حکومت کے لیے ایک اور آئینی ترمیمی پیکج لانا لازمی کیوں ہو گیا ؟

وفاقی حکومت کی جانب سے آئین میں 27ویں ترمیم لانے کی مسلسل تردید کے باوجود باخبر حلقوں کا دعوی ہے کہ حکومت کو 26 ویں ترمیمی پیکج موجود نقائص دور کرنے کے لیے ایک اور ترمیم لازمی لانا پڑے گی۔ تاہم فوجی عدالتوں کے قیام کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔

اگرچہ وزیر قانون سمیت کئی حکومتی شخصیات ستائیسویں آئینی ترمیم لانے کی تردید کر چکی ہیں مگر 26 ویں ترمیم میں ایسے نقائص موجود ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے، حکومتی تردیدوں کے باوجود اپوزیشن ستائیسویں آئینی ترمیم کی مزاحمت کی بات کر رہی ہے، اپوزیشن یہ سمجھ رہی ہے کہ شاید ستائیسویں ترمیم میں وہ تمام شقیں دوبارہ شامل کرنے کی تیاری ہو رہی ہے جنہیں مولانا فضل الرحمن ’کالا ناگ‘ قرار دے رہے تھے مگر حقیقت یہ ہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم میں واقعی ایسے نقائص موجود ہیں جنہیں دور کئے بغیر آئینی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے نظام کے تحت چیف جسٹس کے تقرر کے دوران بھی مسئلہ پیدا ہو سکتا تھا، جو مستقبل میں خطرناک صورت حال پیدا کر سکتا ہے، 26ویں ترمیم کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 175 اے میں چیف جسٹس کے تقرر کا طریقہ کار تبدیل کر دیا گیا اور اس کیلئے شرط رکھ دی گئی کہ اس تقرر کیلئے پارلیمانی کمیٹی کم از کم دو تہائی اکثریت سے فیصلہ کرے گی، لیخن اس شق میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اگر دو تہائی اکثریت پوری نہ ہو تو اس کا حل کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس معاملے میں وقت کی قید ضرور رکھی گئی ہے کہ نئے چیف جسٹس کے تقرر سے تین روز قبل یہ عمل مکمل کرنا ہے مگر دو تہائی اکثریت پوری نہ ہونے کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کا حل تجویز نہیں کیا گیا، چنانچہ پارلیمانی کمیٹی میں اختلاف رائے کی صورت میں مستقبل میں چیف جسٹس کی تقرری کا عمل ملک کی سب سے بڑی عدالت کے سربراہ سے متعلق بحرانی صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔

دوسرا معاملہ بھی آرٹیکل 175 اے سے متعلق ہے جس میں 13 رکنی جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی تشکیل ابہام کا شکار ہے، جوڈیشل کمیشن نے آئینی بینچز تشکیل دینے ہیں مگر اس کمیشن کی اپنی تشکیل ہی قانونی اور آئینی پیچیدگی کا شکار ہو چکی ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق 26 ویں آئینی ترمیم کی یہ خامی دور کئے بغیر آئینی بینچز نہیں بن سکتے، اس خامی نے بھی ایک بحرانی کیفیت پیدا کر دی ہے کہ وہ تمام کیسز جو سپریم کورٹ کے اختیار سے لے کر آئینی بینچز کے حوالے کر دیے گئے ان پر کارروائی رُک چکی ہے، یہی وجہ ہے کہ جہاں آئینی ترمیم کی کئی شقوں پر فوری عمل ہو چکا مگر اس انتہائی اہم معاملے پر تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

آئین کے آرٹیکل 175 اے میں ترمیم کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ایک 13 رکنی جوڈیشل کمیشن بنایا جائے گا۔ اسکے ممبران میں چیف جسٹس آف پاکستان، سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین جج صاحبان، آئینی بینچز کے سینئر ترین جج صاحب، وفاقی وزیر قانون، اٹارنی جنرل پاکستان، پاکستان بار کونسل کا نمائندہ، حکومت اور اپوزیشن کے دو دو اراکین، پارلیمنٹ اور قومی اسمبلی کے سپیکر کی نامزد کردہ ایک خاتون یا غیر مسلم سینیٹر شامل ہوں گے۔

حیران کن طور پر جوڈیشل کمیشن میں آئینی بینچز کے سینئر ترین جج کو تو رکن بنا دیا گیا مگر ابھی تک آئینی بینچز کا اپنا وجود ہی عمل میں نہیں آیا، ایسے میں اس رکن کے بغیر جوڈیشل کمیشن کی آئینی حیثیت پر سوالات اُٹھ سکتے ہیں اور معاملات عدالتوں میں جا سکتے ہیں، یعنی آئینی بینچ کے جس سینئر ترین جج کا تقرر خود جوڈیشل کمیشن نے ابھی کرنا ہے اسے جوڈیشل کمیشن کا رکن بنانے کی شرط بھی رکھ دی گئی ہے۔کچھ آئینی ماہرین کے خیال میں چونکہ آئینی بینچز بن ہی نہیں سکتے لہازا پہلے سے موجود بینچز کو ہی آئینی نوعیت کے کیسز اس وقت تک سننے ہوں گے جب تک کہ آئینی بینچز کی تشکیل عمل میں نہ آ جائے، ان دو بڑی خامیوں کو دور کرنے کیلئے آج نہیں تو کل آئینی ترمیم کرنا ہی ہوگی۔

حکومت کا فائز عیسیٰ پر حملہ کرنے والے یوتھیوں کو تننے کا فیصلہ

ذرائع کا کہنا ہے کہ جب 26 ویں آئینی ترمیم ہو رہی تھی تو کئی حلقوں خاص طور پر اپوزیشن نے اعتراض کیا تھا کہ یہ سب کچھ جلد بازی میں ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں کئی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، اور اب وہی ہوا جس کا ڈر تھا، یعنی آئینی ترمیم ہونے کے چند ہی روز بعد اب صورت حال عیاں ہو گئی ہے۔

وزارت قانون و انصاف نے اس صورتحال پر ایک وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175 اے (2) کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان 13 اراکین پر مشتمل ہے، کمیشن اپنے پہلے اجلاس میں سپریم کورٹ کے آئینی بینچز کی تشکیل کیلئے ججوں کو نامزد کرے گا اور نامزد ججوں میں سے سینئر ترین جج آئینی بینچز کا سب سے سینئر جج ہوگا، آئینی بینچز کا سینئر جج اگر پہلے ہی بطور سپریم کورٹ جج کمیشن کا رکن ہے تو آئینی بینچز کا اگلا سینئر جج کمیشن کا رکن بن جائے گا۔

ساتھ ہی یہ بات بھی واضح کرنے کی کوشش کی گئی کہ کمیشن کی طرف سے لیا گیا کوئی فیصلہ صرف اس بنیاد پر باطل نہیں ہو سکتا کہ کمیشن میں کوئی آسامی خالی ہو یا اس کا کوئی رکن غیر حاضر ہو، وزارت قانون کی وضاحت آنے کے باوجود صورتحال اتنی سادہ بھی نہیں جتنی حکومت کی قانونی ٹیم بتانے کی کوشش کر رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ ابھی تک آئینی بینچز کی تشکیل کا معاملہ التوا کا شکار ہے۔

Back to top button