صدر ٹرمپ کے لیے ایران میں وینزویلا ماڈل لانا ممکن کیوں نہیں؟

 

 

 

نامور صحافی نصرت جاوید نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے یہ اعلان تو کر دیا ہے کہ انہیں خامنہ ای کا بیٹا انکے جانشین کے طور پر قبول نہیں اور وہ ایران میں بھی وینزویلا کی طرح اپنی مرضی کا بندہ لائیں گے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ ان کے لیے اس اعلان کو عملی شکل دینا ممکن نہیں ہوگا کیونکہ ایران وینزویلا نہیں۔

 

اپنے سیاسی تجزیے میں نصرت جاوید کہتے ییں کہ امریکی اور اسرائیلی فیصلہ ساز چاہے کتنے ہی ایرانی رہنماؤں کو مار دیں، لیکن پاسداران انقلاب کبھی مکمل طور پر غیر مؤثر یا منتشر نہیں ہوں گے۔ ان کے بقول ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے امریکہ اور اسرائیل کو اپنی زمینی افواج ایران بھیجنا پڑیں گی۔ تاہم اسرائیل اپنی محدود آبادی کے باعث اتنے بڑے ملک میں فوجی کارروائی کا متحمل نہیں ہو سکتا جبکہ امریکہ بھی افغانستان کے تلخ تجربے کے بعد ایسی مہم جوئی سے گریز کرتا دکھائی دیتا ہے۔

 

نصرت جاوید نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کی گئی جنگ کے حوالے سے مختلف حلقوں میں متضاد اور نظریاتی بنیادوں پر مبنی تجزیے سامنے آ رہے ہیں، تاہم اس صورتحال کو سمجھنے کے لیے جذباتی بیانیوں کے بجائے زمینی حقائق کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ ان کے بقول امریکی غلامی کا تصور رکھنے والے حلقے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ آخر کار صدر ٹرمپ کی صورت میں امریکہ کو ایسا صدر ملا ہے جو 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد سے امریکہ کو درپیش پسپائی، ذلت اور رسوائی کا بدلہ لینے کے لیے پرعزم ہے۔ اس سوچ کے مطابق ایران میں ریجیم چینج یعنی حکومت کی تبدیلی اس جنگ کا بنیادی ہدف ہے اور اس مقصد کے حصول کے بعد ایران مسلم دنیا میں جدید جمہوریت کی مثال بن سکتا ہے جہاں آزادیٔ اظہار کو فروغ ملے گا اور خواتین مردوں کے شانہ بشانہ ترقی کے سفر میں شریک ہوں گی۔

 

ایک دوسرا نظریہ سامراج مخالف سوچ سے جنم لیتا ہے جو برطانوی دور کی نسل سے منتقل ہوئی نفرت کے باعث اس جنگ کو اسی تناظر میں دیکھتا ہے۔ اس نقطہ نظر کے مطابق تقریباً بیس برس قبل افغانستان کو بھی بنیاد پرست طالبان سے آزاد کروانے کی کوشش کی گئی تھی۔ نائن الیون حملے کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے لاکھوں فوجیوں کی موجودگی میں وہاں پارلیمان جیسے منتخب ادارے قائم کیے اور خواتین کی اعلیٰ تعلیم پر کروڑوں ڈالر خرچ کیے۔ تاہم امریکی افواج کی نگرانی اور اربوں ڈالرز خرچ کرنے کے باوجود افغانستان میں جمہوری نظام مستحکم نہ ہو سکا اور بالآخر امریکہ کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ بعد ازاں دوحہ مذاکرات کے ذریعے افغانستان دوبارہ طالبان کے حوالے کر دیا گیا جس سے دنیا کو یہ پیغام بھی ملا کہ امریکہ دنیا میں جمہوریت کے فروغ کو اپنا اخلاقی فرض نہیں سمجھتا بلکہ ٹرمپ کی قیادت میں صرف امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

 

نصرت جاوید کے مطابق تیسرا زاویہ مذہبی جذبات سے وابستہ ہے جس کے مطابق گزشتہ تین صدیوں سے عالم اسلام کے دشمن مسلم ممالک کو تباہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اس نقطہ نظر کے مطابق تقریباً ایک صدی قبل سلطنت عثمانیہ کے خلاف سازشوں کا منظم سلسلہ شروع ہوا جس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ کو متعدد خودمختار ریاستوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ اسی تناظر میں دنیا بھر میں منتشر یہودیوں کو بھی اسی خطے میں ایک ریاست فراہم کی گئی جسے اسرائیل کا نام دیا گیا۔ اس سوچ کے مطابق اسرائیل اب مذہبی متون میں بیان کردہ مہا اسرائیل کے تصور کو حقیقت بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور ایران کی مذہبی قیادت کے خاتمے کے بغیر یہ مقصد حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اس نظریے کے حامیوں کے مطابق امریکی پالیسی ساز صیہونی اثرات کے زیر اثر ہیں اور اسی لیے ٹرمپ نے اسرائیل کی حمایت میں ایران پر حملہ کیا ہے۔

 

نصرت کا کہنا ہے کہ ان تمام نظریاتی بنیادوں میں سے کسی ایک کو اختیار کر کے کیے جانے والے تجزیے دراصل حقیقت کے بجائے تسلی دینے والے افسانے بن جاتے ہیں۔ ان کے بقول سوشل میڈیا کے دور میں لائیکس اور شیئرز حاصل کرنے کے لیے اکثر لوگ ایسے ہی بیانیے تراشتے ہیں کیونکہ اگر ایسا نہ کیا جائے تو قارئین کی توجہ حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل تک وہ خود بھی اس خیال پر غور کر رہے تھے کہ امریکہ کی جانب سے اسرائیل کی حمایت میں ایران پر حملے کا اصل مقصد حکومت کی تبدیلی ہے۔ تاہم ان کے مطابق ایران میں گزشتہ 47 برسوں کے دوران ایسا حکومتی نظام قائم کیا گیا ہے جس میں کسی ایک شخصیت کو مکمل فیصلہ سازی کا اختیار حاصل نہیں۔ ایران میں اقتدار مذہبی، عسکری اور سیاسی قیادت پر مشتمل ایک مثلث میں تقسیم ہے۔ اگرچہ اس مثلث میں مذہبی قیادت کو برتری حاصل ہے مگر رہبر اعلیٰ کے منصب تک پہنچنے کے لیے ایک طویل تعلیمی اور سماجی سفر طے کرنا پڑتا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ اس نظام کے باعث رہبر اعلیٰ کے ممکنہ جانشین کی تیاری کا بھی ایک مؤثر طریقہ موجود ہے جو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں قیادت کے تسلسل کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ اسی طرح ایران کی عسکری قیادت بھی روایتی افواج سے مختلف انداز میں تشکیل پاتی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ایران نے سکیورٹی اور رازداری برقرار رکھنے کے لیے اپنے عسکری اداروں کو زیادہ خودمختاری دی ہے تاکہ فیصلہ سازی کا عمل متاثر نہ ہو۔ نصرت جاوید کے مطابق اگر ایرانی عسکری قیادت کو نشانہ بھی بنایا جائے تو بھی پاسداران انقلاب کی ہئیت ایسی یے کہ اسے مکمل طور پر غیر مؤثر یا منتشر نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے ان کا خیال ہے کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے امریکہ اور اسرائیل کو زمینی افواج ایران بھیجنا پڑیں گی۔

 

انہوں نے کہا کہ ایران کو دباؤ میں لانے کے لیے اس وقت فضائی حملوں پر انحصار کیا جا رہا ہے مگر حالیہ حملے صرف فوجی اہداف تک محدود نہیں رہے بلکہ شہری آبادی اور روزمرہ زندگی سے متعلق تنصیبات بھی نشانہ بن رہی ہیں۔ ان کے مطابق سکول اور ہسپتال تک حملوں کی زد میں آئے ہیں جس کے باعث ایرانی عوام، خواہ وہ اپنی حکومت کے مخالف ہی کیوں نہ ہوں، امریکہ یا اسرائیل کو نجات دہندہ کے طور پر قبول نہیں کر سکتے۔ نصرت جاوید کے مطابق اس صورتحال میں ریجیم چینج کی بجائے پورا خطہ عدم استحکام اور ابتری کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے جس کے اثرات ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کے ہمسایہ ممالک کو بھی متاثر کریں گے۔

صدر ٹرمپ مجتبی خامنہ ای سے اتنے خوفزدہ کیوں ہیں؟

انہوں نے کہا کہ ایران پر جنگ مسلط ہونے کے بعد پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کو بحری تجارت کے لیے غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ اس صورتحال میں تیل بردار جہازوں کو انشورنس فراہم کرنے کے لیے بڑی بین الاقوامی کمپنیاں تیار نہیں ہیں جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اب اس کے اثرات پاکستان تک بھی پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس اضافے کے اثرات محدود آمدنی والے لاکھوں خاندانوں کے لیے شدید معاشی مشکلات کا باعث بنیں گے۔ تاہم ان کے بقول ہم اس حقیقت کا سامنا کرنے کے بجائے شترمرغ کی طرح ریت میں سر چھپائے نظریاتی بحثوں میں الجھے ہوئے ہیں اور بڑھکیں لگانے میں مصروف ہیں۔

Back to top button