ٹرمپ کی جیت سے عمران خان کو ریلیف ملنا ممکن کیوں نہیں ہے؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ امریکی صدارتی الیکشن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے باوجود پاکستان میں نہ تو عمران خان کو کوئی فوری ریلیف ملتا نظر آتا ہے اور نہ ہی شہباز شریف کی حکومت کو کوئی فوری خطرہ درپیش ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ فیصلہ سازوں نے امریکی صدارتی الیکشن سے فوری پہلے سپریم کورٹ کے اختیارات محدود کرتے ہوئے ایک آئینی بینچ تشکیل دے دیا اور آرمی چیف کی مدت ملازمت میں اضافہ کروا دیا۔ یہ فیصلے ایک احتیاطی بندوبست کے طور پر بھی دیکھے جا رہے ہیں جن کا مقصد پاکستانی سیاست میں غیر ملکی مداخلت کو روکنا ہے، لیکن بقول حامد میر اگر شہباز حکومت کی کارکردگی بہتر نہ ہوئی اور تحریک انصاف اپنے حامیوں کو سڑکوں پر لانے میں کامیاب ہو گئی تو تمام احتیاطی بندوبست دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حامد میر کہتے ہیں کہ امریکا کے صدارتی الیکشن سے قبل پاکستان میں دو اہم فیصلے کرلیے گئے۔ پہلا یہ کہ سروسز چیفس کی مدت ملازمت کو تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کر دیا گیا۔ عام پاکستانیوں کو ایئر فورس اور نیوی کے سربراہ کا تو نام ہی پتہ نہیں ہوتا اس لیے یہ تاثر عام ہے کہ آرمی چیف کی مدت تین سال سے پانچ کر دی گئی ہے۔ آرمی ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے یہ کام کرنے والی حکومت کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کو دو سال کی توسیع نہیں دی گئی بلکہ ان کے عہدے کی مدت کا تعین کیا گیا ہے جس کا اصل مقصد ملک میں استحکام لانا ہے۔ امریکا کے صدارتی الیکشن سے پہلے پہلے دوسرا اہم فیصلہ آئینی عدالت کے سربراہ کی تقرری ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے تحت وجود میں آنے والی آئینی عدالت کے سربراہ جسٹس امین الدین ہوں گے، بظاہر تو یہ صرف ایک آئینی بینچ ہو گا اور اصل چیف جسٹس یحییٰ آفریدی ہوں گے لیکن حقیقت میں اب دو چیف جسٹس ہوں گے۔ آئینی بینچ میں شامل جج صاحبان غیر آئینی مقدمات کی سماعت کرسکیں گے لیکن غیر آئینی بینچ میں شامل جج صاحبان آئینی مقدمات کی سماعت نہیں کرسکیں گے۔
حامد میر کے مطابق شہباز حکومت نے پارلیمنٹ کے ذریعے ایک نیا قانون منظور کروا کے سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد میں اضافہ بھی کروا لیا ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ جسٹس امین الدین حکومت کے حامی ہیں اور جوڈیشل کمیشن کے ذریعے سپریم کورٹ میں حکومت کے حامی ججوں کی تعداد میں اضافہ کر کے حکومت اپنے لیے خطرات کو کم کر رہی ہے۔ دوسرے الفاظ میں سپریم کورٹ پاکستان کی پاور پارلیٹکس کا اکھاڑہ بنی ہوئی ہے اور اس اکھاڑے میں ہونے والے مقابلوں سے اتنی جلدی استحکام نہیں آ سکتا۔
سابق چیئرمین سینیٹ اور پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ربانی نے پارلیمنٹ سے بغیر بحث و مباحثے کے منظور کرائے جانے والے قوانین پر بہت تنقید کی ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں ان قوانین کی منظوری کو خوف کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ ایک خوفزدہ پارلیمنٹ کا وجود ہمیشہ خطرات میں گھرا رہتا ہے۔ پیپلز پارٹی نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں اضافے سمیت چھ دیگر قوانین کی منظوری کیلیے ووٹ تو دیا ہے لیکن ووٹ دینے کے باوجود پیپلز پارٹی کے کئی ارکان پارلیمنٹ کا آف دی ریکارڈ یہ کہنا ہے کہ پالیسیوں میں تسلسل کے نام پر آرمی چیف کی مدت میں اضافے سے جمہوریت مضبوط نہیں ہو سکتی۔ جمہوریت کی مضبوطی کا تعلق آئین پر عمل درآمد میں ہے لیکن موجودہ پارلیمنٹ آئین کی شکل بگاڑنے میں سہولت کاری کر رہی ہے۔
سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی آئندہ انتخابات کے بعد بلاول بھٹو زرداری کو وزیر اعظم بنانا چاہتی ہے لیکن شہباز شریف نے آئینی عدالت کے قیام اور آرمی چیف کی مدت ملازمت پانچ سال کرکے اپنے اگلے پانچ سال بھی پکے کر لیے ہیں۔ شہباز حکومت کے مستحکم ہونے سے مسلم لیگ ن کے اندر پاورا سٹرگل میں اضافہ ہو گا کیونکہ مسلم لیگ ن کے اندر ایک گروپ مریم نواز کو آئندہ وزیر اعظم دیکھنا چاہتا ہے۔ یہ گروپ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ ندیم انجم کو ایک اور ایکسٹینشن دلوانا چاہتا تھا۔ ندیم کو ایکسٹینشن نہ ملنے سے یہ گروپ مایوس ہے۔ شہباز شریف اپنے قدم جمانے کے بعد وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وہ کچھ متحرک اور دوڑ بھاگ کرنے والے ساتھیوں کو کابینہ میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔
کابینہ میں شامل کچھ ارکان کی کارکردگی سے وہ مطمئن نہیں۔ وہ ان سست رفتار ساتھیوں کو کابینہ سے نکالنا چاہتے ہیں لیکن ان صاحبان کو نواز شریف کی خوش نودی حاصل ہے۔ شہباز شریف کی پوری کوشش ہے کہ وہ بطور وزیر اعظم اپنے بھائی نواز شریف کو ساتھ لے کر چلیں اور وہ تمام اہم فیصلے اپنے بھائی کے مشورے سے کرتے ہیں لیکن ان کی سیاسی بقا حکومت کی کارکردگی سے مشروط ہے۔ حکومت کی کارکردگی میں بہتری نہ آئی تو اس کا اثر ان اداروں کی شہرت پر بھی پڑے گا جو حکومت کے پیچھے کھڑے ہیں۔ حکومت کی کارکردگی بہتر نہ ہوئی تو یہ تاثر تقویت پکڑے گا کہ شہباز نے محض اقتدار کو دوام بخشنے کےلیے آرمی چیف کی مدت ملازمت کو تین سال سے پانچ سال کیا۔ اگر ان کی کارکردگی بہتر ہو گی تو ریاستی اداروں پر کی جانے والی تنقید میں بھی کمی ہو سکتی ہے۔
حکومت کو تو سیاسی آکسیجن مل گئی، عوام کی سانس کا کیا بنے گا ؟
حامد میر کہتے ہیں کہ فی الحال پاکستان تحریک انصاف موجودہ حکومت کےلیے کوئی بڑا خطرہ پیدا نہیں کر سکی، لیکن حکومت کو اندر سے کئی خطرات کا سامنا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف 9 نومبر سے حکومت کے خلاف کسی نئی تحریک کے آغاز کی تیاریوں میں ہے۔ تحریک انصاف نے نومبر 2022 میں بھی ایک تحریک چلانے کی کوشش کی تھی جس کا مقصد جنرل عاصم منیر کی بطور آرمی چیف تقرری کو روکنا تھا۔ تحریک انصاف اس کوشش میں کامیاب نہیں ہوئی۔ دو سال بعد تحریک انصاف ایک دفعہ پھر نومبر میں تحریک چلانے کی کوشش کرے گی۔ اس کا خیال ہے کہ امریکی صدارتی الیکشن کے بعد پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی توجہ حاصل کرنا آسان ہو گا، لیکن میری ذاتی رائے میں امریکا میں حکومت کی تبدیلی کے بعد بھی پاکستان میں عمران خان کےلیے فوری طور پر کوئی ریلیف حاصل کرنا ممکن نہیں ہو گا۔
