سونے کی قیمت بڑھنے کے بعد پاکستانی جیولری کی برآمدات صفر

 

 

 

عالمی مارکیٹ میں خام سونے کی طلب میں نمایاں اضافے کےبعد پاکستان سے گولڈ جیولری کی برآمدات عملاً صفر ہو چکی ہیں، جبکہ دوسری جانب ملک میں سونے کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچنے کے باوجود سونے کی درآمدات میں بھی غیر معمولی اور تاریخی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

 

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی خریدار اب تیار شدہ جیولری کے بجائے خام سونا خریدنے کو ترجیح دے رہے ہیں، کیونکہ عالمی غیر یقینی معاشی حالات، جغرافیائی کشیدگی اور افراطِ زر کے باعث سونے کو محفوظ سرمایہ سمجھا جا رہا ہے۔ اس عالمی رجحان کی وجہ سے پاکستان سمیت ویلیو ایڈڈ جیولری کے ذریعے برآمدات میں اضافے کیلئے کوشش کرنے والے ممالک شدید متاثر ہوئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سونے کی جیولری کی صنعت پہلے ہی بلند پیداواری لاگت، توانائی کے مسائل اور جدید ٹیکنالوجی کی کمی جیسے چیلنجز کا شکار تھی، تاہم عالمی سطح پر خام سونے کی مانگ میں اضافے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بین الاقوامی خریدار خام سونا اس لیے پسند کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنی مقامی صنعتوں میں اسے پراسیس کر کے زیادہ منافع حاصل کر سکیں، جس سے پاکستان جیسے ممالک کے لیے تیار شدہ زیورات کی برآمدات کے مواقع محدود ہو گئے ہیں۔

 

تجارتی ماہرین کے مطابق برآمدات کے صفر تک پہنچنے کی ایک بڑی وجہ مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ بھی ہے۔ جب خام مال مہنگا ہو جائے تو جیولری کی تیاری نہ صرف مشکل بلکہ عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل بھی نہیں رہتی۔ اس کے علاوہ کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور برآمدی پالیسیوں میں عدم تسلسل نے بھی خریداروں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستانی جیولرز عالمی مارکیٹ میں اپنی جگہ برقرار رکھنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔

 

خیال رہے کہ ہفتے کے روز 10 گرام سونے کی قیمت نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جو 4 لاکھ 7 ہزار 803 روپے رہی، جبکہ ایک تولہ سونا 4 لاکھ 75 ہزار 662 روپے میں فروخت ہوا۔ یہ نرخ جمعے کے مقابلے میں بالترتیب ایک ہزار 972 روپے اور دو ہزار 300 روپے زیادہ تھے۔آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں مسلسل اضافے کے اثرات مقامی مارکیٹ پر بھی پڑے، جہاں سونا 23 ڈالر اضافے کے بعد 4 ہزار 533 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا۔ ماہرین کے مطابق قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے باعث ملک میں زیورات کی برآمدات کا شعبہ شدید بحران سے دوچار ہے اور کاروباری سرگرمیاں نمایاں طور پر متاثر ہو رہی ہیں۔ سونے کے زیورات کی برآمدات میں کمی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جولائی سے نومبر 2025 کے دوران پانچ ماہ میں زیورات کی برآمدات 97 فیصد کمی کے بعد صرف ایک لاکھ 13 ہزار ڈالر رہیں، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 82 لاکھ ڈالر تھیں جبکہ دوسری جانب نومبر میں سونے کی درآمد بدستور صفر رہی۔ ملک میں سونے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کو بھی گولڈ جیولری کی برآمدات میں کمی کی ایک وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق یکم جنوری 2025 کو 10 گرام سونا 2 لاکھ 34 ہزار 568 روپے اور ایک تولہ 2 لاکھ 73 ہزار 600 روپے تھا۔ اب تک 10 گرام سونے کی قیمت میں ایک لاکھ 77 ہزار جبکہ فی تولہ قیمت میں دو لاکھ دو ہزار روپے سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے۔

بھارت میں اقلیتوں پر مظالم تشویشناک ہے، دفتر خارجہ

اقتصادی تجزیہ کار اس صورتحال کو محض عالمی رجحان کا نتیجہ نہیں بلکہ پالیسی خلا کا عکاس بھی قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر بروقت اصلاحات، برآمدی مراعات اور جدید ڈیزائن و ہنرمندی پر سرمایہ کاری کی جاتی تو پاکستان عالمی سونے کی مارکیٹ میں ویلیو ایڈڈ مصنوعات کے ذریعے بہتر پوزیشن حاصل کر سکتا تھا۔ ماہرین یہ بھی تجویز دیتے ہیں کہ حکومت کو جیولری سیکٹر کے لیے خصوصی زونز، ٹیکس میں سہولت اور تربیتی پروگرام متعارف کرانے چاہئیں تاکہ صنعت دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکے۔ ماہرین کے مطابق مجموعی طور پر عالمی مارکیٹ میں خام سونے کی بڑھتی ہوئی طلب نے پاکستان کی گولڈ جیولری برآمدات کو شدید نقصان پہنچایا ہے، اور اگر اس بدلتے ہوئے رجحان کے مطابق حکمتِ عملی نہ اپنائی گئی تو یہ شعبہ طویل مدت تک زوال کا شکار رہ سکتا ہے۔ حکومت کو سونے برآمدات کی بحالی کے لیے عالمی رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے جامع اور دیرپا پالیسی اپنانا ہو گی۔

Back to top button