اگلے برس عمران کے مشکلات میں کمی کی بجائے اضافے کا امکان

2025کی طرح 2026 میں بھی عمران خان اور ان کی جماعت کو کسی قسم کا ریلیف ملنے کا کوئی امکان نہیں بلکہ آنے والے دنوں میں بانی پی ٹی آئی کو مختلف مقدمات میں مزید سزائیں سنائے جانے اور تحریکِ انصاف کے گرد گھیرا مزید تنگ کیے جانے کے امکانات روش ہیں۔ تاہم مبصرین کے مطابق اگر پی ٹی آئی قیادت اور خیبر پختونخوا حکومت نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کو ترجیح دے تو اعلی عدالتوں سے نہ صرف نو مئی مقدمات میں ملنے والی سزائیں ختم ہوسکتی ہیں بلکہ تحریک انصاف کے بند گلی سے واپسی کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔ تاہم جیلوں سے باہر موجود تحریکِ انصاف کی قیادت کی جارحانہ حکمتِ عملی کے باعث مفاہمتی سیاست کو آگے بڑھانے کے امکانات معدوم ہیں۔
سینیئر تجزیہ کار مجیب الرحمن شامی کے مطابق ’پی ٹی آئی مسلسل مشکلات سے دوچار ہے۔ نو مئی کے پر تشدد احتجاج نے ان کے سیاسی راستے بند کر دئیے ہیں۔ گزشتہ دو سال کے دوران پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے مزاحمت کا راستہ اپنانے کے بعد ریاست نے بھی تحریک انصاف پر ہر طرح کی سختیاں بڑھا دیں۔لیکن ماضی کو مدنظر رکھا جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ جو کچھ عمران خان یا پی ٹی آئی رہنماوں کے خلاف ہونا تھا ہوگیا۔ اب شاید اعلی عدالتوں سے انہیں ریلیف ملنا شروع ہو جائے لیکن اس کا انحصار تحریک انصاف کی سیاسی حکمت عملی پر ہے۔‘ اگر تحریکِ انصاف کی جانب سے مزاحمت ترک کر کے مفاہمتی فارمولے کو اختیار کیا گیا تو پارٹی کا مشکل وقت ختم ہو سکتا ہے، تاہم اگر قیادت نے مزاحمتی بیانیے اور احتجاجی حکمتِ عملی پر ہی اصرار جاری رکھا تو تحریکِ انصاف کے گرد گھیرا مزید تنگ کیے جانے کا امکان ہے۔ مجیب الرحمن شامی کے بقول، ’پاکستان میں سیاسی حلات بارے پیشگوئی کرنا بہت مشکل ہے۔ کچھ نہیں کہا جاسکتا کب سیاسی حالات بدل جائیں۔ عمران خان نے پارٹی قیادت کی بجائے محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر کو مذاکرات یا احتجاج بارے فیصلے کے اختیارات دے دئیے ہیں جبکہ انھوں نے حکومتی مذاکرات کی پیشکش قبول کر کے بات چیت کی راہ ہموار کر دی ہے اب اگر عمران خان نے اپنے فیصلے سے یوٹرن نہ لیا تو اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کوئی مفاہمتی راستہ نکال سکتے ہیں۔
تاہم دوسری جانب تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق ’تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ عمران خان خود ہیں کیونکہ جب کبھی پی ٹی آئی رہنما حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات اور گفتگو کا راستہ بناتے ہیں تو عمراں خان جیل کے اندر سے ہی ایسا بیانیہ اپناتے ہیں کہ سارے کا سارا کھیل چوپٹ ہو جاتا ہے عمران خان ٹوئٹر پر جاری کردہ اپنے متنازع بیان سے سارا معاملہ ختم کر دیتے ہیں۔ سلمان غنی کے مطابق پی ٹی آئی کو مزاحمت کی بجائے سیاسی افہام وتفہیم کا راستہ اپنا لینا چاہیے۔ پی ٹی آئی قیادت کو سمجھنا چاہیے کہ اپنے ہی ملک کے اداروں کے ساتھ کبھی لڑائی نہیں ہوسکتی۔ سلمان غنی کے مطابق پی ٹی آئی کے معاملات کے بگاڑ میں ان کے سوشل میڈیا بریگیڈ کا بڑا کردار ہے۔ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا انقلابیوں نے ہر اہم موقع پر منفی پروپیگنڈا سے نہ صرف اپنی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ پارٹی کو بھی بند گلی میں دھکیل دیا ہے۔ سلمان غنی کے مطابق پی ٹی آئی کو ریلیف نہ ملنے میں دوسری بڑی رکاوٹ تحریک انصاف کی متبادل قیادت کا ہے۔ کیونکہ جیل میں بانی پی ٹی آئی حکومت کی بجائے صرف اسٹبلشمنٹ سے مذاکرات کیلئے بضد ہیں جبکہ جو پارٹہ رہنما جیل سے باہر ہیں اور بات چیت سے معاملات حل کرنے کیلئے کوشاں ہیں انہیں مکمل اختیار نہیں دیا جا رہا۔ جس کی وجہ سے مذاکراتی عمل مسلسل ناکامی کا شکار ہے۔
بعض دیگر مبصرین کے مطابق تحریکِ انصاف کو یہ حقیقت سمجھ لینی چاہیے کہ ماضی کی تمام سیاسی تحریکیں اس وقت تک حکومتیں گرانے میں کامیاب نہیں ہوئیں جب تک انہیں اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد حاصل نہیں تھی۔ اس وقت چونکہ اسٹیبلشمنٹ حکومت کے ساتھ کھڑی ہے اس لئے کسی بھی احتجاجی تحریک کے ذریعے حکومت کا خاتمہ ناممکن ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے مفاہمتی حلقوں کے مطابق توقع کی جارہی ہے کہ شاہ محمود کی آٹھ میں سے چار مقدمات میں بریت ہوچکی اگر باقی چار مقدمات میں بھی بری ہو کر رہا ہو جائیں تو وہ دیگر رہنماوں کے ساتھ مل کر نہ صرف پارٹی کو سیاسی بہتری کی طرف لے جاسکتے ہیں۔ بلکہ اسٹیبلشمنٹ سے تناؤ میں بھی کمی کے لیے کردار ادا کر سکتے ہیں۔
