیج سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے بعد روسی تیل اب چین اور بھارت کے لیے زیادہ اہم اور قیمتی ہو گیا ہے۔ روس پہلے ہی دونوں ممالک کو بڑی مقدار میں تیل فراہم کرتا رہا ہے اور اب اس کی سپلائی مزید بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ موجودہ بحران کا بنیادی نتیجہ یہ ہوگا کہ روس زیادہ پیسہ کمائے گا جبکہ چین اور بھارت سمیت تمام درآمد کنندگان کو تیل کے لیے زیادہ قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ یاد رہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران امریکی دباؤ کے باعث بھارت نے روسی تیل کی خریداری کم کر دی تھی۔ یہ دباؤ دراصل واشنگٹن کی جانب سے روس پر عائد پابندیوں اور تجارتی مذاکرات کے تناظر میں ڈالا جا رہا تھا۔ جنوری تک روسی خام تیل بھارت کی درآمدات کا 20 فیصد سے بھی کم رہ گیا تھا جبکہ سعودیہ سے درآمدات کئی برسوں کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی تھیں۔
تاہم موجودہ بحران کے بعد صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔ روس کے نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک نے کہا ہے کہ ماسکو کو بھارت کی جانب سے اضافی روسی تیل خریدنے میں نئی دلچسپی کے واضح اشارے مل رہے ہیں۔ کم از کم تین بڑے آئل ٹینکر تقریباً 2.1 ملین بیرل روسی یورال خام تیل لے کر بھارتی بندرگاہوں کی جانب روانہ ہو چکے ہیں۔ چین کے لیے صورتحال کچھ مختلف مگر مجموعی طور پر اسی سمت میں جا رہی ہے۔ چین کو روسی خام تیل براہ راست پائپ لائن کے ذریعے بھی فراہم کیا جاتا ہے جس سے اس کی رسائی نسبتاً محفوظ ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق فروری کے مہینے میں چین کو روسی خام تیل کی ترسیل میں تقریباً 370 ہزار بیرل یومیہ اضافہ ہوا ہے۔ یہ تقریباً وہی مقدار ہے جو پہلے چین کو وینزویلا سے ملتی تھی۔ امریکی پابندیوں اور عالمی سیاسی تبدیلیوں کے باعث چین کو اپنے دو بڑے سپلائرز یعنی ایران اور وینزویلا سے بھی مشکلات کا سامنا ہے، جس کے بعد روس اس کے لیے مزید اہم سپلائر بنتا جا رہا ہے۔
توانائی ماہرین کے مطابق روس کے پاس اس وقت تقریباً 58 ملین بیرل خام تیل کا ذخیرہ موجود ہے جو سمندر میں موجود ٹینکروں میں رکھا گیا ہے۔ مغربی پابندیوں کے باعث یہ ٹینکر یورپی بندرگاہوں میں داخل نہیں ہو سکتے، تاہم اب یہی تیل بھارت اور چین کے لیے آسانی سے دستیاب ہو رہا ہے۔ تجزیہ کار کرس رائٹ کے مطابق جو بھی تیل پیدا کرنے والا ملک آبنائے ہرمز پر انحصار نہیں کرتا وہ موجودہ بحران میں عالمی سپلائی کے لیے انتہائی اہم ہو جائے گا اور روس اس وقت اسی پوزیشن میں کھڑا ہے۔ توانائی ماہرین کے مطابق روس کے علاوہ برازیل، ارجنٹینا، آسٹریلیا، ملائیشیا اور امریکہ بھی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور محدود سپلائی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
تاہم چین اور بھارت جیسے بڑے خریداروں کو سپلائی فراہم کرنے کے حوالے سے روس کی پوزیشن سب سے زیادہ مضبوط سمجھی جا رہی ہے کیونکہ یہ دونوں ممالک مل کر روزانہ تقریباً 22 سے 23 ملین بیرل تیل استعمال کرتے ہیں جو عالمی طلب کا تقریباً پانچواں حصہ ہے۔ پاکستان میں اس صورتحال پر تجزیہ کرتے ہوئے معروف صحافی شاہزیب خانزادہ نے جیو نیوز کے پروگرام “آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ” میں کہا کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے دراصل اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دباؤ کے نتیجے میں کیے گئے۔ ان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ماضی میں روس۔یوکرین جنگ ختم کروانے اور روسی تیل کی خریداری روکنے کے لیے سخت اقدامات کا اعلان کیا تھا جس کے نتیجے میں بھارت سمیت کئی ممالک نے روسی تیل کی درآمد کم کر دی تھی۔ تاہم ایران پر حملوں کے بعد پیدا ہونے والے توانائی بحران نے صورتحال یکسر بدل دی۔
ٹرمپ کے پاگل پن نے پاکستانی عوام کی چیخیں کیسے نکلوائیں؟
شاہزیب خانزادہ کے مطابق اب امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دوبارہ روس کی طرف دیکھنا پڑ رہا ہے جس سے روس کو معاشی فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ امریکہ کے جدید پیٹریاٹ میزائل پہلے یوکرین کو فراہم کیے جا رہے تھے تاکہ روسی حملوں کا مقابلہ کیا جا سکے لیکن اب یہی میزائل ایران کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث امریکہ، عرب ممالک اور اس کے اتحادیوں کو میزائلوں کی کمی کا سامنا ہے جبکہ روس کو سٹریٹجک برتری حاصل ہو رہی ہے۔
