حکومت 167 روپے فی لیٹر پٹرول خرید کر 272 میں کیوں بیچتی ہے؟

معاشی استحکام کی دعویدار حکومت نے صرف ڈیڑھ ماہ میں پٹرولیم مصنوعات کی فی لیٹر قیمت میں 30روپے کا اضافہ کر دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے ہمیشہ پٹرولیم پراڈکٹس کی قیمتوں میں اضافے کا یہی جواز دیا جاتا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پاکستان میں پٹرول کی قیمتیں بڑھائی جا رہی ہیں تاہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں فروخت ہونے والا پٹرول حکومتی ٹیکسوں، لیویز، اور منافع خوروں کے مفادات کا زہریلا مرکب ہے، جو فی لیٹر پٹرول کی قیمت میں 100 روپے سے زیادہ کا اضافہ کر دیتا ہے۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک ایسا پٹرول جو ریفائنری سے 167.51 روپے میں نکلتا ہے، وہ حکومت کی ٹیکس بھری راہداری سے گزرتے ہوئے 272.15 روپے میں عوام کے ہاتھ تک کیسے پہنچتا ہے۔ مبصرین کے مطابق جب ایک چیز کی اصل قیمت 167.51 روپے ہو اور وہ صارف تک پہنچتے پہنچتے 272.15 روپے فی لیٹر ہو جائے تو پہلا سوال یہی اٹھتا ہے: آخر اس درمیان کا فرق کہاں جا رہا ہے؟ اس کا سیدھا جواب ہے: ٹیکس، ڈیوٹیز، لیویز اور مارجن۔ حکومت اور متعلقہ ادارے جنہیں عوام کی فلاح کا نگہبان سمجھا جاتا ہے، وہ دراصل عام آدمی کی جیب پر سب سے بھاری ہاتھ ڈال رہے ہیں۔ شہری حقیقت میں پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس، ڈیوٹیز اور مارجن کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ دستاویزات کے مطابق حکومت کی جانب سے پیٹرول پر ٹیکسز اور ڈیوٹیز کی مد میں عوام سے 101 روپے 49 پیسے وصول کئے جارہے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل پرٹیکسز ڈیوٹیز کی مد میں عوام سے 95 روپے 74 پیسے وصول کئے جارہے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق حکومت پٹرول پر 75.52 روپے فی لیٹر صرف پٹرولیم لیوی کی مد میں وصول کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ 2.5 روپے کلائمیٹ لیوی، 6.98 روپے فریٹ چارجز، 7.87 روپے آئل مارکیٹنگ کمپنیز کا مارجن اور 8.64 روپے ڈیلرز کا منافع بھی عوام کے کندھوں پر لادا جا رہا ہے۔ گویا ایک ایسا پٹرول جو ریفائنری سے 167.51 روپے میں نکلتا ہے، وہ حکومتی ٹیکسز کے بعد 272.15 روپے میں عوام کے ہاتھ میں آتا ہے۔ اسی طرح ڈیزل پر پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی مد میں 74 روپے 51 پیسے وصول کئے جارہے، ڈیزل پر بھی حکومت کی جانب سے 2 روپے 50 پیسے کلائمیٹ لیوی عائد کی گئی ہے۔دستاویز میں مزید کہا گیا کہ ڈیزل پرفی لٹر 2 روپے 09 پیسے فریٹ چارجز وصول کئے جارہے ، ڈیزل پرتیل کمپنیوں کا مارجن 8روپے، ڈیلر مارجن 8 روپے 64 پیسےفی لٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی ایکس ریفائنری قیمت 177 روپے 24 پیسے فی لیٹر ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق 167.51 روپے فی لیٹر کی اصل قیمت والا پٹرول جب عوام کو 272.15 روپے میں فروخت کیا جاتا ہے، تو اس میں شامل 104.64 روپے فی لیٹر کی اضافی وصولی صرف ایک عددی فرق نہیں بلکہ ایک گہری معاشی ناانصافی کی عکاسی ہے۔ اس رقم میں شامل ٹیکسز اور اضافی چارجز ریاستی پالیسی کی اُس سمت کی نشان دہی کرتے ہیں جو عوامی ریلیف کے بجائے محصولات کے حصول کو ترجیح دیتی ہے۔ ناقدین کے بقول جب حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ قیمتوں میں اضافے کی وجہ صرف عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں ہیں، تو پھر یہ داخلی عوامل اور ٹیکسوں کا بوجھ کس کھاتے میں ڈالا جائے؟ یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب بین الاقوامی سطح پر قیمتیں کم ہوں، تو کیا اسی تیزی سے عوام کو فائدہ دیا جاتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ پٹرول پر لگائے گئے یہ غیر متناسب ٹیکسز اور لیویز عام شہری کی معاشی کمر توڑ رہے ہیں اور حکومت کے معاشی نظم و نسق پر ایک سنگین سوالیہ نشان لگا رہے ہیں۔
خیال رہے کہ صرف گزشتہ ڈیڑھ ماہ میں پٹرولیم مصنوعات 29 روپے71پیسے فی لیٹر تک مہنگی ہو گئی،یکم جون سے لیکر اب تک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں چار باراضافہ کیا گیا ہے-محض ڈیڑھ ماہ میں پیٹرول کی قیمت میں 19روپے 52 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 29 روپے71 پیسے فی لیٹر بڑھائی گئی-پیٹرول کی قیمت 31 مئی 2025 کو 252 روپے 63 پیسے فی لیٹر تھی اور اس وقت پیٹرول کی قیمت 272 روپے 15 پیسے فی لیٹر ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 31مئی 2025 کو 254 روپے 64پیسے فی لیٹر تھی اوراس وقت ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 284روپے 35پیسے فی لیٹر ہے-
پاکستان میں امریکی ڈالر کا ریٹ 325 روپے تک کیوں جانے والا ہے؟
مبصرین کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ایک ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب حکومت مسلسل ملکی معیشت کے اشاریوں میں بہتری کا عندیہ دیتے ہوئے دعویٰ کر رہی ہے کہ یہ مستحکم بنیادوں پر استوار ہو چکی ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں سے جڑی ہیں، یعنی سادہ الفاظ میں اگر عالمی سطح پر تیل کی مصنوعات کی قیمتوں بڑھیں گی تو پاکستان میں بھی ایسا ہی ہو گا۔حکومت نے جون کے مہینے اور جولائی کے آغاز میں پٹرولیم پراڈکٹس کی مقامی قیمت میں اضافے کی وجہ خام تیل کی بین الاقوامی قیمت کو قرار دیا جو ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کی وجہ سے تھوڑی اوپر چلی گئی تھی۔ حالانکہ پاکستان میں خام تیل کی قیمت عرب لائٹ خام تیل سے منسلک ہے جو جون کے آغاز پر 60 ڈالر فی بیرل سے کچھ زیادہ تھی۔ 13 جون کو ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد یہ قیمت 75 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔ تاہم عالمی سطح پر قیمتوں میں یہ بڑا اضافہ عارضی تھا اور جنگ بندی کے اعلان کے بعد یعنی 24 جون کو خام تیل کی قیمت 68 ڈالر فی بیرل تک آگئی ہے۔ تاہم رواں ماہ یعنی جولائی کے پہلے پندرہ دنوں میں عالمی سطح پر خام تیل کی قیمت 68 ڈالر فی بیرل کے لگ بھگ ہی رہی لیکن پاکستان میں 15 جولائی کی رات ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ کر دیا گیا۔ ایک ایسے وقت میں جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت مستحکم ہے، پاکستان میں اس کی قیمتوں میں لگاتار اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟
