پیپلز پارٹی مخالف میڈیا کا صدر زرداری سے گلہ جائز کیوں نہیں؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا ہے کہ میڈیا کی جانب سے یہ گلہ کرنا جائز نہیں کہ صدر آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ کے منظور کردہ میڈیا مخالف پیکا قانون پر دستخط کیوں کیے۔ ایک تو بطور صدر یہ ان کی آئینی ذمہ داری تھی اور دوسرا ماضی میں میڈیا نے بھٹو خاندان اور آصف زرداری کے ساتھ جو سلوک کیا ہے اس کے بعد ان سے کوئی امید روا نہیں رکھی جانی چاہیے تھی۔

 

اپنی تازہ سیاسی تجزیے میں نصرت جاوید کہتے ہیں کہ اسلام آباد کے نوجوان صحافیوں کی اکثریت بہت مایوس ہے۔ انہیں قوی امید تھی کہ پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے نہایت ’’عجلت‘‘ میں منظور کروائے پیکا قوانین کو صدر آصف علی زرداری لاگو نہیں ہونے دیں گے۔ انکا خیال تھا کہ صدر توثیقی دستخط کرنے کے بجائے انہیں نظرثانی کے لئے پارلیمان کو واپس بھجوادیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ عرصہ ہوا میری صدر آصف علی زرداری تو دور کی بات ہے کسی تیسرے درجے کے سیاستدان سے بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ لیکن کئی دہائیاں پرانی وضع کی صحافت کی نذر کرنے کے بعد میں خود کو سیاستدانوں کی ’’دائی‘‘ سمجھتا ہوں۔ مجھے ان سے ملے بغیر ہی ان کی ترجیحات سمجھ آجاتی ہیں۔ میں نے اپنے کئی دوستوں کے مقابلے میں بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی بدولت انکے سیاسی وارثوں کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ میرا تجربہ مصر ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی 2007 میں طویل عرصہ جلاوطنی کے بعد سربازار شہادت نے ان کے خاوند اور بچوں کو بہت کچھ سوچنے کو مجبور کر دیا ہے۔

 

انکا کہنا ہے کہ روایتی میڈیا جو پہلے فقط اخبارات پر مشتمل ہوتا تھا محترمہ بے نظیر بھٹو کا ہمیشہ نقاد ہی رہا۔ ان کی طویل جدوجہد کے بعد 1988ء میں قائم ہوئی حکومت کو پہلے دن سے ’’نقاد‘‘ پریس کا سامنا رہا۔ محترمہ کے اقتدار سنبھالنے سے قبل ہی فیصلہ ہوگیا تھا کہ 1988ء کے آخری مہینے میں اسلام آباد میں سارک کانفرنس کا اجلاس ہوگا۔ اس میں شرکت کے لئے بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی نے بھی کنفرمیشن بھیج رکھی تھی۔ ضیاء الحق کی فضائی حادثے میں اچانک ہلاکت کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو وزیر اعظم منتخب ہوئیں تو اس کانفرنس کو پروگرام کے مطابق جاری رکھنے کا فیصلہ ہوا۔ یہ کانفرنس محترمہ کی پیش قدمی کی وجہ سے منعقد نہیں ہوئی تھی۔ لیکن پہلے سے طے ہوئی اس کانفرنس کے انعقاد کو ہماری ’’ڈیپ سٹیٹ‘‘ نے میڈیا کے ذریعے یوں پیش کیا کہ جیسے یہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی خواہش پر ہورہی ہے۔ اس میں بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی کی شرکت درحقیقت پاکستان اور بھارت کے دو نوجوان وزرائے اعظموں کے دلوں میں ابھرتی اس خواہش کا اظہار ہے کہ ’’کشمیر بھلا کر‘‘ پاک-بھارت تعلقات معمول پر لائے جائیں۔ جو تاثر پھیلایا گیا اسے ٹھوس ’’مواد‘‘فراہم کرنے کے لئے خبر اڑائی گئی کہ اسلام آباد میں ’’کشمیر ہائوس‘‘ کی راہ دکھانے والے سڑکوں پر لگے بورڈ ہٹا دئے گئے ہیں۔ جب یہ خبر گردش میں تھی تو میں نے ایک کیمرہ مین کے ساتھ رات کے گیارہ بجے کے بعد اسلام آباد کے ایک نہیں بلکہ تین مقامات پر ’’کشمیر بورڈ‘‘ کی تصویر اتاری۔ دفتر آکر اس کے بارے میں خبر بنانا چاہی تو مجھے بتایا گیا کہ ’’بہت دیر ہوگئی ہے‘‘۔ جو خبر میں لایا ہوں اسے دوسرے دن چھاپا جاسکتا ہے۔ لیکن دوسرے دن وہ خبر اچانک ’’سسٹم‘‘ سے گم ہوگئی۔ میں اس کے ’’گم‘‘ ہونے کی وجہ سمجھ گیا۔ خاموش رہ کر نوکری بچالی۔

 

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ سارک سمٹ میں بھارتی وزیر اعظم سے باہمی ملاقات کے بعد محترمہ نے راجیوگاندھی کو اس امر پر قائل کیا کہ سیاچن گلیشیر پربھارتی افواج کی موجودگی ہر حوالے سے وسائل کا زیاں ہے۔ بہتر یہی ہوگا کہ دونوں ملک اس گلیشیر کو فوجی معرکوں کی نذر نہ کریں۔ بھارتی وزیر اعظم کو یہ خیال پسند آیا۔ مگر تاریخی ریکارڈ گواہ ہے کہ راجیو گاندھی جب وطن لوٹے تو ان کی فوج اور وزارت دفاع نے سیاچن کے بارے میں لچک دکھانے سے انکار کردیا۔ پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ سے اختلافات پیدا ہونے کے بعد محترمہ کی ذات کو براہ راست کردار کشی کا نشانہ بنانے کے بجائے میڈیا کی توجہ ان کے شوہر آصف زرداری کی جانب موڑ دی گئی۔ ان کے خلاف مسلسل جھوٹی کرپشن کہانیوں نے بالآخر اگست 1990ء میں غلام اسحاق خان کو بطورصدر محترمہ کی پہلی حکومت ختم کرنے کا جواز فراہم کیا۔

کیا مذاکرات ختم کرنے کے بعد PTI کو ریلیف ملنے کا کوئی امکان ہے؟

 

 

محترمہ کی حکومت فارغ کرنے کے بعد آصف زرداری کو کرپشن کے کئی مقدمات کے تحت جیل بھیج دیا گیا۔ لطیفہ مگر یہ بھی ہوا کہ آصف علی زرداری کو کرپشن اور برائی کی حتمی علامت ٹھہرانے کے باوجود غلام اسحاق خان نے جب اپریل 1993ء  میں نواز شریف کی پہلی حکومت ختم کرکے عبوری نگران حکومت تشکیل دی تو محترمہ کے شوہر کواس میں وزارت بجلی وتوانائی کی اہم وزارت سونپ دی۔ نصرت کہتے ہیں کہ میں ان سب واقعات کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ سوچنے کو مجبور ہوجاتا ہوں کہ آصف زرداری اور ان کے بچے یہ سوچنے میں قطعاَغلط نہیں کہ میڈیا نے ان کے خاندان کو مسلسل واجب یا ناواجب وجوہات کی بنا پر تنقید کا نشانہ بنائے رکھا ہے۔ حق بات یہ بھی ہے کہ اپنے پر تمام تر تنقید کے باوجود پیپلز پارٹی نے 1988ء  سے لے کر 2013ء تک اپنی تین حکومتوں میں میڈیا کو تادیبی کارروائیوں کا نشانہ بنانے سے گریز کیا۔ لیکن اب وقت بدل چکا ہے۔ 2025ء میں ’’صحافی‘‘ ریاست کا چوتھا ستون نہیں رہے۔ ان دنوں کا ’’حکومتی بندوبست‘‘ نظر بظاہر ایک خیمہ ہے جو محض ایک ستون یعنی ریاست کے سب سے بڑے ادارے کے سہارے کھڑا ہے۔ ریاست کی یہ خواہش تھی کہ حکومتی بندوبست اپنی اور ریاست کی بقاء  کے لئے سوشل میڈیا کو لگام ڈالے۔ وہ لگام تیار ہوگئی تو اس کا استعمال ضروری تھا۔ اس لگام میں کیڑے نکالنا حکومتی بندوبست کے لئے خطرناک ہوسکتا ہے۔

 

نصرت کہتے ہیں کہ دورِ حاضر کی سیاست اب ذوالفقار علی بھٹو کا بتایا ’’شاعری اور رومانس کا آمیزہ ‘‘نہیں رہا۔ محض اقتدارکی تمنا ہے اور اقتدار کی تمنا فروری 2024ء کا انتخاب نظر بظاہر جیت جانے کے باوجود پوری نہیں ہوتی۔صدارت، وزارت عظمیٰ اور دیگر آئینی اور سیاسی اداروں کے حصول کے لئے ’’کہیں اور‘‘ رجوع کرنا پڑتا ہے۔ لیکن میرے صحافی بھائیوں نے حقیقت پسندی سے معاملات پر غور نہیں کیا۔ وہ اس امید پر بیٹھے رہے کہ اپنا ’’ماضی‘‘ ذہن میں رکھتے ہوئے پیپلز پارٹی کے صدر آصف زرداری پیکا قانون پر توثیقی دستخط نہیں کریں گے۔ لیکن اب وقت بدل چکا ہے دوست۔ اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا۔

Back to top button