سیکیورٹی فورسز TTP کے ڈرون حملے روکنے میں ناکام کیوں؟

 

 

 

اپنے تمام تر دعووں کے باوجود پاکستانی سیکیورٹی فورسز خیبر پختون خواہ کے قبائلی علاقوں میں تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے بڑھتے ہوئے کواڈ کاپٹر اور ڈرون حملے روکنے میں ناکام ہو گئی ہیں۔ طالبان شدت پسندوں کی جانب سے فوجی چوکیوں اور پولیس تھانوں پر حملوں کے لیے جدید ترین کواڈ کاپٹرز استعمال کیے جا رہے ہیں اور تمام تر کوشش کے باوجود یہ سلسلہ تھمنے کی بجائے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

 

دلچسپ بات یہ ہے کہ ضلع بنوں کے ایک تھانے پر گذشتہ چند ماہ کے دوران مجموعی طور پر ڈرونز اور کواڈ کاپٹرز کی مدد سے 13 حملے کیے جا چکے ہیں۔ بی بی سی کے ایک نمائندے نے حال ہی میں اس تھانے کا دورہ کیا جہاں کے در و دیوار پر حملوں کے اثرات اب بھی واضح نظر آتے ہیں۔ بنوں پولیس کے مطابق تھانہ میریان پر 13 کواڈ کاپٹر حملوں میں اس تھانے میں تعینات دس پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ ان حملوں کے بعد سے پولیس اہلکاروں کو ہر لمحے چوکنا رہنا پڑتا ہے۔ یہاں طالبان کے حملے روکنے کے لیے اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی نصب کی گئی ہے جبکہ حفاظت پر تعینات اہلکار نائٹ ویژن تھرمل ہتھیاروں سے لیس ہیں۔

 

بی بی سی کے مطابق یہ صورت حال اب محض تھانہ میریان تک محدود نہیں رہی بلکہ تحریک طالبان کے حملوں کا زیادہ شکار بننے والے اضلاع میں پولیس چوکیوں اور تھانوں میں لگ بھگ ایسی ہی صورتحال ہے۔

بنوں کے ضلعی پولیس افسر ڈی پی او سلیم عباس کلاچی نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس اب اس نوعیت کے حملوں کے لیے ہر وقت تیار رہتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ شدت پسند بنیادی طور پر حملوں کے لیے کمرشل کواڈ کاپٹرز کا استعمال کر رہے ہیں جو عام طور پر میڈیکل کٹس اور چھوٹا سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ ترسیل کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

 

ڈی پی او سلیم عباس نے بتایا کہ ٹی ٹی پی کے دہشت گرد اِن کمرشل کواڈ کاپٹرز میں دیسی طریقے سے بارودی مواد نصب کر کے انھیں اپنے مطلوبہ ٹارگٹ کی جانب روانہ کر دیتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے حملوں کو روکنا مشکل تو ضرور ہے لیکن پولیس اب تیار رہتی ہے اور حالات ہی میں کواڈ کاپٹرز کے کئی حملے ناکام بنائے ہیں۔ پولیس کے مطابق رواں برس اپریل سے ستمبر تک بنوں کے تھانوں اور چوکیوں پر کواڈ کاپٹرز کے ذریعے 18 حملے کیے جا چکے ہیں۔ خیبرپختونحوا کے شدت پسندی سے متاثرہ اضلاع میں واقع چوکیوں اور تھانوں پر گولیوں اور دھماکوں کے نشانات واضح نظر آتے ہیں۔ اب ان کے گرد دیواروں کو کنکریٹ کے ساتھ مضبوط کیا جا رہا ہے جبکہ مورچوں کو بھی بہتر انداز میں تیار کیا جا رہا ہے۔

 

ان اضلاع کے مقامی افراد کا کہنا ہے کہ وہ اب اکثر فضا میں ڈرون یا کواڈ کاپٹرز دیکھتے ہیں اور ان کی موجودگی انھیں خوف کا إحساس دلاتی ہے۔

بنوں، شمالی وزیرستان اور لکی مروت ریجن کے پولیس سربراہ سجاد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اب تک شدت پسندوں کے دو کواڈ کاپٹر گرائے بھی جا چکے ہیں۔ انھوں نے اس تاثر کی تردید کہ ان حملوں میں زیادہ نقصان عام شہریوں کا ہوا ہے۔

سجاد خان کہتے ہیں کہ طالبان شدت پسندوں کے پاس جو ڈرون اور کواڈ کاپٹرز ہیں وہ دیسی ساختہ ہیں جن میں بڑی ٹیکنالوجی نہیں ہوتی اور نہ ہی دہشت گرد انھیں استعمال کرتے ہوئے اپنا ہدف دسرت طریوے سے حاصل کر پاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے سکیورٹی فورسز اور صوبائی حکومت نے خیبر پختونخوا پولیس کو جدید اسلحہ فراہم کرنا شروع کیا ہے جن میں اینٹی ڈرون ڈیوائس بھی شامل ہیں جو بنیادی طور پر پہلے ڈرونز کی نشاندہی کرکے انھیں جام کر دیتی ہیں اور پھر انھیں فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا جاتا ہے۔

 

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار احسان اللہ ٹیپو محسود نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں طالبان کی جانب سے حملوں میں استعمال ہونے والے کواڈ کاپٹر اُن ڈرونز سے کافی ذیادہ مختلف ہیں جو کہ امریکہ دیگر ممالک بشمول افغانستان میں اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ سستے چینی کواڈ کاپٹر ہیں۔ شدت پسند اِن میں رد و بدل کر کے اور ان میں بارودی مواد نصب کر کے استعمال کر رہے ہیں۔

 

احسان اللہ ٹیپو کے مطابق اتحاد المجاہدین اور تحریک طالبان کے حافظ گل بہادر گروپ کی جانب سے یہ کواڈ کاپٹر استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ان تنظیموں نے پولیس تھانوں پر حملوں کے بعد ویڈیوز بھی جاری کی ہیں۔ سوشل میڈیا پر طالبان کی جانب سے ریلیز کی گئی تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کیسے پلاسٹک کی بوتل میں بارودی مواد ڈال کر اور اس پر بیڈمنٹن شٹل لگا کر اسے ڈرون کی مدد سے ہدف پر پھینکا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ہلکا سامان ڈلیور کرنے والے کمرشل ڈرونز اور کواڈ کاپٹرز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

 

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ مہینوں میں پاکستانی طالبان کی جانب سے کواڈ کاپٹرز اور چھوٹے سائز کے کمرشل ڈرونز کے ذریعے حملے کر کے اُن کی ذمہ داری قبول کرنے کا عمل تیز ہوا ہے۔ بظاہر یہ سیکورٹی فورسز پر طالبان کے حملوں کے تخریبی پہلو میں ایک خطرناک اضافہ ہے۔ اس نوعیت کے حملوں کی خبریں پاکستان میں پہلی مرتبہ 2024 کے اوائل میں شمالی وزیرستان سے سامنے آئیں، تاہم پاکستانی طالبان نے ابتدا میں ان کی ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کیا۔لیکن رواں برس کے آغاز سے ’طالبان نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے ساتھ اِن کی ریکارڈڈ ویڈیو فوٹیج بھی اپنے پراپیگنڈا آؤٹ لیٹس پر ریلیز کرنا شروع کر دیں۔

 

ابتدا میں اِن حملوں کی اعلانیہ طور پر ذمہ داری قبول کرنے کے حوالے سے تحریک طالبان کے دھڑوں میں اختلافات تھے، جو سوشل میڈیا پر اِن گروہوں کے مختلف رسمی چینلز پر باہمی تنازع کی صورت میں سامنے آئے۔ لیکن اس نوعیت کے حملوں کی پہلی مرتبہ ذمہ داری اپریل 2025 میں حافظ گل بہادر کی قیادت میں بننے والی پاکستانی طالبان کے اتحادِ المجاہدین نے میڈیا بیانات میں قبول کی، جس پر پاکستانی طالبان کے سب سے بڑے دھڑے تحریکِ طالبانِ پاکستان کے حمایتیوں کی جانب سے کافی تنقید کی گئی اور زور دیا گیا کہ ڈرون کے استعمال کی اعلانیہ تصدیق نہ کی جائے۔‘

 

ایسی تنقید کرنے والوں کی رائے یہ تھی کہ یہ طالبان کی جانب سے استعمال کی جانے والی ایک نئی ٹیکنالوجی ہے جس کی ذمہ داری قبول کرنے اور ویڈیوز ریلیز کرنے سے اس کی سپلائی لائن متاثر ہو سکتی ہے۔ تاہم تنقید کے باوجود جب اتحادِ المجاہدین کی جانب سے اس پر کوئی کان نہ دھرا گیا تو تحریکِ طالبان نے بھی اپنے حملوں کی روزمرہ اور ماہانہ رپورٹس میں کواڈ کاپٹرز حملوں کی ذمہ داری قبول کرنا شروع کر دی۔ اب اتحادِ المجاہدین اور تحریکِ طالبانِ کواڈ کاپٹر حملوں کی پراپیگنڈا ویڈیوز تیار کر کے انھیں ایک اہم کامیابی کے طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہیں۔

 

Back to top button