امریکہ کے لیے ایران کے خلاف جنگ جیتنا ممکن کیوں نہیں؟

 

 

 

معروف تجزیہ کار حفیظ اللہ خان نیازی نے کہا ہے کہ ایران بمقابلہ بقیہ دنیا کی اس جنگ میں ایران ہار نہیں سکتا جبکہ امریکہ جیت نہیں سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ 28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے جب ایران کے خلاف مشترکہ فضائی آپریشن شروع کیا تو اس کارروائی کی پہلی ترجیح ایرانی قیادت کو چن چن کر مارنا تھی۔ لیکن یہ خام خیالی اب ثابت ہو گئی ہے کہ شدید فضائی حملوں اور قیادت کی بڑے پیمانے پر شہادتوں کے بعد ایران فوری طور پر مفلوج ہو جائے گا اور رجیم چینج کا راستہ ہموار ہو جائے گا۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے سیاسی تجزیے میں حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ منصوبہ یہ سمجھ کر بنایا گیا تھا کہ اگر سپریم لیڈر اور اعلیٰ قیادت ختم ہو جائے تو ملک میں انارکی جنم لے گی اور عوام سڑکوں پر نکل کر قانون ہاتھ میں لے لیں گے اور اقتدار پر قابض ہو جائیں گے، تاہم ایران گزشتہ بیس برسوں سے ایسے حملوں کی تیاری کر رہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ شدید حملوں کے باوجود ایرانی ریاستی ڈھانچہ قائم و دائم ہے اور ایران ڈٹ کر مقابلہ کر رہا ہے۔

 

حفیظ اللہ نیازی کے مطابق جنگ کے پہلے گھنٹوں میں امریکہ نے تقریباً 200 جبکہ اسرائیل نے 500 فضائی حملے کیے۔ اب تک پانچ دنوں میں امریکہ کی جانب سے تقریباً 2000 اور اسرائیل کی جانب سے 5000 حملے کیے جا چکے ہیں جو مجموعی طور پر 153 شہروں کے تقریباً 500 مختلف مقامات پر کیے گئے۔ ان 7000 حملوں کے مقابلے میں ایران کی جانب سے اب تک تقریباً 500 حملے کیے گئے جن میں نو ممالک کے 150 شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔ غالب گمان ہے کہ ایران کے پاس جدید چینی میزائلوں کا بڑا ذخیرہ موجود ہے، جبکہ ایسے جدید ڈرونز بھی ایران کو فراہم کیے جا چکے ہیں جنہیں چین نے ابھی تک باضابطہ طور پر منظر عام پر نہیں لایا تھا۔ ان کے مطابق چین کا نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم بھی ایران کے زیر استعمال ہے جو جدید سائبر صلاحیتوں سے مالا مال ہے۔انہوں نے اس کی ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ چند روز قبل جب امریکی F-15 فائٹر جہاز کویت کی فضائی حدود میں بلند ہوئے تو کویتی ریڈار کو یہ فیڈ کر دیا گیا کہ یہ دشمن کے طیارے ہیں، جس کے نتیجے میں اپنے ہی طیاروں کو نشانہ بناکر گرا دیا گیا۔

 

حفیظ نیازی کے مطابق ایران نے جنگ کا جو طریقہ اختیار کیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے اپنے مہلک ہتھیار، میزائل اور جدید سائبر ٹیکنالوجی ابھی مکمل طور پر استعمال نہیں کی بلکہ انہیں ممکنہ طور پر محفوظ رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے پہلے دن جب ایران نے خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا تو دنیا کو لگا کہ ایران غیر ضروری طور پر جنگ کو پھیلا رہا ہے، لیکن تیسرے دن دنیا تب حیران رہ گئی جب روز وال سٹریٹ میں شدید ہلچل پیدا ہو گئی اور عالمی مالیاتی منڈیاں متاثر ہوئیں۔ ان کے مطابق آج تمام خلیجی ریاستیں شدید اقتصادی بحران کی زد میں ہیں اور یہ بحران عالمی معیشت کو بھی اپنی لپیٹ میں لینے کے قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز جہاں سے دنیا کے تقریباً 30 فیصد تیل اور 22 فیصد ایل این جی یعنی قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے اور سیکڑوں ارب ڈالر کی اشیائے ضروریہ کی نقل و حمل ہوتی ہے، وہاں آمدورفت تقریباً رک چکی ہے۔ لہذا جنگ کے ابتدائی مرحلے میں ایران سٹریٹجک لحاظ سے پہلا راؤنڈ جیت چکا ہے۔

 

نیازی نے کہا کہ ایران کے عظیم رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنی شہادت سے ایک ہفتہ قبل خطاب میں کہا تھا کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو جنگ پورے خطے میں پھیل جائے گی اور آج وہ پیش گوئی درست ثابت ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق ایران کے اقدامات کو عالمی قانون کے تحت دفاعی ردعمل سمجھا جا سکتا ہے کیونکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت ہر ملک کو دفاع کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 20 فروری کو ایران نے اقوام متحدہ کے علاوہ روس، چین اور ترکی کو خط لکھ کر واضح کیا تھا کہ اگر اس پر حملہ ہوا تو وہ ہر اس ملک کو نشانہ بنائے گا جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔ ان کے مطابق فوجی اعتبار سے ایران نے اب تک محدود اور علامتی ردعمل دیا ہے تاہم اقتصادی دباؤ کا ہتھیار بھرپور انداز میں استعمال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت 82 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے اور اگر جنگ ایک ماہ جاری رہی تو قیمت 120 سے 130 ڈالر فی بیرل تک جانے کے خدشات ہیں۔ دوسری جانب امریکی اور یورپی سٹاک مارکیٹس شدید مندی کا شکار ہو چکی ہیں جبکہ امریکہ کے اندر بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف جذبات بڑھ رہے ہیں۔ حفیظ اللہ خان نیازی کے مطابق ابتدائی اندازہ یہ تھا کہ ایرانی قیادت کے خاتمے کے بعد عوام جشن مناتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئیں گے اور اقتدار سنبھال لیں گے، لیکن اس کے برعکس ایرانی عوام متحد ہو گئے ہیں۔ ان کے بقول پلک جھپکتے ہی تین رکنی کونسل نے سپریم لیڈر کے دفتر کا انتظام سنبھال لیا اور حملوں نے عوام اور قیادت کو مزید یکجا کر دیا ہے۔

 

نیازی کہتے ہیں کہ آبنائے ہرمز اس وقت بند ہے اور صدر ٹرمپ اس راستے کو کھلوانے کے لیے شدید دباؤ میں ہیں۔ اگر چند ہفتوں تک آبنائے ہرمز نہ کھلی تو تیل کی قیمت 120 سے 130 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے اور امریکہ شدید اقتصادی افراتفری کا شکار ہو سکتا ہے۔ نیازی نے کہا کہ دبئی سمیت خلیجی ممالک کے بڑے ایئرپورٹس اور ہوٹل ویران ہو چکے ہیں جبکہ کھربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری ڈوبنے کا خطرہ لاحق ہے۔ ان کے مطابق ایران میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے سافٹ ٹارگٹس، تجارتی مراکز اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا کر خطے میں اقتصادی بحران پیدا کر چکا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای سرطان میں مبتلا تھے اور طبی اعتبار سے چند ماہ یا چند برس کے مہمان تھے،  وہ کیمو تھراپی والا علاج بھی نہیں کروا رہے تھے۔ نیازی کے مطابق بستر علالت پر طویل اذیت کے بجائے انہیں شہادت نصیب ہوئی جو ان کے نزدیک ایک بڑا اعزاز ہے۔ دوسری طرف جنہوں نے یہ اقدام کیا ان کے لہجے میں طاقت کا غرور اور تکبر نمایاں تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب تکبر غالب آتا ہے تو دانائی رخصت ہو جاتی ہے۔ جب صدر ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر کو اغوا کیا تو عالمی سطح پر شدید مذمت ہوئی مگر اس حرکت نے ان کی خود اعتمادی میں غیر معمولی اضافہ کر دیا اور وہ ایران کو بھی وینزویلا سمجھ بیٹھے۔

ایران سے پنگا، امریکہ و اسرائیل کو کتنے ارب ڈالر میں پڑا؟

حفیظ اللہ نیازی نے تاریخی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ غلطی کسی حد تک ایڈولف ہٹلر کی غلطی سے مشابہ ہے جب اس نے فرانس پر قبضے کے بعد روس پر حملہ کر کے جوزف سٹالن کو ہٹانے اور حکومت تبدیل کرنے کی کوشش کی تھی، مگر یہی فیصلہ اس کی تباہی کا سبب بنا۔ صدر ٹرمپ کا منصوبہ بھی ایرانی قیادت کو ختم کر کے حکومت تبدیل کرنا اور ایران کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلنا تھا، تاہم موجودہ صورتحال اس کے برعکس ہے۔ ان کے مطابق ایرانی قوم متحد ہو چکی ہے جبکہ ٹرمپ کی مقبولیت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس وقت تقریباً 78 فیصد امریکی اس جنگ کے خلاف ہیں جبکہ ایران میں عوام کی بڑی اکثریت جنگ کے حق میں کھڑی ہے۔ ان کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنی حکمت عملی سے ٹرمپ کو ایک مشکل صورتحال میں لا کھڑا کیا ہے۔

 

اس وقت منظر نامہ یہ ہے کہ اسرائیل کے ساتھ امریکہ اور دنیا کے کئی ممالک کھڑے ہیں جبکہ ایران بظاہر اکیلا ہے، تاہم اسکے پاس کھونے کو زیادہ کچھ نہیں، جبکہ امریکہ اور اسرائیل کے پاس کھونے کے لیے بہت کچھ موجود ہے۔

Back to top button