حکومت کی جانب سے کالے جادو پر پابندی لگانا ضروری کیوں ہے؟

معروف بزنس مین اور لکھاری مرزا اشتیاق بیگ نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں جادوٹونے کی پریکٹس پر پابندی عائد کی جائے تاکہ آئندہ بشریٰ بی بی جیسی کوئی خاتون روحانیت کے دعوؤں کے ذریعے ریاستی معاملات اور قومی سلامتی پر اثر انداز نہ ہو سکے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں مرزا اشتیاق بیگ کا کہنا ہے کہ دنیا کے صف اول کے جریدوں میں شامل برطانوی جریدے ’’دی اکانومسٹ‘‘ کے ’’اکانومسٹ لائف اسٹائل میگزین‘‘ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے حوالےسے ایک رپورٹ شائع کی ’’صوفی، کرکٹر اور جاسوس، پاکستان کا گیم آف تھرونز‘‘ کے عنوان سے شائع ہونے والے میگزین نے دنیا بھر میں تہلکہ مچا رکھا ہے۔ عالمی شہرت یافتہ سینئر صحافی اوون بینٹ جونز کی اپنی پاکستانی معاون صحافی بشریٰ تسکین کے ساتھ ملکر تیار کردہ  مضمون میں عمران خان دور حکومت میں بشریٰ بی بی کے سیاسی کردار، اثر و رسوخ اور پاکستان کی سیاست پر اُنکے اثرات کے حوالے سے تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سابق خاتون اول بشریٰ بی بی نے عمران خان کی سیاسی سوچ کو متاثر کیا اور اُن کی زندگی میں روحانیت کا رنگ بھرا، عمران خان کے روزمرہ حکومتی معاملات، تقرری و تبادلے، آنا جانا اور ملنا ملانا ہر چیز جادو اور روحانی علم کی بنیاد پر کئے جاتے تھے۔ رپورٹ کے مطابق سابق انٹیلی جنس سربراہ جنرل فیض حمید نے بشریٰ بی بی کو شاطرانہ انداز میں استعمال کیا، وہ ایک افسر کے ذریعے معلومات بشریٰ بی بی تک پہنچاتے تھے جو بشریٰ بی بی، عمران خان کے سامنے اپنی روحانی بصیرت سے حاصل کرنے کا دعویٰ کرتی تھیں اور جب وہ پیش گوئیاں درست ثابت ہوتیں تو عمران خان کا اپنی اہلیہ کی بصیرت پر یقین مزید پختہ ہوجاتا تھا۔ مرزا اشتیاق بیگ کے مطابق دی اکانومسٹ کی رپورٹ کو پی ٹی آئی قیادت نے پلانٹڈ قرار دے دیا ہے جس کے بعد پی ٹی آئی کارکنوں نے سوشل میڈیا پر بشریٰ تسکین کے خلاف طوفان بدتمیزی برپا کررکھا ہے۔

مرزا اشتیاق بیگ کے بقول یورپی میڈیا ماضی میں عمران خان کو ہمیشہ اُن کے یورپین کنکشن کے باعث سپورٹ کرتا رہا ہے تاہم یہ پہلی بار ہوا ہے کہ برطانوی جریدے دی اکانومسٹ کی رپورٹ نے بشریٰ بی بی کے سیاسی کردار کے بارے میں سوالات کھڑے کردیئے ہیں جس کے بعد اُنکا سیاسی مستقبل ختم ہوتا نظر آرہا ہے۔ ماضی قریب میں عمران خان کی متبادل قرار دی جانے والی بشریٰ بی بی حالیہ رپورٹ کی اشعت کے بعد پانی کے بلبلے کی طرح ایکسپوز ہوچکی ہیں۔ روحانیت کا جو لبادہ انہوں نے اوڑھ رکھا تھا وہ بھی بے نقاب ہوگیا ہے۔ مرزا اشتیاق بیگ کا مزید کہنا ہے کہ دی اکانومسٹ کی رپورٹ نہ صرف عمران خان اور بشریٰ بی بی کیلئے شرمندگی کا سبب بن رہی ہے بلکہ اس نے پاکستان کی سیاست اور عالمی سطح پر ایک نئی بحث بھی چھیڑدی ہے۔ مرزا اشتیاق بیگ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا انٹیلی جنس کے سابق سربراہ جنرل فیض حمید نے اُس وقت کی خاتون اول کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا یا بشریٰ بی بی نے جنرل فیض حمید کو استعمال کیا؟ مرزا اشتیاق بیگ کے مطابق عمران خان کے دور اقتدار میں جاری پاور گیم میں ہر فریق نے ایک دوسرے کو استعمال کیا۔ عمران خان، بشریٰ بی بی سے شادی کرکے وزیراعظم بننا چاہتے تھے، جنرل فیض حمید، خاتون اول کا اعتماد حاصل کرکے آرمی چیف بننے کا خواب دیکھ رہے تھے اور بشریٰ بی بی، جنرل فیض حمید سے حاصل کردہ حساس معلومات کو روحانیت کے پردے میں استعمال کرکے نہ صرف حکومتی فیصلوں پر اثر انداز ہورہی تھیں بلکہ وزیراعظم پر کنٹرول حاصل کرکے مالی فوائد بھی حاصل کررہی تھیں جو یقیناً ایک تشویشناک بات ہے۔

مرزا اشتیاق بیگ کا مزید کہنا ہے کہ عمران خان کے دور حکومت میں چلائی جانے والی گیم نے پاکستان کی ساکھ کو سخت نقصان پہنچایا ہے اور عالمی سطح پر یہ تاثر ابھرکر سامنے آیا ہے کہ 25 کروڑ آبادی والے ایٹمی ملک کا سربراہ جو عوام میں اپنی مقبولیت اور پاکستان کو ’’ریاست مدینہ‘‘ بنانے کا دعویٰ کرتا تھا، اپنی حکومت کے فیصلے جادو ٹونے اور روحانیت کی بنیاد پر کررہا تھا۔ مرزا اشتیاق بیگ کے مطابق موجودہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا اس وقت کا اقدام قابل تحسین تھا جب انھوں نے عمران خان دور میں آئی ایس آئی کے سربراہ کی حیثیت سے جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے وزیراعظم کو بشریٰ بی بی کی مبینہ بدعنوانیوں سے آگاہ کیا جسکے نتیجے میں عاصم منیر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ کاش اُس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ صورتحال کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے وزیراعظم کو اس حقیقت سے آگاہ کرتے کہ خاتون اول، ملک کے ساتھ کس طرح کا کھلواڑ کررہی ہیں مگر وہ جنرل عاصم منیر کی طرح اتنی جرات کا مظاہرہ نہ کرسکے جس کا خمیازہ پورے ملک کو بھگتنا پڑا۔

کورٹ مارشل مکمل ہونے پر فیض حمید کو مکافات عمل کا سامنا

مرزا اشتیاق بیگ کے مطابق دی اکانومسٹ کی رپورٹ سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ ملکی سیاست میں روحانیت کا کردار کہاں تک جائز ہے اور کیا یہ ملکی سلامتی کے حق میں ہے؟ کیا ہمارے سیاسی اداروں اور قیادت کی یہ ذمہ داری نہیں کہ وہ ملک کو روحانیت اور جادو ٹونے سے دور رکھیں؟ سعودی عرب، یو اے ای، مصر، ایران اور افغانستان سمیت کئی افریقی ممالک میں کالے جادو کی پریکٹس اور اس نوعیت کی دیگر سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد ہے اور اسے جرم تصور کیا جاتا ہے۔ حکومت پاکستان کو چاہئے کہ جادو ٹونے کی پریکٹس پر پابندی عائد کرے تاکہ آئندہ بشریٰ بی بی جیسی کوئی خاتون روحانیت کے دعوؤں کے ذریعے ریاستی معاملات کو اپنے ہاتھ میں نہ لے سکے۔

Back to top button