آئی پی پیز سے معاہدے ختم کرنے کے باوجودبجلی کی قیمتوں میں کمی ناممکن کیوں؟

حکومت کی جانب سے مزید آٹھ آئی پی پپیز سے معاہدے ختم کرنے کا معاملہ عوامی حلقوں میں زیر بحث ہے، مجموعی طور پر 13 آئی پی پیز سے معاہدے ختم ہونے کے بعد سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ نجی پاور پلانٹس سے معاہدے ختم کرنے کا عوام کو کیا فائدہ ہو گا؟ معاہدے منقطع کرنے سے بجلی کی قیمتوں میں کتنی کمی واقع ہو گی؟ ماہرین کے مطابق آئی پی پیز سے معاہدے ختم کرنے کے فوری اثرات مرتب نہیں ہونگے اور نہ ہی اس سے بجلی کی قیمتوں میں کوئی نمایاں کمی متوقع ہے تاہم 13 آئی پی پیز سے معاہدے ختم کرنے سے کپیسٹی پیمنٹس میں ضرور کمی واقع ہو گی جس کے اثرات بجلی کی بلوں پر بھی پڑیں گے۔ماہرین کے مطابق آئی پی پیز سے کیے گئے معاہدے یکسر ختم کرنے سے جہاں سرمایہ کاروں کو منفی پیغام جا رہا ہے وہیں ان اقدامات سے بجلی کی قیمتوں میں کوئی بہت زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔
خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے مزید آٹھ نجی پاور پلانٹس یعنی آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے ختم کر نے کے اعلان کے بعد قومی خزانے کو 300 ارب روپے بچت کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ جبکہ اس سے قبل بھی پانچ آئی پی پیز سے معاہدے ختم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔
اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں بجلی کے شعبے کے نقصانات کا ازالہ محض بجلی کی قیمتیں بڑھا کر پورا کرنے کی پالیسی نے بعض مخصوص افراد کو فائدہ پہنچایا جبکہ عوام اور ملک کو اس کا نقصان ہوا۔
دوسری جانب بجلی کا ترسیلی نظام انتہائی بوسیدہ ہونے کے باعث لائن لاسز میں اضافہ، بجلی چوری اور بجلی کے بلوں کی ریکوری کم ہونے اور جنریشن و ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے بڑے نقصانات کو دور کرنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نظر نہیں آتے۔ جس کا خمیازہ عوام کو مہنگی بجلی کی صورت میں برداشت کرنا پڑا۔ ماہرین کے مطابق 90کی دہائی میں بجلی بحران پر قابو پانے کیلئے نجی بجلی گھر قائم کرنے کی پالیسی لائی گئی لیکن اس پالیسی کا فائدہ چند خاندانوں کو پہنچا اور نقصان ملک بھر نے اٹھایا۔ گزشتہ تین دہائیوں میں انتہائی بااثر اور امیر ترین افراد نے نجی بجلی گھر قائم کیے اور معاہدوں کی رُو سے امریکی ڈالرز میں خوب منافع کمایا گیا۔
ماہرین کے مطابق گزشتہ 15 سال میں سب سے زیادہ چین نے بجلی کے شعبے میں پاکستان میں سرمایہ کاری کی ہے اور دو دہائیوں میں پاکستان میں کوئلہ، سولر پاور پلانٹ اور پن بجلی کے بیشتر منصوبے بیجنگ کے تعاون سے لگائے۔بظاہر تو اس بڑی سرمایہ کاری کا مقصد پاکستان کے بجلی کے بحران کا خاتمہ کرنا تھا اور عوام کو سستی، معیاری اور مسلسل بجلی کی فراہمی یقینی بنانا تھا۔تاہم اس حوالے سے حکام کی جانب سے چینی کمپنیوں سے مہنگے سودے کیے گئے اور پالیسی نقائص کی وجہ سے چند برسوں بعد ہی اس کے نتائج سامنے آنے لگے۔
دوسری جانب ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے بجلی کی قیمت عام صارف ہی نہیں بلکہ صنعتوں کے لیے بھی ناقابلِ برداشت ہوتی چلی گئی۔
ایک حالیہ ریسرچ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں صرف گزشتہ آٹھ برسوں میں بجلی کی اوسط قیمت میں 116 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ صرف جولائی 2023 سے اگست 2024 کے درمیان پاکستان میں بجلی کی قیمتوں میں 14 مرتبہ اضافہ کیا گیا۔ قیمتوں میں بار بار ہونے والے ان اضافوں نے صارفین پر 455 ارب روپے کا بوجھ ڈالا گیا۔
بعض ماہرین کے مطابق بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی اصل وجہ کپیسٹی پیمنٹس نہیں بلکہ بجلی کے بلوں میں اصل مسئلہ 40 سے 45 فی صد وہ رقم ہے جو ٹیکسوں کی صورت میں حکومت کی جانب سے عائد کی جاتی ہے۔ حکومت کو آئی پی پیز سے مہنگی بجلی کے معاہدے ختم کرنے کے ساتھ ساتھ لائن لاسز پر قابو پانے کیلئے بھی ٹھوس اقدامات کرنے چاہیں تاکہ عوام کو سستی بجلی کی سہولت میسر آ سکے اور عوام کو مہنگے بلوں سے چھٹکارا ملے۔
