کراچی میں بھتہ خوری کا آسیب دوبارہ کیوں سر اٹھانے لگا

 

 

 

ماضی میں روشنیوں کے شہر کراچی میں لیاری گینگ وار اور سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز کی پہچان سمجھا جانے والا بھتہ خوری کا آسیب،اب نئی شکل، نئے چہرے اور جدید ٹیکنالوجی کے ہتھیاروں کے ساتھ ایک بار پھر سے کراچی کے تاجروں اور عام شہریوں پر قہر بن کر ٹوٹ رہا ہے۔ آج لیاری، سرجانی، نارتھ کراچی، ایف بی ایریا سمیت شہر کے پوش علاقوں میں دھمکی آمیز کالز اور پرچیاں، دستی بم حملے اور فائرنگ جیسے واقعات روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے بھتہ خور چہرہ دکھاتے تھے، اب وہ بیرون ملک بیٹھ کر وی پی این اور انٹرنیٹ ایپلیکیشنز کے ذریعے واٹس ایپ کالز کرتے ہیں، پولیس افسران کو دھمکاتے ہیں اور عوام کے دلوں میں خوف کا بیج بوکر لاکھوں کروڑوں روپے کے بھتے کا تقاضا کرتے نظر آتے ہیں۔

 

گزشتہ چند برسوں میں شہر قائد میں بھتہ خوری کی وارداتوں نے دوبارہ زور پکڑ لیا ہے۔ ضلع سٹی میں لیاری گینگ وار بادشاہ خان اور جمیل چھانگا گروپ اور ان کے دیگر گروپس کے کارندوں کی جانب سے زیر تعمیر عمارتوں پر بھتے کی پرچیاں، دستی بم سے حملے اور فائرنگ کے واقعات معمول بن گئے ہیں۔ دوسری جانب ضلع وسطی میں پکوان سینٹرز، کیٹرنگ ہائوسز اور چھوٹے کاروباری حضرات کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں مسلسل بھتے کی پرچیاں پہنچ رہی ہیں اور مزاحمت یا عدم توجہ کی صورت میں فائرنگ کے ذریعے خوف و ہراس پھیلایا جاتا ہے۔ تحقیقاتی اداروں کے مطابق ان وارداتوں کے پیچھے لیاری گینگ وار کا ایک گروہ عبدالصمد کاٹھیا واڑی عرف بھنگی عرف اردلی گروپ ملوث ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ نیٹ ورک صرف کراچی میں ہی نہیں بلکہ بیرون ملک بیٹھے افراد کے ذریعے بھی چلایا جا رہا ہے۔ بھتہ خور گروہ انٹرنیشنل نمبرز سے کاروباری افراد کو فون کالز کرتے ہیں، پرچیاں بھجواتے ہیں اور مقامی کارندوں کے ذریعے فائرنگ کی وارداتیں کراتے ہیں۔ یہ حکمت عملی کاروباری طبقے کو ڈرانے اور انہیں مجبور کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے کہ وہ بھتے کی رقم ادا کریں۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے مقامی کارندوں کی گرفتاریاں تو کی جا رہی ہیں، لیکن اصل نیٹ ورک کو توڑنے میں تاحال کوئی بڑی کامیابی سامنے نہیں آئی۔ پولیس بعض اوقات شارٹ ٹرم کڈنیپنگ یا چھوٹی وارداتوں پر تو ردعمل دیتی ہے مگر بھتہ خوری جیسے سنگین معاملے میں خاطر خواہ اقدامات نظر نہیں آتے۔ بھتہ خوروں کے طریقہ کار نے کاروباری طبقے میں خوف کی ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے۔ پرچیاں ملتے ہی یا فائرنگ کے بعد کاروباری افراد اپنی جان و مال کے تحفظ کے لیے خاموشی سے رقم ادا کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بھتہ خوری کے خاتمے کے لیے قائم کیے گئے پولیس سیلز کی افادیت پر سوال اٹھنا شروع ہوگئے ہیں۔

 

ماضی میں کراچی میں بھتہ خوری زیادہ تر لیاری گینگسٹرز اور سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز کے ذریعے کی جاتی تھی مگر 2013 میں ہونے والے آپریشن کے بعد متعدد ملزمان بیرون ملک فرار ہوگئے۔ اب یہی نیٹ ورک بیرون ملک سے بیٹھ کر نہ صرف اپنے پرانے رابطوں کو بحال کر رہا ہے، بلکہ مقامی سطح پر بھی نئے کارندوں کو استعمال کر رہا ہے۔ کراچی کا امن و سکون ایک بار پھر خطرے میں ہے۔ بھتہ خور گروہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں نہ صرف شہریوں کے اعتماد کو مجروح کر رہی ہیں، بلکہ کاروباری طبقے کی مشکلات میں بھی اضافہ کر رہی ہیں۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل گنڈاپور کا 43 ارب کا سکینڈل سامنے لے آئی

ناقدین کے مطابق اس ساری صورتحال کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ بھتہ خوری کی وارداتوں میں مسلسل اضافے کے باوجود پولیس صرف تب حرکت میں آتی ہے جب کوئی ہائی پروفائل واقعہ ہو، جب میڈیا شور مچائے یا کسی وزیر کی توجہ اس واردات کی جانب مبذول کروائی جائے تاہم عام شہریوں کو ملنے والی روزمرہ کی دھمکیاں، گمنام پرچیاں، اور عام دکانداروں پر ہونے والی فائرنگ، بس ایک "معمول” کی رپورٹ بن کر فائلوں میں دفن ہو جاتی ہیں۔ سیکیورٹی اداروں کی نااہلی اور ناکامی کی وجہ سے جن کاروباری افراد کو تحفظ دینا پولیس کی ذمہ داری ہے، وہی افراد آج خاموشی سے بھتہ ادا کرنے پر مجبور ہیں۔

 

مبصرین کے مطابق کراچی میں بڑھتی ہوئی بھتہ خوری کے حوالے سے سامنے آنے والے حقائق میں سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے خود اعتراف کرتے ہیں کہ ان کے پاس جدید ٹیکنالوجی نہیں کہ وہ پتا چلا سکیں کہ کراچی کے تاجروں کو دھنمکانے اور بھتہ وصول کرنے میں ملوث اصل عناصر کون ہیں ناقدین کے مطابق یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ایٹمی ملک، جو دنیا کی پانچویں بڑی فوج رکھتا ہے، وہ اپنے تاجروں کو دستی بم بردار گروہوں سے بچانے میں ناکام ہے؟ کیا سیکیورٹی اداروں کے پاس ٹیکنالوجی صرف شہریوں کی جاسوسی کے لیے ہے؟ کیا یہ وسائل صرف سیاسی مخالفین کی نگرانی پر صرف ہونے ہیں؟ اگر شہری تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے تو کراچی کے شہری کب اس "ترجیح” میں آئیں گے؟ مبصتٓرین کے مطابق کراچی بد امنی اور بھتہ خوری کوئی معمولی چیز نہیں کیونکہ کراچی ملکی معیشت کی شہ رگ ہے۔ اگر یہاں کے تاجر، صنعتکار اور دکاندار خوف میں زندگی گزاریں گے تو یہ خوف صرف ایک شہر تک محدود نہیں رہے گا۔ بلکہ پورے ،ملک میں سرایت کر جائے گا جس کا خمیازہ عوام کے ساتھ ساتھ حکومت کو بھی بھگتنا پڑے گا۔

 

Back to top button