تحریک انصاف کااگلے6ماہ سڑکوں پرنکلناممکن کیوں نہیں؟

ملک گیر احتجاجی تحریک کے معاملے پر انتشار کا شکار پی ٹی آئی میں گروپنگ کھل کر سامنے آ گئی۔ محمود خان اچکزئی، علامہ ناصر عباس، بیرسٹر گوہر اور ان کے ہم خیال پارٹی رہنماؤں کی جانب سے مذاکراتی عمل آگے بڑھانے کے اعلان کے بعد وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور علیمہ خان گروپ نے مذاکرات کی سخت مخالفت کرتے ہوئے پی ٹی آئی کارکنان کو سڑکوں پر لانے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ تاہم مبصرین کے مطابق اپریل 2026سے قبل پی ٹی آئی کی احتجاجی تحریک شروع ہونے کے امکانات معدوم ہیں کیونکہ جنوری میں شدید سردی ہوگی اور کارکنان کے لیے سرد موسم میں نکلنا اور راتیں سڑکوں پر گزارنا مشکل ہوگا، جبکہ فروری میں رمضان المبارک کی آمد کے باعث احتجاجی سرگرمیاں مزید محدود ہو جائیں گی اس لئے پی ٹی آئی کا اپریل سے قبل بھرپور عوامی طاقت کے ساتھ سڑکوں پر نکلنا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔

خیال رہے کہ تحریکِ انصاف کی مسلسل ناکام احتجاجی اور مزاحمتی سیاست کے باوجود توشہ خانہ ٹو کیس میں 17 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان نے ایک بار پھر عوامی احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔ عمران خان نے وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے نام جاری کیے گئے پیغام میں کہا ہے کہ ’’بہت صبر کر لیا، اب سٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں۔‘‘ مبصرین کے مطابق عمران خان نے ایک مرتبہ پھر احتجاج کی کال تو دے دی ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ آیا اس بار عوام ان کی اپیل پر سڑکوں پر نکلیں گے یا تحریکِ انصاف کو ایک بار پھر ماضی کی طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا؟

مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاجی تحریک شروع کرنے کی تیاری تو کررہی ہے، تاہم  نئے سال کے ابتدائی چند مہینوں میں تحریک شروع ہونے کے امکانات کم ہیں کیونکہ جہاں سخت سردی کی وجہ سے عوام کو سڑکوں پر لانا مشکل ہے وہیں پارٹی رہنما بھی احتجاجی تحریک کے حوالے سے ایک پیج پر نہیں ہیں۔ پی ٹی آئی کے ایک اہم سینیئر رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سہیل آفریدی علیمہ خان گروپ کے ساتھ ہیں جو بنیادی طور پر احتجاج کے حق میں ہے اور مذاکرات کے بجائے سڑکوں پر احتجاج کو ترجیح دے رہا ہے۔ سہیل آفریدی کو اندازہ ہے کہ علی امین گنڈاپور سے کارکنان ناراض ہیں اور منظم احتجاج نہ کرنے پر ہی انہیں وزیراعلیٰ کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔ سہیل آفریدی اپنی کرسی کو بچانے کیلئے احتجاج کے حق میں آواز بلند کر رہے ہیں تاکہ پارٹی کارکنان کو رام کیا جا سکے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ 2026 کے ابتدائی مہینوں میں احتجاج کی بالکل کوئی گنجائش نہیں ہے۔جنوری میں شدید سردی ہوگی اور کارکنان کے لیے سرد موسم میں نکلنا اور راتیں سڑکوں پر گزارنا مشکل ہوگا، جبکہ فروری میں رمضان آ رہا ہے اور رمضان میں احتجاج کرنا ناممکن ہے۔ اس لئے اگر احتجاج شروع ہوا تو اپریل کے بعد ہی ہوگا کیونکہ  سہیل آفریدی کی کوشش ہے کہ مکمل تیاری کے ساتھ احتجاج کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ دباؤ پیدا ہو۔ان کے مطابق پارٹی کے اندرونی اجلاسوں میں بھی ان تمام امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے اور متفقہ رائے یہی ہے کہ عید کے بعد ہی احتجاج ممکن ہوگا،تاہم عید کے بعد دوبارہ کارکنوں کو فعال کرنے اور مکمل تیاری کے ساتھ نکلنے میں مزید کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

دوسری جانب پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ احتجاجی تحریک کے معاملے پر پارٹی قیادت یکسو نہیں ہے اور اس حوالے سے کھلی تقسیم اور اختلافات موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق پارٹی کے اندر ایک گروپ مذاکرات کا حامی ہے، جبکہ دوسرا گروپ بھرپور عوامی احتجاجی تحریک کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ بعض اہم رہنما تصادم کے بجائے مذاکرات اور جمہوری راستہ اختیار کرنے کے حق میں ہیں، جبکہ عمران خان کی بہنیں سڑکوں پر مؤثر اور بھرپور احتجاج کی حامی سمجھی جاتی ہیں۔ذرائع کے مطابق علیمہ خان اور سہیل آفریدی پر مشتمل گروپ احتجاج کے حق میں ہے، جبکہ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر اور ان کے ہم خیال رہنما مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے خواہاں ہیں۔

تاہم ناقدین کے مطابق عمران خان کی حالیہ احتجاجی تحریک کا انجام بھی ماضی سے مختلف نہیں ہو گا کیونکہ پی ٹی آئی رہنماؤں کی غیر سیاسی اور غیر سنجیدہ پالیسیوں کی وجہ سے تحریک انصاف پنجاب اور بلوچستان سے بالکل مائنس ہو چکی ہے تاہم سندھ میں اس کے چند نام لیوا موجود ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ ماضی قریب میں خبیرپختونخوا کے علاوہ ملک بھر میں پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت کارکنان کو متحرک کرنے میں یکسر ناکام رہی ہے، ویسے بھی مسلسل مزاحمتی اور احتجاجی سیاست کی وجہ سے عوام پی ٹی آئی قیادت سے متنفر ہو چکے ہیں اسی لئے تحریک انصاف کی احتجاجی کالز پر سڑکوں پر آنے سے گریزاں ہیں، مبصرین کے مطابق موجودہ ملکی سیاسی حالات میں پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے عوام کو سڑکوں پر نکالنے کے دعوے کرنا بہت آسان ہے، لیکن جب ایسا کرنے کیلئے میدان میں اترے گی تو اسے لگ پتا جائے گا کیونکہ پی ٹی آئی کی احتجاجی تحاریک کو کامیاب بنانے والی فیضی امداد کا سلسلہ بند ہو چکا ہے۔

حکومت سے مذاکرات بارے PTI کنفیوزڈ ہے یا ڈبل گیم چل رہی ہے؟

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عمران کے ریاست مخالف بیانیے نے نہ صرف ان کی رہائی کے تمام ممکنہ راستے مسدود کر دیے ہیں بلکہ تحریک انصاف کی سٹریٹ پاور بھی بتدریج ختم کر دی ہے۔ کم ہوتی ہوئی عوامی حمایت کی وجہ سے تحریک انصاف عمران خان کی رہائی کیلئے ملک گیر احتجاجی تحریک چلانے میں یکسر ناکام دکھائی دیتی ہے۔ مبصرین کے مطابق عمران خان کی گرفتاری کے 2 سال مکمل ہونے پر 5 اگست کو ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کیا گیا، تاہم عملی طور پر احتجاج صرف خیبر پختونخوا کے چند علاقوں تک محدود رہا۔ لاہور، کراچی، راولپنڈی اور دیگر شہروں میں کارکنان کی محدود تعداد سامنے آئی جبکہ مرکزی قیادت بلوں میں چھپی بیٹھی رہی۔ احتجاج کی ناکامی کی وجہ سے پی ٹی آئی کو سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تاہم ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ پی ٹی آئی نے احتجاج کی کال دی ہو اور عوام سڑکوں پر نہ نکلے ہوں۔ پی ٹی آئی قیادت نے گزشتہ سال 6 مرتبہ اسلام آباد میں جلسہ کرنے کا اعلان کیا تاہم کبھی پی ٹی آئی قیادت کے فیصلے اور کبھی انتظامیہ کی اجازت نہ ملنے پر جلسے منسوخ ہو گئے، جبکہ 8 ستمبر 2024 کو سنگجانی اسلام آباد میں پی ٹی آئی نے جلسہ کیا اور اگلا جلسہ لاہور میں کرنے کا اعلان کیا جو کہ تاحال نہیں ہو سکا۔ ناقدین کے مطابق مجموعی طور پر پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے ملک گیر مؤثر احتجاج منظم کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے

Back to top button